ممتا حکومت اور بنگال کے ڈی جی پی کو نوٹس ، شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 10:52 PM IST | New Delhi
ممتا حکومت اور بنگال کے ڈی جی پی کو نوٹس ، شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت
مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں سیاسی مشاورتی ادارے آئی-پیک کے دفتر پر گزشتہ دنوں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ ماری کا معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ ای ڈی نے بنگال پولیس پر ریاستی حکومت کے کہنے پر تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے ابتدائی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے ای ڈی افسران کے خلاف درج ایف آئی آر پر اگلی سماعت تک روک لگا دی اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی مرکزی تفتیشی ایجنسی کی قانونی جانچ میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس پی کے مشرا کی بنچ نے حکم دیا کہ ای ڈی افسران کے خلاف درج تمام ایف آئی آر آئندہ سماعت تک معطل رہیں گی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاستی فریق کو ہدایت دی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، تلاشی کے دوران کی گئی ریکارڈنگ اور دیگر اسٹوریج ڈیوائسیزکو محفوظ رکھا جائے تاکہ شواہد کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔
ای ڈی کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چھاپہ کے دوران بنگال پولیس کے اعلیٰ افسران اور بعد میں خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی موقع پر پہنچیں اور تفتیشی عمل میں رکاوٹ ڈالی۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ اس دوران تفتیشی افسران کے لیپ ٹاپ، اہم دستاویز اور موبائل فون زبردستی ضبط کرلئے گئے۔ ای ڈی نے ریاست کے ڈی جی پی راجیو کمار اور کولکاتا کے پولیس کمشنر منوج کمار ورما کے خلاف کارروائی اور فوری معطلی کا مطالبہ بھی کیا۔ حالانکہ ممتا حکومت نےکورٹ میں ای ڈی کی اپیل کی سختی سے مخالفت کی لیکن سپریم کورٹ نے ان اعتراضات کو فی الحال درکنار کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کئے۔