اسرائیلی حکام نے مسجدِ اقصیٰ کے امام شیخ محمد علی عباسی کو رمضان سے قبل ایک ہفتےکیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا ہے۔ بیان میں اس پابندی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 4:05 PM IST | Jerusalem
اسرائیلی حکام نے مسجدِ اقصیٰ کے امام شیخ محمد علی عباسی کو رمضان سے قبل ایک ہفتےکیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا ہے۔ بیان میں اس پابندی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجدِ اقصیٰ کے امام کو رمضان المبارک کے آغاز سے چند روز قبل ایک ہفتے کیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا ہے۔ یروشلم گورنریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ شیخ محمد علی عباسی کو اسرائیلی فورسیز نے حراست میں لے لیا اور انہیں ایک ہفتے کیلئے مسجد کے احاطے میں داخل ہونے سے منع کر دیا گیا۔ بیان میں اس پابندی کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہ اقدام مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں نمازیوں کے داخلے پر پابندیاں اور حساس مذہبی مقام پر غیر قانونی آبادکاروں کی دراندازی میں شدت شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنیوا میں ایران سے سمجھداری کی امید: ڈونالڈوٹرمپ
رمضان المبارک، جو اسلامی کیلنڈر کا مقدس ترین مہینہ ہے، اسی ہفتے شروع ہونے والا ہے۔ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کیلئے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس مقام کو’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ کہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں دو یہودی ہیکل موجود تھے۔ اسرائیل نے۱۹۶۷ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا، جہاں مسجدِ اقصیٰ واقع ہے۔ ۱۹۸۰ء میں اس نے پورے شہر کو اپنے ساتھ ضم (الحاق) کر لیا، تاہم، اس اقدام کو بین الاقوامی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔