Inquilab Logo Happiest Places to Work

سیکڑوں اسرائیلیوں کا لبنان جنگ کے خلاف احتجاج، حکومت سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ

Updated: April 19, 2026, 6:12 PM IST | Jerusalem

سیکڑوں اسرائیلیوں نے اپنی حکومت کی لبنان کے خلاف جاری جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرین شمالی شہر حیفا میں جمع ہوئے اور لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

Scene of the Israeli government protest. Photo: INN
اسرائیلی حکومت کے احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این

عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق سنیچر کو سیکڑوں اسرائیلیوں نے اپنی حکومت کی لبنان کے خلاف جاری جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرین شمالی شہر حیفا میں جمع ہوئے اور لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اخبار کے مطابق، سیکڑوں افراد ہوریو جنکشن پر جمع ہوئے اور حکومت مخالف بینرز اٹھا کر جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح کے مظاہرے کارکور جنکشن پر بھی ہوئے جو حیفا کے جنوب مشرق میں وادی عارہ کے علاقے میں واقع ہے، جہاں بھی سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل کے اندر حکومت کی لبنان جنگ کو سنبھالنے کے طریقے اور اس کے نتائج پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ تاہم، اسرائیلی میڈیا میں گزشتہ ہفتے شائع ہونے والے ایک رائے عامہ کے سروے کے مطابق۷۷؍ فیصد اسرائیلی لبنان کے خلاف جارحیت جاری رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ۱۲؍ فیصد اس جنگ کے خاتمے کے حق میں ہیں۔ مزید ۱۱؍ فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: طاقت کے قانون پر قانون کی طاقت کا غلبہ ضروری: انتونیو غطریس

یہ مظاہرے اس وقت بھی ہوئے جب اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ ہونے والی۱۰؍ روزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں، جو مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی رات۱۲؍ بجے نافذ ہوئی تھی۔ ہفتے کے روز، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی نشاندہی کی اور جواب میں متعدد حملے کئے اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔ ۲؍ مارچ سے اب تک اسرائیل نے لبنان پر ایک بڑی کارروائی جاری رکھی ہے جس میں لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۲؍ ہزار ۲۹۴؍سے زائد افراد ہلاک، ۷؍ ہزار ۵۴۴؍ زخمی اور۱۰؍ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK