Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی پولیس کی وفاداری آئین کے بجائے اقتدار کے ساتھ ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

Updated: June 08, 2026, 6:04 PM IST | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں پولیس اور انتظامی نظام کے کام کرنے کے طریقۂ کار پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں کئی افسران کی وفاداری آئین کے بجائے حکمراں سیاسی نظام کے ساتھ وابستہ دکھائی دیتی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ تبادلے، تقرریاں اور ترقیاں اکثر میرٹ کے بجائے سیاسی سرپرستی کی بنیاد پر ہوتی ہیں، جس سے قانون کی حکمرانی متاثر ہوتی ہے۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں پولیس اور انتظامی نظام کے کردار پر سخت تبصرے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے کئی افسران آئین کے بجائے حکمراں سیاسی نظام کے ساتھ زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس سے قانون کی حکمرانی اور آئینی اصول متاثر ہوتے ہیں۔ جسٹس دنود دیواکر نے اپنے ایک تفصیلی فیصلے میں کہا کہ اتر پردیش میں ’’سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی جاگیردارانہ ذہنیت‘‘ نے طویل عرصے سے آئینی طرزِ حکمرانی کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی اختیار اور سیاسی اثر و رسوخ کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ’’ریاست کی انتظامی مشینری یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے دوران گہرے سیاسی اثر و رسوخ کا شکار رہی ہے۔‘‘

عدالت نے کہا کہ افسران کے تبادلے، تقرریاں اور ترقیوں کا نظام اکثر میرٹ اور پیشہ ورانہ اہلیت کے بجائے سیاسی سرپرستی کے تحت چلتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’وفادار سمجھے جانے والے افسران کو اہم شہری کمشنریٹس اور منافع بخش اضلاع میں تعینات کیا جاتا ہے، جبکہ آزادانہ طرزِ عمل اختیار کرنے والوں کو غیر اہم عہدوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔‘‘ جسٹس دیواکر نے مزید کہا کہ ’’افسران کی عمودی وفاداری آئین کی طرف نہیں بلکہ حکمراں نظام کی طرف ہوتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق فیلڈ افسران تبادلوں اور پوسٹنگ کے نظام سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور اسی لیے وہ اکثر اپنے رویے کو سیاسی قیادت کی خواہشات کے مطابق ڈھالتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’ایس ایف آئی‘ اور ’ایس آئی او‘کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کی مخالفت

عدالت نے پولیس کے طرزِ عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض معاملات میں گرفتاریاں مناسب قانونی عمل کے بغیر کی جاتی ہیں، جبکہ ایف آئی آر کے اندراج یا عدم اندراج کے فیصلے بھی بعض اوقات غیر شفاف بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ’’افسران کی ایک بڑی تعداد قانون کی حکمرانی کو آئینی ذمہ داری کے بجائے ایک انتظامی بوجھ سمجھتی ہے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ فوجداری قوانین اور عدالتی احکامات پر بعض اوقات صرف رسمی طور پر عمل کیا جاتا ہے جبکہ ان کی اصل روح کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ تبصرے راجندر تیاگی کیس کی سماعت کے دوران سامنے آئے، جس میں اتر پردیش کے گینگسٹرز اینڈ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ ۱۹۸۶ء کے تحت کارروائی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریاست میں پولیس اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر سنجیدہ تشویش ظاہر کی۔ جسٹس دیواکر نے ریاستی محکمۂ داخلہ کے کردار پر بھی تنقید کی اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ افسران کی اہلیت، کارکردگی اور عملی مؤثریت کا آزادانہ جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کچھ افسران جنہوں نے ہوم سیکریٹری کے عہدے پر خدمات انجام دیں، انہوں نے عملی طور پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔‘‘ عدالت کے مطابق بعض معاملات میں پوسٹنگ، محکمانہ کارروائیوں اور عدالتی مقدمات سے متعلق فیصلے غیر جانبدارانہ اصولوں کے بجائے ذاتی یا بیرونی اثرات کے تحت ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’امید ہے بی جے پی لیڈر سلنڈر لیکر سڑک پر اترینگے‘‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں مشہور وکاس دوبے کیس کا بھی حوالہ دیا، جس میں کانپور کے بیکرو گاؤں میں پولیس کارروائی کے دوران ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اس آپریشن کی نگرانی کے ذمہ دار افسر کو صرف معمولی نوعیت کی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جو واقعے کی سنگینی کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے ’’غیر متناسب طور پر نرم نتائج‘‘ ادارہ جاتی احتساب کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہی ’’ادارہ جاتی استثنیٰ‘‘ طاقتور افراد کو جوابدہی سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ایک ایسے انتظامی نظام کو برقرار رکھتا ہے جو سیاسی سرپرستی اور جاگیردارانہ طرزِ فکر سے متاثر ہے۔ عدالت نے زور دیا کہ آئینی طرزِ حکمرانی کو کسی فرد، جماعت یا حکمراں نظام کی سہولت کا تابع نہیں بنایا جا سکتا اور تمام ریاستی اداروں کو صرف قانون اور آئین کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK