• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حوثیوں کا بحیرۂ احمر کے ساحل پر مکمل کنٹرول، سعودی تیل پائپ لائن بند

Updated: September 13, 2026, 10:54 AM IST | Sanaa

حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

Houthi military spokesman. Photo: INN
حوثی فوج کا ترجمان۔ تصویر: آئی این این

حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سنیچرکی صبح بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسیز کے خلاف تیز رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے باغی گروپ نے ساحل پر واقع آخری قصبوں پر بھی قبضہ کر لیا اور آبنائے باب المندب میں واقع جزیروں تک بھی پیش قدمی کی۔ یہ بات حکومتی ذرائع اور عینی شاہدین نے بتائی۔ اس پیش قدمی سے حوثیوں کا باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا ہےجو خلیج عدن کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔ یہ بحری راستہ آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہم رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں عالمی سطح پر اے آئی ویب ٹریفک ۷ء۱۲۵ بلین وزٹس تک پہنچ گیا؛ امریکہ اور ہندوستان سب سے آگے

دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی’ ارنا‘ کے مطابق یمن کی حوثی تحریک نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے آبنائے باب المندب پر نظر رکھنے والے اہم فوجی مرکز کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق ان کی بحری فورسیز نے بحیرۂ احمر میں واقع اہم جزیرہ زقر پر بھی مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے اور جزیرے کو مخالف فورسیز سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا بھر کی توانائی کا پانچویں حصہ یہیں سے گزرتا تھا۔ 
دریں اثناءسعودی عرب نے متعدد حملوں کے بعد تیل کی اہم اور بڑی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ سعودی نے کہا کہ اس نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو بند کر دیا ہے، جس پر ایک روز قبل حملہ کیا گیا تھا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق گزشتہ روز ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ پائپ لائن سعودی شہر بقیق سے خام تیل ینبع بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور روزانہ تقریباً ۵۰؍ لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK