طوفان سے بنگال میں جگہ جگہ تباہی کا منظر، وزیر اعظم کا دورہ

Updated: May 23, 2020, 4:24 AM IST | Kolkata

اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے باوجودحالات معمول پر نہیں آئے ، بجلی اور فون سروس منقطع، حالات معمول پر آنے میں ایک ہفتہ لگنے کا امکان، مودی نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا ہوائی دورہ کیا ، ایک ہزار کروڑ روپے کی مدد کا اعلان ، ممتا ناراض ،کہا نقصان ایک لاکھ کروڑ کا ہوا اور مدد محض ایک ہزار کروڑ ۔

A scene of devastation from the storm. Photo: PTI
طوفان سے تباہی کا ایک منظر۔ تصویر : پی ٹی آئی

 بحیرہ بنگال میں اٹھنے والےامفان طوفان کو گزرے ہوئے ۴۸؍ گھنٹے ہو چکے ہیں لیکن ابھی بھی جگہ جگہ تباہی کی تصاویر بکھر ی ہوئی ہیں ۔ لاکھوں افراد نیٹ ورک سے باہر ہیں اور آپس میں با ت چیت نہیں ہوپارہی ہے۔ حکومتی انتظامیہ بھی سرکاری عہدیداروں سے رابطہ نہیں کرپارہی ہے۔ اس کی وجہ سے ابھی تک نقصان سے متعلق واضح معلومات نہیں مل رہی ہیں ۔امفان طوفان نے نہ صرف ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے بلکہ کئی علاقے جزیرے میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔شمالی ۲۴؍ پرگنہ اور جنوبی ۲۴؍ پرگنہ میں نیٹ ورک مکمل طور پر منقطع ہے۔کلکتہ میں بھی نیٹ ورک صحیح طریقےسے کام نہیں کررہا ہے۔ماہرین کے مطابق حالات کو معمول پر آنے میں ایک ہفتے لگ سکتا ہے۔ خوفناک سپر طوفان کے بعدبڑے پیمانے پر کلکتہ میں درخت، بجلی کے کھمبے، موبائل ٹاور گرگئے ہیں ۔چار ٹیلی کام سروس کمپنیوں کے ڈھائی ہزار سے زیادہ موبائل ٹیلی کام راتوں رات بند ہوگئے ہیں ۔بجلی کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے تمام خدمات بند کردی گئیں ۔ طوفان کے دوران کئی علاقوں میں بجلی کاٹ دی گئی تھی اور اب ۴۸؍ گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی کئی علاقوں میں بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے۔بجلی کے منقطع ہونے کی وجہ سے کئی پریشانیاں آرہی ہیں ۔ 
  اطلاعا ت کے مطابق گریٹر کلکتہ میں ۱۵۰۰؍ ٹاورس کام نہیں کررہے ہیں ۔کلکتہ میں کسی بھی آپریٹر کے پاس موبائل ٹاور میں بجلی کے بیک اپ کے طور پر جنریٹر نہیں ہے۔ بیشتر مقامات پر بیٹریاں ہنگامی اقدام کے طور پر رکھی جاتی ہیں ۔ ان میں سے بہت ساری بیٹریاں ایک گھنٹے تک ہی چل سکتی ہیں ۔ سروس فراہم کرنے والے یقینی طور پر کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں کہ صورتحال معمول پر کب آئے گی۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں طوفان سے ۴؍ اضلاع شدید متاثرہیں اور ۸۰؍ افراد ہلاک ہو ئے ۔ اس طوفان کے سبب ۵؍ لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں ۔ ان سبھی کیلئے حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد کی کوشش کی جارہی ہے۔ 
  ادھر وزیرا عظم مودی جمعہ کو بنگال کے دورے پرپہنچے اور ممتا بنرجی کے ساتھ طوفان سے متاثرہ شمالی ۲۴؍پرگنہ اور جنوبی ۲۴؍ پرگنہ اضلاع کا فضائی سروے کرنے کے بعد ایک ہزار کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوانس کے طورپر یہ رقم دی جارہی ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مرکز کی ایک ٹیم جلد ہی متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لے گی۔وزیرا عظم مودی نے یقین دلایا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں مرکزی حکومت بنگال کے عوام کے ساتھ ہے اور ریاست کی باز آبادکاری میں ہر ممکن مدد کرے گی۔وزیر اعظم نے طوفان میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو ۲؍ لاکھ اور سنگین زخمیوں کو۵۰؍ہزار روپے کی مالی مدد بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ طوفان سے ہونے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے مرکز سے ایک ٹیم بھیجی جائے گی۔ ہماری پہلی ترجیح سمندری طوفان سے متاثرہ لوگوں کوراحت پہنچانا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ مغربی بنگال میں زندگی ایک بار پھر معمول پر آجائے اور بنگال طوفان سے ابھر کر ترقی کی راہ گامزن ہو۔
 ادھر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی وزیر اعظم کے اس اعلان سے سخت ناراض ہیں ۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ریاست میں نقصانات کا اندازہ ایک لاکھ کروڑ روپےسے زائد ہے لیکن مرکز نے صرف ایک ہزار کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے اور وہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ کس مد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سنیچر کو ایک بار پھر متاثرہ اضلاع کا دورہ کریں گی اور سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں ، پاتھورپٹیما، بسنتی، نم خانہ، کاکدیوپ اور گوسابا کا دورہ کریں گی اور ہر بلاک انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کریں گی۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ عید کے بعد وہ دیگر متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کریں گی۔ اب بھی بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں مواصلات اور بجلی بری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے لوگوں سے ٹھیک طرح سے رابطہ نہیں ہوپارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK