Updated: March 04, 2026, 9:07 PM IST
| Luckhnow
ہولی کے تہوار کے دوران اتر پردیش کی تاریخی دیوا شریف درگاہ سے جڑا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہؒ کی درگاہ پر ایک ساتھ ہولی مناتے ہیں۔ ویڈیو نے اتحاد، محبت اور مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کرتے ہوئے آن لائن بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔
اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں واقع دیوا شریف درگاہ صوفی بزرگ حاجی وارث علی شاہؒ کی درگاہ ہے۔ یہ مقام لکھنؤ سے تقریباً ۴۰؍ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور طویل عرصے سے مذہبی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلمان مل کر ہولی کا تہوار مناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں راوی کہتا ہے کہ ’’جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہولی صرف ہندوؤں کا تہوار ہے، انہیں اتر پردیش کی دیوا شریف درگاہ کے بارے میں بتائیں۔‘‘ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ زائرین مزار کے صحن میں ایک دوسرے کو رنگ اور گلال لگا کر خوشی منا رہے ہیں۔ پس منظر میں درگاہ کی سفید عمارت اور سبز گنبد نظر آتے ہیں، جبکہ فضا میں خوشی اور جشن کا ماحول دکھائی دیتا ہے۔
پیلے رنگ کی خاص اہمیت
ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں پیلے رنگ کو خاص طور پر مقدس سمجھا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق یہ روایت خود حاجی وارث علی شاہ نے شروع کی تھی، جس کا مقصد مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا۔
درگاہ کی تاریخی اہمیت
رپورٹس کے مطابق اس مزار کی تعمیر ۱۹۱۷ء میں مکمل ہوئی تھی۔ درگاہ کی تعمیر میں مختلف برادریوں نے حصہ لیا، جسے اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔چاندی کا کلش مہاراجہ ادت نارائن سنگھ نے عطیہ کیا۔ سنگ مرمر کا فرش ٹھاکر پنچم سنگھ نے بچھوایا۔ یہ مثال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں نے مل کر اس مقام کی تعمیر میں کردار ادا کیا۔
منفرد فن تعمیر
درگاہ کی عمارت کا طرزِ تعمیر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی سفید عمارت، سبز گنبد، فارسی طرز کے مینار، ہندو اور ایرانی فن تعمیر کے امتزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ویڈیو میں راوی کا پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہب مختلف ہو سکتے ہیں لیکن انسانیت اور محبت مشترک اقدار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دھولیہ میں شرپسندوں کا تبلیغی جماعت کے ۳؍ اراکین پر حملہ ، شدید زخمی
سوشل میڈیا پر ردعمل
ویڈیو ۲؍ مارچ کو انسٹاگرام پر شیئر کیا گیا اور اب تک ۲ء۱؍ ملین سے زیادہ ویوز حاصل کر چکی ہے۔ متعدد صارفین نے اس روایت کو بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کی مثال قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’ایسی مثال مدھیہ پردیش کے مندسور میں بھی ہے۔‘‘ جبکہ ایک اور نے کہا کہ ’’یہی اصل ہندوستان ہے، جہاں بھائی چارہ ہے۔‘‘
اتحاد کی علامت
دیوا شریف درگاہ کی روایت اس بات کی مثال ہے کہ تہوار صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کے درمیان محبت اور اتحاد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔