سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پیر کو الزام لگایا کہ اتر پردیش میں برسراقتدار بی جے پی حکومت نے ایس پی کے دور حکومت میں بنائے گئے ترقیاتی منصوبوں اور مفاد عامہ کی اسکیموں کو نظر انداز کر کے انہیں خستہ حال ہونے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔
اکھلیش یادو نے آم کی منڈی کا ذکر کرتے ہوئے یوگی سرکار پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کاالزام لگایا۔ تصویر:پی ٹی آئی
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے پیر کو الزام لگایا کہ اتر پردیش میں برسراقتدار بی جے پی حکومت نے ایس پی کے دور حکومت میں بنائے گئے ترقیاتی منصوبوں اور مفاد عامہ کی اسکیموں کو نظر انداز کر کے انہیں خستہ حال ہونے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔لکھنؤ میں پارٹی دفتر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ریاست کی ترقی کیلئے جو بنیاد تیار کی تھی، موجودہ حکومت اسے آگے بڑھانے کے بجائے برباد کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ سماجوادی حکومت نے لکھنؤآگرہ ایکسپریس وے تعمیر کر کے ریاستی راجدھانی کو ملک کی راجدھانی سے بہتر رابطہ فراہم کیا تھا۔ آم پیدا کرنے والے کسانوں کے فائدے کیلئے خصوصی آم منڈی بنائی گئی تھی، لیکن بی جے پی حکومت کی غفلت کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہو گئی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنڈیلا میں پیپسی کا ایک بڑا پلانٹ قائم کروایا گیا، کینسر کے مریضوں کیلئے سستا اور بہتر اسپتال بنایا گیا، لیکن حکومت نے ان منصوبوں کی ترقی اور دیکھ بھال پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اکانا اسٹیڈیم، جے پرکاش نارائن انٹرنیشنل سینٹر اور پولیس ہیڈ کوارٹر جیسے اہم پروجیکٹوں کی حالت بھی خراب کر دی گئی ہے۔
اکھلیش نے الزام لگایا کہ کسانوں کیلئے بنائے گئے ’کسان بازار‘ کو’کیفے بازار‘ میں بدل دیا گیا اور کسانوں کے ٹھہرنے کی جگہ کو تھری اسٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا۔ ایودھیا میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا نوٹس ملک اور دنیا کے رام بھکتوں، سادھو سنتوں، ایودھیا کے لوگوں، سپریم کورٹ اور لوک سبھا کے اسپیکر کو لینا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کسی بھی قسم کا بیانیہ گھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جب تک دہلی والے کچھ سوچ پاتے، لکھنؤ والوں نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہ دہلی اور لکھنؤ کی لڑائی ہے۔‘‘اکھلیش یادو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے خلاف اگر جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا تو پارٹی کے کارکنان متعلقہ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے اور حقیقی مسائل سے دھیان بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے بی جے پی حکومت پر ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کرنے، مفاد عامہ کی اسکیموں کو کمزور کرنے اور سیاسی دشمنی کی وجہ سے ریاست کے وسائل کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ انہوںنے کہا کہ سرکار کچھ بھی کرلے، عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔