Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہ آباد ہائی کورٹ یوپی حکومت پر برہم، متاثرہ کو ۲؍ لاکھ معاوضہ دینے کا حکم

Updated: June 11, 2026, 7:02 PM IST | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے امن کی خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں شہری کو آٹھ دن تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے معاوضے کی رقم متعلقہ پولیس افسر سے وصول کرنے اور اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔ بنچ نے کہا کہ پریاگ راج کمشنریٹ میں اختیارات کا بے جا استعمال تشویش ناک ہے اور اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو پولیس کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے پریاگ راج میں ایک شہری کو مبینہ طور پر آٹھ دن تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو چھ ہفتوں کے اندر دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس سدھارتھ اور جسٹس ونائی کمار دویدی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ۸؍ جون کو سنائے گئے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار منصور احمد کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے نتیجے میں ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، جس کے ازالے کے لیے معاوضہ دیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ متاثرہ شخص کو ۲۵؍ ہزار روپے یومیہ کے حساب سے مجموعی طور پر دو لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے ہدایت دی کہ اس رقم کی وصولی اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) بارہ، پریاگ راج سے کی جائے۔ عدالت نے متعلقہ افسر کے خلاف تین ماہ کے اندر محکمانہ اور تادیبی تحقیقات مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔

منصور احمد۔ تصویر: آئی این این

ہائی کورٹ نے پولیس کمشنر پریاگ راج کو ۱۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک تعمیل رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہوا تو پولیس کمشنر کو اگلی سماعت پر ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا، ’’یہ کمشنریٹ، پریاگ راج میں ایک چونکا دینے والی صورتحال ہے۔ پولیس کمشنر کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں، جن کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘ بنچ نے غازی آباد کمشنریٹ سے متعلق ایک سابق مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اختیارات کے غلط استعمال کے واقعات سامنے آئے تھے، جس پر عدالت کو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرنی پڑی تھی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، پریاگ راج کے رہائشی منصور احمد کی جانب سے دائر ہیبیس کارپس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں ۱۹؍ مارچ کی رات تقریباً ۱۲؍ بجکر ۵۰؍ منٹ پر ان کے گھر سے پولیس اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ کارروائی کی قیادت اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) امیش سنگھ کر رہے تھے، جبکہ کانسٹیبل انکت سنگھ اور تریبھون پانڈے بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ منصور احمد کی اہلیہ کے مطابق جب انہوں نے گرفتاری کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہیں دھکا دے کر ایک طرف کر دیا گیا اور کوئی قانونی وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: خلیج عمان میں تجارتی جہاز پر امریکی حملے میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک؛ امریکی سفارت کار طلب کرلیا گیا

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اسی روز منصور احمد کے بیٹے شاہ رخ خان نے وکیل کے ذریعے سی ایم پورٹل پر پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت درج کرائی۔ بعد ازاں اہل خانہ جب کھری پولیس اسٹیشن پہنچے تو انہوں نے منصور احمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا۔ خاندان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اے سی پی اور پولیس کمشنر سمیت اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا، لیکن ان کی شکایات پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ بالآخر ۲۳؍ مارچ کو ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس درخواست دائر کی گئی۔ سماعت کے دوران پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ امن کی خلاف ورزی کے خدشے کے تحت کارروائی کی گئی تھی اور اگر کوئی شخص ذاتی مچلکہ بھرنے سے انکار کرے تو اسے عدالتی تحویل میں بھیجا جا سکتا ہے۔

تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ایسی کوئی دستاویز یا ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ منصور احمد نے ذاتی مچلکہ یا بانڈ پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔ بنچ نے اس پہلو کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی آزادی اور قانونی حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کسی بھی شخص کو قانون کے مقررہ طریقہ کار کے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتر پردیش میں پولیس اختیارات کے استعمال اور شہری آزادیوں کے تحفظ سے متعلق معاملات پر عدالتی نگرانی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ہائی کورٹ کا یہ حکم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کے استعمال میں احتیاط اور جوابدہی کا واضح پیغام دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK