Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مسلم پرسنل لاء کے تحت بلوغت کی عمر میں شادی پوکسوایکٹ کے خلاف ہے ‘‘

Updated: July 10, 2026, 10:46 AM IST | Agency | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران واضح کیاکہ کوئی بھی پرسنل لاء بچپن کی شادی کی روک تھام اور پوکسوایکٹ کو بےاثر نہیںکرسکتا۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
الہ آباد (ایجنسی):الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم پرسنل لاء کے تحت مقرر بلوغت کی عمر میںشادی کو پوکسو ایکٹ کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئےکہا ہےکہ کم عمری کی شادی پر پابندی کے قانون کا اطلاق تمام مذاہب پرہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شرعی قانون کے تحت کم عمری میں مسلم لڑکیوں سے شادی جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ(پوکسو) کے قانون کی خلاف ورزی  ہوگی۔عدالت نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء سمیت کوئی بھی پرسنل لاء بچپن کی شادی کی روک تھام کے قانون یا پوکسو ایکٹ کی خلاف ورزی نہیںکرسکتا۔عدالت نے کہا کہ بچوں کی شادی کی ممانعت سے متعلق قانون ۲۰۰۶ء سے نافذ ہےجس میں۱۸؍ سال سے کم عمر بچوںاوربچیوں کی شادی کو ممنوع قراردیاگیاہے ۔ جسٹس جے جے منیر اور اچل سچدیو کی بنچ نے کہا کہ شرعی قانون جو  سن بلوغت کو لڑکی کی شادی کیلئے صحیح عمر مانتا ہے، یہ بچوں کی شادی کی ممانعت کے قانون اور پوکسو کے خلاف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شادی کی عمر ملک کے ہر شہری کیلئے یکساں ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔
 
 
معاملہ کیا ہے ؟
یہ معاملہ کم عمری کی شادی سے متعلق ہے۔ بلند شہرکا واقعہ ہے جب فروری میں پولیس کی ایک ٹیم ایک۱۶؍ سالہ مسلم لڑکی کی شادی روکنے گئی تھی۔ کچھ لوگوں نے جب اس کی مخالفت کی تو پولیس نے بعد میں۱۹؍ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ ان۱۹؍ افراد نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔اس معاملے میں راحت طلب کرتے ہوئے، درخواست گزاروں نے دلیل دی تھی کہ مسلم پرسنل لاء کے تحت لڑکی بلوغت کو پہنچنے کے بعد، عام طور پر۱۵؍ سال کی عمر میں شادی کیلئے اہل ہو جاتی ہے۔ انہوں نےاستدلال کیا تھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ ۲۰۰۶ء کا پرسنل لاء پر کوئی اثر نہیں ہے۔ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ کوئی بھی پرسنل لاء بچپن کی شادی  پرپابندی  اور پوکسو ایکٹ کے قانونی اثر کو ختم نہیں کر سکتا۔ بنچ نے کہا کہ  ۱۸؍سال سے کم عمر کی شادی کی اجازت دینا پوکسوایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی، کیونکہ شادی اور جنسی تعلقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK