Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنت کبیر نگر میں مدرسے پر بلڈوزرکارروائی پر ہائی کورٹ کی روک

Updated: April 28, 2026, 11:47 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

نصف مدرسہ منہدم ہونےکےبعد مشینیں ہٹائی گئیں لیکن عمارت تباہ ، انتظامیہ کی کارروائی پر سوالات اور آئندہ کارروائی عدالتی احکامات کے تحت ہی کرنے کی ہدایت

The demolition of the madrasa was stopped, but by then the building had been completely destroyed.
مدرسے کی انہدامی کارروائی تو رو ک دی گئی لیکن تب تک عمارت پوری طرح تباہ ہوچکی تھی

اترپردیش کے تاریخی علاقے سنت کبیر نگر ضلع میں لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کلیتہ البنات الرضویہ (مدرسہ نسواں)کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائی پر ہائی کورٹ نے بریک لگا دیا ہے، جس کے بعد انہدامی عمل فوری طور پر روک دیا گیا اور مشینیں موقع سے ہٹا لی گئیں۔ یہ اور بات ہے کہ کارروائی رکنے سے قبل ہی عمارت تباہ ہوچکی تھی۔ عدالت نے  سرکاری انتظامیہ کی کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئے مدرسے کے ذمہ داران کو عبوری راحت فراہم کی ہے، جبکہ آئندہ کی کارروائی  عدالتی احکامات کے تحت ہی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
 ضلع سنت کبیر نگر کے خلیل آباد علاقے کے موتی نگر محلے میں واقع مولانا شمس الہدیٰ کے مدرسے کو منہدم کرنے کی کارروائی اتوار کی صبح شروع کی گئی تھی جو اَب ہائی کورٹ کے حکم کے بعد روک دی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آلوک کمار کے مطابق عدالت کے احکامات موصول ہوتے ہی جاری انہدامی مہم کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا اور وہاں موجود تمام مشینوں کو، بشمول بلڈوزر اور پوکلین، موقع سے ہٹا لیا گیا۔
  اس کارروائی میں۶؍ بلڈوزر اور۲؍ پوکلین مشینیں لگائی گئی تھیں۔ اس مہم میں مدرسے کے کئی حصوں کو نقصان پہنچایا گیا ، جس دوران تقریباً نصف عمارت منہدم کی جا چکی ہے۔ اس پورے آپریشن کے دوران سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پورے علاقے کو چھاؤنی میںتبدیل کردیا گیا تھا۔ اس دوران۳۰؍ خواتین اہلکار سمیت تقریباً  ۱۰۰؍ پولیس اہلکار موقع پر تعینات رہے، جبکہ پی اے سی کی دو کمپنیاں بھی لگائی گئی تھیں تاکہ کوئی احتجاج اور مظاہرہ کرنے کی جرأت  نہ کرسکے۔
 مدرسہ کے ذمہ داران نے اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مدرسہ کےبانی مولانا شمس الہدیٰ کے بیٹےاور مدرسہ کے نگراں توصیف رضا نے مختلف سطحوں پر اپیلیں کیں، جنہیں پہلے ضلع مجسٹریٹ اور بعد میں کمشنر عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ ۲۵؍ اپریل کو کمشنر کی جانب سے اپیل خارج ہونے کے بعد انتظامیہ نے انہدامی کارروائی تیز کر دی تھی، لیکن ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے ذمہ داران کو فوری راحت فراہم کی۔ عدالت کے اس فیصلے سے ان تمام افراد نے راحت کا سانس لیا ہے جو اس طرح کی کارروائیوں کی زد میں آتے  رہے ہیں اور حکومت کی انتقامی سیاست کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ 
 ضلع انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ مدرسہ آٹھ سال قبل سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کا رقبہ تقریباً ۶۴۰؍مربع میٹر ہے اور اس میں ۲۵؍ کمرے موجود ہیں۔ اس کی تعمیر پر تقریباً  ۵؍ کروڑ روپے کی لاگت آئی تھی۔ ضلع انتظامیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس میں غیر ملکی فنڈنگ کا استعمال کیا گیا ہے۔ مدرسہ۲۰۲۴ء سے بند بتایا جا رہا ہے، جبکہ اس سے قبل یہاں تقریباً  ۴۰۰؍ طالبات زیر تعلیم تھیں۔
 تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مولانا شمس الہدی برطانیہ کی شہریت حاصل کر چکے ہیں اور فی الحال بیرون ملک مقیم ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ خلیل آباد میں رہتے ہیں۔ اس معاملے میں پہلے بھی کئی سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔فی الحال ہائی کورٹ کے حکم کے بعد انہدامی کارروائی مکمل طور پر روک دی گئی ہے اور اب آئندہ کی پیش رفت عدالت کے فیصلے پر منحصر ہوگی۔
  اس فیصلے کے بعد علاقے میں بحث و مباحثہ تیز ہو گیا ہے ، مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر ردعمل سامنے آ رہا ہے اور انتظامیہ کی کارروائی کو کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے، خاص طور پر یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اتنی عجلت میں قدم کیوں اٹھایا گیا اور متاثرہ فریق کو مناسب نوٹس اور عدالتی چارہ جوئی کا موقع فراہم کئے بغیراتنی جلدبازی کیوں دکھائی گئی؟غورطلب ہے کہ عدالت کے عبوری حکم کے بعد اب یہ معاملہ مکمل طور پر قانونی جانچ کے دائرے میں آ چکا ہے جس سے نہ صرف اس کیس پر بلکہ اس طرح کی دیگر کارروائیوں کے طریقہ کار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK