یہاں بھائندر مشرق کےاندرلوک علاقے میں واقع میونسپل کارپوریشن کی ۵؍منزلہ عمارت کے۲؍ منزلوں کو ایک نجی تعلیمی ادارے کو کرائےپر دے دیا گیا ہے جس میں سی بی ایس ای اسکول شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 1:41 PM IST | Owais Siddiqui | Mira Bhayandar
یہاں بھائندر مشرق کےاندرلوک علاقے میں واقع میونسپل کارپوریشن کی ۵؍منزلہ عمارت کے۲؍ منزلوں کو ایک نجی تعلیمی ادارے کو کرائےپر دے دیا گیا ہے جس میں سی بی ایس ای اسکول شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔
یہاں بھائندر مشرق کےاندرلوک علاقے میں واقع میونسپل کارپوریشن کی ۵؍منزلہ عمارت کے۲؍ منزلوں کو ایک نجی تعلیمی ادارے کو کرائےپر دے دیا گیا ہے جس میں سی بی ایس ای اسکول شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔ یہ معاملہ میونسپل کارپوریشن میں زیر بحث بھی آیا جس کے بعد اس پر سیاست تیز ہوگئی ہے۔جہاں ایک طرف مقامی اپوزیشن لیڈروں نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیاہے، وہیں دوسری طرف برسر اقتدار بی جے پی کی ایک خاتون کارپوریٹر نے بھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ اس ضمن میں میونسپل کارپوریشن کی تعلیمی کمیٹی کی صدر اور بی جے پی سے وارڈ نمبر ۱۲؍ کی کارپوریٹر اسنیھا پانڈے نے انقلاب کو بتایا کہ عمارت کو بنے ہوئے تقریبا ۴؍ سال ہوگئے ہیں اب جبکہ رواں تعلیمی سال بھی آدھے سے زیادہ گزر چکا ہے اور اسی دوران ایک نجی تعلیمی ادارہاین ایل دالمیہ اسکول کی جانب سے ہم سے درخواست کی گئی کہ انہیں اسکول کی عمارت کا کچھ حصہ کرائے پر دے دیا جائے اس لئے میونسپل انتظامیہ کی جانب سے انہیں ایک سال کی مدت کیلئے عمارت کی دو منزلیں کرائے پر دے دی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ سال ۲۰۲۷ء کےمئی تک انہیں عمارت کرائے پردی گئی ہے اور جون۲۰۲۷ءسے سی بی ایس ای اسکول شروع کرنے سے متعلق پیش قدمی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: شہر اورمضافات کے عازمین کوفٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے وہاٹس ایپ گروپ کے ذریعے معلومات
اس سلسلےمیںوارڈ نمبر۱۸؍ سے بی جے پی کارپوریٹر نیلا سوانس نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں انہوں نے اپنی پارٹی سے الگ رُ خ اختیار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹؍ کے مطابق ہر طالب علم کو مفت تعلیم ملنی چاہئےلیکن ایک سرکاری عمارت کو اس طرح سے ایک نجی ادارے کو کرائے پر دینا شرمناک ہے۔
کانگریس کارپوریٹر ایڈوکیٹ ثناء دیشمکھ نے کہاکہ اتنا عرصہ گزر چکا ہےلیکن ایم بی ایم سی اس عمارت کو فعال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ ہمارے شہر کے پسماندہ بچوں کیلئے معیاری سی بی ایس ای تعلیم حاصل کرنے کی واحد امید تھی۔