• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے تبصروں پر آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف شکایت درج

Updated: January 30, 2026, 6:14 PM IST | New Delhi

چوطرفہ تنقید کے بعد آسام کے وزیراعلیٰ نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو تسلیم کرنا نہ تو فرقہ وارانہ ہے اور نہ ہی امتیازی سلوک ہے، بلکہ یہ ایک ”سنگین اور دیرینہ مسئلے“ کا جواب ہے۔

Himanta Biswa Sarma. Photo: X
ہیمنت بسوا شرما۔ تصویر: ایکس

انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم سابق سرکاری افسر ہرش مندر نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف نئی دہلی کے حوض خاص پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے جنہوں نے گزشتہ دنوں ریاست میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر نفرت، امتیاز اور ہراسانی کو فروغ دینے والے تبصرے کئے تھے۔ مندر نے شرما پر دشمنی کو فروغ دینے، مجرمانہ دھمکیوں، سرکاری عہدے کے غلط استعمال اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کیلئے مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آسام میں جاری ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس سے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کرنے اور ایسے بیانات کو روکنے کیلئے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ 

واضح رہے کہ ۲۷ جنوری کو ضلع تنسوکیا کے قصبے ڈگبوئی میں ایک سرکاری تقریب کے دوران شرما نے کئی بار ”میاں“ کی اصطلاح استعمال کی، جسے آسام کے بنگالی نژاد مسلمانوں کیلئے توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت اس برادری کے ارکان کو ”نقصان پہنچانے،“ ”تکلیف دینے“ اور ”پریشان کرنے“ کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مستقبل کی ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹوں سے چار سے پانچ لاکھ ”میاں ووٹرز“ کے نام نکال دیئے جائیں گے۔ شرما کے ان تبصروں نے مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: آسام: بی جے پی نے ۵؍ لاکھ سے زائد مبینہ غیر ملکیوں کے خلاف شکایات درج کرائیں

شکایت کے مطابق، شرما نے کھلے عام اعتراف کیا کہ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف اعتراضات داخل کریں۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سماجی امتیاز اور حقِ رائے دہی سے محرومی کی بھی حوصلہ افزائی کی، جو ہرش مندر کے بقول ووٹ دینے اور ذریعہ معاش جیسے آئینی حقوق کیلئے خطرہ ہے۔ شکایت میں دلیل دی گئی ہے کہ چونکہ یہ تبصرے ایک موجودہ وزیراعلیٰ نے ایک سرکاری تقریب میں دیئے ہیں، اس لئے ان کے اثرات انتہائی سنگین ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اپنے بیان کا دفاع کیا، سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا

متنازع بیان دینے کے بعد چوطرفہ تنقید کے بعد آسام کے وزیراعلیٰ نے جمعرات کو اپنے تبصروں کا دفاع کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ وہ ”حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں، نفرت نہیں پھیلا رہے ہیں۔“ بی جے پی لیڈر نے سپریم کورٹ کے ۲۰۰۵ء کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا جس میں ’آئی ایم ڈی ٹی‘ ایکٹ کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور آسام میں مبینہ ”خاموش اور خطرناک آبادیاتی یلغار“ کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔

شرما نے کہا کہ عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو تسلیم کرنا نہ تو فرقہ وارانہ ہے اور نہ ہی امتیازی سلوک ہے، بلکہ یہ ایک ”سنگین اور دیرینہ مسئلے“ کا جواب ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ریاست کے اقدامات کسی مذہب یا ہندوستانی شہری کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ ان کا مقصد آسام کی شناخت، سلامتی اور مستقبل کا تحفظ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: ۱۸؍ سالہ کشمیری شال فروش پر وحشیانہ ہجومی حملہ، ملزم گرفتار

کانگریس نے شرما کی دلیل کو مسترد کردیا

کانگریس نے اس دفاع کو سختی سے مسترد کر دیا۔ کانگریس کے ترجمان امان ودود نے شرما کی جانب سے پیش کردہ آبادیاتی دعوؤں کی بنیاد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ جنہیں ”میاں“ کہا جا رہا ہے ان میں سے بہت سے ہندوستانی شہری ہیں، ان کے خاندان آزادی سے بہت پہلے آسام ہجرت کر کے آئے تھے۔ ودود نے وزیراعلیٰ پر آئینی تحفظات کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ آنے والے مہینوں میں متوقع اسمبلی انتخابات سے قبل حقیقی ووٹرز کو نشانہ بنانے کیلئے ایس آئی آر کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK