ادارے نے بتایا کہ یہ مقدمہ اس بات کی تصدیق کے بعد دائر کیا گیاہے کہ غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب صہیونی فوجی یوناتان اکریف آسٹریا میں موجود ہے۔
اسرائیلی فوجی یوناتان اکریف۔ تصویر: آئی این این
فلسطینی تنظیم ’ ہند رجب ‘نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے فوجی یوناتان اکریف کے خلاف آسٹریا میں فوجداری مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اکریف پر غزہ کے خلاف قابض اسرائیلی فوجی یلغار کے دوران جنگی جرائم انسانیت کے خلاف جرائم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی میں معاونت کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ادارے نے تصدیق کی ہے کہ یہ مقدمہ اس بات کی تصدیق کے بعد دائر کیا گیا کہ یوناتان اکریف آسٹریا کی سرزمین پر موجود ہے ۔ اس طرح بین الاقوامی قانون کے تحت آسٹریا پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی عدالتی حدود میں موجود ایسے افراد کے خلاف تحقیقات کرے جن پر انتہائی سنگین جرائم کے ارتکاب کے شبہ ہو۔
یہ فوجداری دعویٰ ادارہ ہند رجب کی تحقیقات پر مبنی ہے جن میں اکریف کی بٹالین۸۷۱۷؍’الون‘ میں خدمات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ یہ وہ یونٹ ہے جس کا نام غزہ میں شہری انفراسٹرکچر کی منظم تباہی سے بارہا جوڑا جا چکا ہے ۔ ادارہ ہند رجب کے ڈائریکٹر جنرل دیاب ابو جہجا نے کہا کہ پورے یورپ میں ہم قانونی ذمہ داریوں اور سیاسی ہچکچاہٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج دیکھ رہے ہیں۔ آسٹریا میں یہ مقدمہ دائر کر کے ہم اس خلیج کو کم کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا عزم واضح ہے۔۲۰۲۶ء کو غزہ میں نسل کشی کے متاثرین کیلئے انصاف کا سال بننا چاہیے نہ کہ ایک اور سال جس میں مجرم سزا سے بچ نکلیں ۔واضح رہےکہ ادارہ ہند رجب کا قیام فروری ۲۰۲۴ء میں اس دلخراش واقعے کے پس منظر میں عمل میں آیا جو ۶؍ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ۲۹؍ جنوری ۲۰۲۴ء کو غزہ کے علاقے تل الہوا میں ہند اپنے چند رشتہ داروں کے ساتھ ایک گاڑی میں موجود تھی کہ قابض اسرائیلی ٹینکوں نے گاڑی پر حملہ کر دیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس سفاکیت کے نتیجے میں ہند کے ساتھ موجود اس کے ۶؍ رشتہ دار شہید ہو گئے جبکہ صرف ۶؍ سالہ ہند زندہ بچی۔اس دوران ہند کی آواز ایک فون کال کے ذریعے دنیا تک پہنچی جس میں وہ اپنی والدہ سے التجا کر رہی تھی کہ وہ آئے اور اسے گاڑی سے نکال لے۔ اس نے بتایا کہ گاڑی میں موجود سب لوگ مارے جا چکے ہیں اور وہ اکیلی زندہ ہے۔ خوف سے لرزتی بچی ہند نے اپنی والدہ سے منت کی کہ کسی کے پہنچنے اور اسے بچانے تک فون بند نہ کیا جائے۔دوسری جانب والدہ نے اپنی بیٹی کو تسلی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ سول ڈیفنس اسے بچانے آ رہی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ فون بند نہیں کریں گی اور ہند کے ساتھ لائن پر رہیں گی اور اس سے اللہ سے دعا کرنے کو کہا۔ یہ فون کال تقریباً ۷۰؍ منٹ تک جاری رہا جس کے بعد ہند کی آواز خاموش ہو گئی۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے ہند کو شہید کر دیا اور اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔