روبینہ کی فلموں میں واپسی کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک عورت، ماں اور کام کرنے والی شخصیت کے طور پر نیتو کپور کے اس سفر سے خود کو گہرائی سے جوڑ پاتی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 19, 2026, 1:02 PM IST | Mumbai
روبینہ کی فلموں میں واپسی کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک عورت، ماں اور کام کرنے والی شخصیت کے طور پر نیتو کپور کے اس سفر سے خود کو گہرائی سے جوڑ پاتی ہیں۔
اداکارہ روبینہ دلائک مختلف مسائل پر کھل کر اپنی رائے پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ روبینہ کی فلموں میں واپسی کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک عورت، ماں اور کام کرنے والی شخصیت کے طور پر نیتو کپور کے اس سفر سے خود کو گہرائی سے جوڑ پاتی ہیں۔
روبینہ نے نیتو کپور کی ہمت اور حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ میں نیتو کپور سے مکمل طور پر خود کو جوڑ پاتی ہوں۔ بلاشبہ، وہ خوبصورتی اور طاقت کی مثال ہیں اور ہم برسوں سے یہ دیکھتے آئے ہیں۔
نیتو کپور نےشوہر رشی کپور کے انتقال کے بعد فلم انڈسٹری میں واپسی کی ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے روبینہ نے کہا کہ خواتین کو بالکل اسی طرح آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا’’خواتین کو اسی طرح آگے بڑھنا چاہیے، ایک مثال قائم کرنی چاہیے اور ان دوسری خواتین کے لیے راستہ بنانا چاہیے جنہیں اب بھی اس بات پر یقین نہیں کہ ماں بننے کے بعد یا زندگی میں تبدیلی آنے کے بعد انہیں دوبارہ کام پر لوٹنا چاہیے یا نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود تیل کمپنیوں کو روزانہ۷۵۰؍ کروڑ کا نقصان
روبینہ نے نیتو کپور کی اس بات کا بھی ذکر کیا جس میں نیتو نے کہا تھا کہ ان کی واپسی صرف کام کے لیے نہیں بلکہ یہ دیکھنے کے لیے بھی تھی کہ اتنے برسوں بعد بھی کیمرے کے سامنے ان کا اعتماد اور حوصلہ باقی ہے یا نہیں۔ روبینہ اسے بے حد متاثر کن مانتی ہیں۔
روبینہ نے اپنے شوہر ابھینو شکلا کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھینو گھر پر رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے خواب پورے کر سکیں۔ روبینہ نے کہا’’ایک مرد کے لیے اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر یہ کہنا کہ میں گھر پر رہوں گا، تم جاؤ اور اپنے خواب پورے کرو اس کے لیے بہت ہمت چاہیے۔ ابھی نو جانتے ہیں کہ میں اپنے کام سے کتنی محبت کرتی ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:امیشا پٹیل نے کہا کہ ہندوستان میں اداکاروں کو اپنے ہی لوگ بری طرح ٹرول کرتے ہیں
انہوں نے مزید کہا کہ وہ سماج کی پرانی سوچ اور دقیانوسی تصورات کو توڑ رہے ہیں۔ہم اپنی بیٹیوں کو ایک مختلف اقدار کا نظام دینا چاہتے ہیں۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ مرد کو اس طرح پیش آنا چاہیے یا عورت کو اس طرح کام کرنا چاہیے تو ہم کہتے ہیں: اب بہت ہو گیا۔ ہم ان پابندیوں کو ختم کر پا رہے ہیں۔روبینہ نے زور دے کر کہا کہ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا آسان نہیں، لیکن کوشش ترک نہیں کرنی چاہیے۔