Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہر یونیورسٹی کے معاملے پرسیاسی و سماجی حلقوں میں یوگی سرکار کی شدید مذمت

Updated: July 18, 2026, 8:13 AM IST | Lucknow

چندر شیکھر آزاد ، سنجے سنگھ اور دیگر لیڈروں نے تنقید کی، مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی مذمتی بیان جاری کیا ، الٰہ آباد کے متعدد وکلاء نے گورنر کو میمورنڈم ارسال کیا

Maulana Muhammad Ali Jauhar University, Rampur
رام پور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی

رام پور کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی ۴۰؍ میں سے ۳۸؍ عمارتوں کو منہدم کرنے کے نوٹس پر گزشتہ روز سے جو ہنگامہ برپا ہے اس میں یوگی حکومت کو شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں میںجہاں یوگی سرکار کو نشانہ بنایا جارہاہے وہیں وکلاء کی برادری نے بھی اس قدم کی شدید مذمت کرتے ہوئے گورنر کو میمورنڈم ارسال کیا ہے۔ اس سے قبل عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ ،آزاد سماج پارٹی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد عرف راون، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور الٰہ آباد کے وکلاء نے یونیورسٹی کو بچانے کیلئے میدان میں آنے کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔
 عام آدمی پارٹی کے اتر پردیش کے انچارج اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے لکھنؤ میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مودی اور یوگی حکومت ملک کی آنے والی نسلوں کو تعلیم سے محروم کرنا چاہتی ہیں۔ ایک طرف بنیادی تعلیم کو ختم کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف سیاسی انتقام کی وجہ سے پہلے سے بنائی گئیں یونیورسٹیاں تباہ کی جارہی ہیں۔ انہوںنےکہاکہ جس ملک میں تعلیم کو فروغ دینا چاہئےتھاوہاں سیاسی انتقام کی وجہ سے یونیورسٹی کو گرانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ صرف ایک عمارت کو گرانے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ان ہزاروں طلباء کے مستقبل پر حملہ ہے جو وہاں پڑھ رہے ہیں یا پڑھنے کیلئے جانے والے ہیں۔
 اس سے قبل پریاگ راج میں وکلاءکے وفد نے سٹی مجسٹریٹ ستیم مشرا سے ملاقات کی اور گورنر کیلئےمیمورنڈم سونپاجس میں یونیورسٹی پر انہدامی کارروائی کے فیصلہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اس تعلق سے  ایڈوکیٹ حنظلہ فاروقی  نے کہا کہ گھر بنانے، اسکول یا یونیورسٹی بنانے میں برسوں لگتے ہیں لیکن اسے گرانے میں صرف چند لمحے لگتے ہیں اور یوگی حکومت یہی حرکت کررہی ہے۔ یہ ہزاروں طلبہ کے خوابوں، لاکھوں والدین کی امیدوں، اساتذہ کی محنت اور معاشرے کامستقبل ہے۔
     دریں اثناءآل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نےجوہر یونیورسٹی کی ۳۸؍عمارتوں کے انہدام کے نوٹس کو جانبدارانہ، انتقامی اور غیر منصفانہ کارروائی قرار دیا۔ بورڈ نے حکومت اتر پردیش سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارروائی کو فوری طور پر روکا جائے ۔بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک تعلیمی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے خلاف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK