Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں یہ کیسے ثابت کروں کہ ’سونو‘ دراصل شارق خان ہے؟‘‘

Updated: December 06, 2025, 4:29 PM IST | Inquilab News Network | Lucknow

ایس آئی آر کے بیجا تقاضوں سے عاجز ایک شہری کا سوال، یوپی کے مظفر پور میں جاری ایس آئی آرکے سبب پیدا ہونے والے قابل تشویش حالات کے جائزہ پر مشتمل تفصیلی رپورٹ:

Signs of curiosity and concern are evident on the faces of citizens with SIR.
ایس آئی آر سے شہریوںکے چہرے پر تجسس اورپریشانی کے آثار نمایاں ہیں

مظفر نگر سے ۴۰؍کلومیٹر دور واقع کٹھولی کی طرف میں گرانڈ ٹرنک روڈ پر بس میں سوار جارہا تھا۔ میری نظر کچھ لوگوں پر پڑی جو ہاتھوں میں ایک جیسے کاغذات تھامے جارہے تھے۔ مجھے احساس ہوگیاکہ یہ وہی ’متاثرہ افراد ‘ ہیں جن کی مجھے تلاش ہے۔ میں نے فوراًبس کنڈکٹر کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا:’’مجھے یہیںاترنا ہے۔‘‘ ڈرائیور پہلے تو حیران ہوا پھر اس نے بس روک دی۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ اندازہ درست نکلا۔ یہ اُن ووٹروں کا گروہ تھا جو بوتھ لیول افسران سے ملنے کیلئے جارہا تھا۔  وہ اپنے ہاتھوں میں ایس آئی آر اینومریشن فارمز لئے ہوئے تھے۔
 ان سبھی کی منزل قریب میں واقع نالہ تھا۔ جہاں چبوترے پربی ایل او بھی تھے۔ مگر سب مصروف اور پریشان نظر آ رہے تھے، کسی رپورٹر پر دھیان دینے کیلئے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ ایک نے اچٹتی نگاہ ڈال کر مشورہ دیا کہ ’’کسبان چلے جاؤ‘‘ میں ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہیں پر سکون انداز میں کھڑا رہا۔اسی شخص نے چند منٹوں کے بعدبتایا کہ کھالاپار ، کسبان میں تقریباً ۶۰۰؍ مسلمان رہائش پزیر ہیں، لیکن ان کے نام ووٹر لسٹ سے ۰۳۔۲۰۰۲ء سے نکال دئیے گئے ہیں۔ تب سے لے کر اب تک وہ اپنی ناموں کی واپسی کیلئے درخواست کرتے آرہے ہیں، مگر کوئی کامیابی نہیں ملی۔
 اب جبکہ یوپی میں۴؍نومبر سے ۴؍ دسمبر کے درمیان ایس آئی آر کا عمل جاری ہے۔ وہ انتہائی بے چین و پریشان ہیں کہ کسی طرح ووٹر رجسٹریشن ہو جائے۔ چونکہ ان کے نام۰۳۔۲۰۰۲ءکی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں تھے، اسلئے بی ایل اوکے پاس ان کے لیے پہلے سے پرنٹ شدہ انیومریشن فارم موجود نہیں ہیں۔ ایسے ہی ووٹروں میں موجود عارف نامی شخص نے امید ظاہر کی کہ’’ نئے ووٹروں کے اندراج کی خصوصی مہم تک تک شاید رکنا پڑے گا، اس کے بعد نام آجائے گا۔‘‘
 دہلی سے ڈیڑھ سو کلومیٹر کی دوری پر واقع مظفر نگر اور کھٹاؤلی کے مسلمان ایس آئی آر کے سبب بے حد پریشان ہیں۔ انہوںنے یہ سن رکھا ہے کہ وزیراعلیٰ یوگی نےسبھی ضلع کے انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ دراندازوں کے لئے ڈٹینشن سینٹر بنائے۔ 
 ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کیا جا رہا ہے،جس میں وزیرداخلہ امیت شاہ کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ مرکزی حکومت غیر قانونی مہاجرین کو ملک بدر کرنے کی سنجیدہ تیاری کر رہی ہے۔ اس ویڈیو کی صداقت جانے سمجھے بغیر لوگوں نے اسے اپنے فونز پر محفوظ کر لیا ہے، خوف کی کیفیت بدستور برقرار ہے۔
 پرویز اور انعام ، نامی دو مقامی باشندے میرے  قریب آئے اور عارف کے خدشات کو دہراتے ہوئے کہا کہ۲۰۱۴ء کے بعد سے وہ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ‘نشانی زد’ کرنے کی باتیں سن رہے ہیں۔ مگر اب ان احساسات نے خوف کا رنگ اختیار کر لیا ہے: گھر، زمین اور ملکیتی حقوق جانے کا ڈر، اور اس کے بعد ممکنہ حراستی مراکز یا ملک بدری کا خوف  خاص طور پر ان لوگوں کیلئے جن کے پاس ذاتی شناخت یا مالی وسائل نہیں ہیں۔ ان کے چہروں پر مایوسی بھری کیفیت واضح طور پر نظر آرہی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے بی ایل او پر  دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، لوگ مسلسل انہیں فون کررہے ہیں، اس بارے میں بی ایل او کا کہنا ہے کہ وہ ہر ایک کو انفرادی طور پر جواب دینے سے قاصر ہیں۔
 ایک بی ایل او نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آئی فارم تقسیم کرنے کیلئے بنڈل بے ترتیبی سے بھیجے ہیں،کچھ خاندانوں کو فارم موصول ہوئے، جبکہ باقیوں کو ابھی تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ان میں سے بیشتر کو جب یہ جواب ملتا ہے کہ آپ کا فارم نہیں آیا ہے تووہ بی ایل او کو ہی شک و شبہ کی نگاہ دیکھتے ہیں۔ وارڈ کاؤنسلر نوشاد اور سموجوادی پارٹی کے لیڈر شارق خان نے تصدیق کی کہ ایسے بہت سارے لوگ ہیں جنہیں فارم نہیں ملے ہیں، انہوں نے سوال قائم کیا کہ ’’اگر فارم نہیں آئے تو کیا ہوگا؟‘‘ شارق خان نے مزید کہا کہ ’’ کیسا تضاد ہے! امیر لوگ اپنی شہریت ترک کر کے باہر جا رہے ہیں، اور غریب لوگ اپنی شہریت ثابت کرنے کے یہاں دیش میں قطاروں میں لگ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ’’الیکشن کمیشن کو چاہئے تھا کہ وہ ایک کال سینٹر یا  ہیلپ ڈیسک قائم کرتا تاکہ لوگوں کی رہنمائی کی جاتی اور انکے مسائل حل کئے جاتے، ساتھ ہی انہیں رہنمائی فراہم کی جاتی۔ مگر ہوا یہ کہ یہ ذمہ داری سیاسی پارٹیوں  کے حوالے کر دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ بی ایل او کو بھی مناسب تربیت نہیں دی گئی، اکثر وہ فارم کے خانوں کی وضاحت اور رہنمائی کرپانے میں ناکام ہورہے ہیں۔شارق خان نے ایک اوراہم نکتہ اٹھایا: ’’میری مثال لے لیجئے،  ۲۰۰۳ء کی ووٹر لسٹ میں میرا اندراج ’سونو‘ کے نام سے ہوا تھا یہی وہ نام ہے جس سے میرا خاندان، ہمسایے اور دوست مجھے جانتے ہیں۔ مگر جو بھی بعد کے دستاویزبنے، ان میں میرا پورا نام ‘شارق خان’ لکھا گیا ہے۔ اب میں کیسے ثابت کروں کہ سونو ہی شارق خان ہے؟‘‘  بی ایل او کے پاس اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسی دن کچھ دیر بعد میں تنظیم نامی شخص سے ملا، اور انہیں شارق خان کا معاملہ بتاکر استفسار کیا کہ کیا اس طرح کی مشکل کا شکار اور بھی لوگ ہیں؟ تو انہوں نے کہاکہ صرف نام کا سوال نہیں ہے ، اب ای پی آئی سی (ایپک ) نمبر میں بھی الجھن ہے۔ بعض خاندانوں کو مختلف اوقات میں ایپک نمبر جاری کیے گئے ،جب نام، املا یا پتوں کی تصحیح ہوئی تھی، اور اب انہیں معلوم نہیں ہے کہ کون سا ایپک نمبر استعمال کریں۔
منوج کمار جو کھٹاؤلی کے ایک اسکول میں پرائمری ٹیچر ہیں ،۷؍ بی ایل اوز کے سپروائزر ہیں، ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس کام کے سالانہ صرف۱۸؍ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جبکہ ہر بی ایل او کو۱۲؍ہزار روپے (فی سال) دیے جاتے ہیں۔ یعنی ہمارا کام کاج کا دن صبح آٹھ بجے سے شروع ہوتا ہے اور رات دس بجے تک چلتا ہے۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ ’’یہ رقم ماہانہ ہے یا سالانہ؟‘‘انہوں  نے  کہاسالانہ۔ میں یقین نہیں کر پایا، اور نے دوبارہ پوچھا: کیا اس کا مطلب ہے کہ یہ افراد صرف ایک ہزارروپے ماہانہ کے عوض یہ اضافی کام کر رہے ہیں؟” منوج کمار  نے کندھے اچکادیئے شاید دوسرے مسائل ان کے ذہن پر سوار تھے۔ منوج کمار نے امید ظاہر کی کہ۴؍دسمبر تک کام مکمل ہو جائے گا ، جو ای سی آئی  کی آخری تاریخ تھی مگر تشویش تھی کیونکہ۲۲؍ نومبر تک تقسیم کئے گئے فارموں میں  سے ایک چوتھائی فارم  ہی واپس آئے تھے ۔ محمد نوشاد جو کھٹاؤلی کے لال محمدنامی علاقے کے رہنے والے ہیں، سپروائزر سے ملے اور کہا کہ مجھے اس بات کی تصدیق کریں کہ آپ کے ماتحت کام کرنے والے ۷؍بی ایل اوز میں سے کون ہمارے علاقے کا کام دیکھ رہا ہے۔انہوںنے بتایا کہ میرے خاندان میں۱۲؍ ووٹ دینے کے اہل افراد ہیں، مگر صرف پانچ  فارم ملے ، باقی کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔ منوج کمار نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس ای سی آئی  کی طرف سے صرف پانچ فارم آئے تھے، اور باقی کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں  ہے۔ منو ج کمار  نے یہ بھی بتایا کہ فارموں کی تقسیم کے بعدممکن ہے خصوصی مہم چلائی جائے، شاید فروری۲۰۲۶ء کے بعد تاکہ جو لوگ رہ جائیں، ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے۔ ایک اوربی ایل او گوپال شرما نامی پرائمری اسکول ٹیچر نےاعتراف کیا کہ بہت سے ووٹرز کو پہلے کی ووٹر لسٹوں میں اپنا نام تلاش کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ بعض معاملات میں، بوتھ بدل چکے تھے، جبکہ بعض خاندان کے افراد مختلف بوتھز میں درج تھے۔ زیادہ تر ووٹرز یہ بھی نہیں جانتے کہ فارم بھرتے وقت ’پارٹ نمبر‘‘ (ہر بوتھ کی فہرست میں ایک بوتھ کے اندر چار یا پانچ پارٹس ہوتے ہیں) کہاں لکھنا ہے اور یہ فارم کا لازمی خانہ ہے۔ اس سے فارم بھرنے کا عمل بہت پیچیدہ اور وقت طلب ہو جاتا ہے۔ گوپال شرما نے اعتراف کیا کہ یہ عمل بہت جلدی میں کیا جا رہا ہے  اور اس رفتار میں غلطیوں کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔میں نے پوچھا کہ کیا انہیںاس کا م کا پریشر ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’’مجھے روزانہ سو فارم جمع کرنے پڑتے ہیں، پھر انہیں آن لائن اپلوڈ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے پریشان لہجے میں بتایا کہ انہیں اسکول جانا ہوتا ہے صبح صبح حاضری لگانی ہوتی ہے، پھر کلاسیں لینا پڑتی ہیں، اور اس کے بعدایس آئی آر کیلئے نکلنا ہوتا ہے۔ نقاب پوش خواتین کا ایک گروپ غزالہ نامی بی ایل او سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ ان کے فارم جلد بھریں۔ غزالہ جن کی عمر ساٹھ برس ہے، کمزور بینائی اورکانپتے  ہاتھوں سے فارم  دیکھ رہی تھیں۔ (بشکریہ : نیشنل ہیرالڈ )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK