Updated: January 29, 2026, 12:07 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی پارلیمنٹ نے بجٹ کے پہلے دن سابق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم خالدہ ضیاء کو خراج عقیدت پیش کیا، صدر جمہوریہ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد، ایوانوں نے سابق اراکین پارلیمان ایل گنیشن اور سریش کلماڑی کے ساتھ خالدہ ضیاء کی رحلت پر تعزیتی قراردادیں پیش کیں۔
سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیاء۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی پارلیمان نے۲۰۲۶-۲۷ء کے بجٹ سیشن کے پہلے دن سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیاء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ صدر جمہوریہ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد، ایوانوں نے سابق اراکین پارلیمان ایل گنیشن اور سریش کلماڑی کے ساتھ خالدہ ضیاء کی رحلت پر تعزیتی قراردادیں پیش کیں۔ لوک سبھا نے سابق اراکین پارلیمان شالینی پاٹل، بھانو پرکاش میرڈھا، ستینڈر ناتھ برہمو چودھری، سریش کلماڑی اور کبیندر پورکایاستھا کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ خالدہ ضیاء کو یہ خراج عقیدت ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب ہند اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ ہیں۔گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیاء طویل علالت کے بعد ۸۰؍ سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ان کی موت اس وقت آئی جب بنگلہ دیش سیاسی کشمکش سے گزر رہا ہے اور فروری۲۰۲۶ء میں انتخابات ہونے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اگر المالکی دوبارہ وزیر اعظم بنے تو امریکہ عراق کی مزید مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ
ان کی وفات کےدن ، نریندر مودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں بنگلہ دیش کی ترقی اور ہند-بنگلہ دیش تعلقات میں ان کی اہم خدمات کو سراہا۔۲۰۱۵ء میں خالدہ ضیاء سے اپنی ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے، وزیراعظم مودی نے کہا کہ ان کا ویژن اور ورثہ ہند-بنگلہ دیش شراکت داری کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ اگرچہ ہند-بنگلہ دیش تعلقات کی توسیع کا سہرا خالدہ ضیاء کو جاتا ہے، لیکن ان کی جانشین شیخ حسینہ نئی دہلی کے لیے زیادہ دوستانہ سمجھی جاتی ہیں۔ خالدہ ضیاء نے مجموعی طور پر چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ہندوستان کے ساتھ محتاط اور متوازن تعلقات برقرار رکھے۔ دریں اثناءخالدہ ضیاء کے بیٹے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے موجودہ چیئرمین، طارق الرحمان، بنگلہ دیش واپس آ گئے ہیں۔ انہیںآئندہ انتخابات میں سرخیل سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈھاکہ سے ۱۷؍ اور بوگرا سے ۶؍ حلقوں سے امیدوار ہونے کے لیے نامزدگی کے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاست کا مرکزی نصب العین قومی یکجہتی اور ’’بنگلہ دیش اول‘‘ کی خارجہ پالیسی کو بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی علاقائی پالیسی میں ’’نہ دہلی، نہ پنڈی (راولپنڈی)، ہر چیز سے پہلے بنگلہ دیش‘‘ کا نعرہ تجویز کیا ہے، جو علاقائی طاقتوں سے یکساں فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔