یہ ریلی اُسی مقام پر ہوگی جہاں ایک دن قبل ۲؍ مارچ کو امیت شاہ نے’پریورتن یاترا‘ کے دوران عوام سے خطاب کیا تھا اور ٹی ایم سی پرالزامات کی بوچھار کی تھی، طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا جائے گا
EPAPER
Updated: March 03, 2026, 11:29 PM IST | Kolkata
یہ ریلی اُسی مقام پر ہوگی جہاں ایک دن قبل ۲؍ مارچ کو امیت شاہ نے’پریورتن یاترا‘ کے دوران عوام سے خطاب کیا تھا اور ٹی ایم سی پرالزامات کی بوچھار کی تھی، طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا جائے گا
مغربی بنگال میں انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے قبل ہی لفظی جنگ کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔ ایک دن قبل جہاں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے رائے دیگھی میں ایک ریلی کی تھی، وہیں پر ۸؍ مارچ کو اب ترنمول کانگریس کی جانب سے بڑے عوامی جلسے کااعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان کو بی جے پی کی جانب سے منعقدہ جارحانہ ریلی کی جوابی کارروائی کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں بی جےپی کی جانب سے عائد الزامات کا جواب دیا جائے گا۔
امیت شاہ نے پیر کو جنوبی۲۴؍ پرگنہ کے متھرا پور تنظیمی ضلع کے تحت رائے دیگھی میںبی جے پی کی ’پریورتن یاترا‘ کے ایک حصے کے طور پر ایک ریلی سے خطاب کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے حکمراں ترنمول کانگریس اور ریاستی حکومت پر کئی الزامات لگائے تھے۔اس کے جواب میں،ابھیشیک بنرجی نے۸؍ مارچ کو اسی میدان پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ اسی مقام پر بی جے پی کے بیانیے کا جواب دینے اور آئندہ انتخابات سے قبل تنظیمی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نے اتوار کو’پرورتن یاترا‘ کا باضابطہ آغاز کیا تھا اور رائے دیگھی میں امیت شاہ کی ریلی کو جنوبی بنگال کی انتخابی مہم کا ایک بڑا پروگرام مانا جارہا ہے۔ ترنمول قیادت ابھیشیک بنرجی کی مجوزہ ریلی کو بی جے پی کی مہم کیلئے ایک علامتی اور اسٹریٹجک ردعمل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ابھیشیک بنرجی اسی مقام پر جوابی ریلی کریں گے جسے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے استعمال کیا تھا۔۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات سے پہلے بھی ابھیشیک بنرجی نے امیت شاہ سمیت دیگر بی جے پی لیڈروں کی ریلیوں کے جواب میں شمالی اور جنوبی بنگال میں کئی جوابی ریلیاں کی تھیں۔اسی طرح کی سیاسی مسابقت اس سال سنگور میں بھی دیکھنے کو ملی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے۱۸؍ جنوری کو سنگور میں ایک ریلی سے خطاب کیا تھا، جس کے۱۰؍ دن بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے وہاں ایک مختلف مقام پر جلسہ کیا تھا۔ ترنمول کے سینئر لیڈر ابھیشیک بنرجی کے رائے دیگھی ریلی کے اعلان کے ساتھ ہی جنوبی۲۴؍ پرگنہ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک دن قبل امیت شاہ نے ٹی ایم سی کے خلاف انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بار بی جے پی کا ہدف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت کو ہٹا کر اپنی پارٹی کی حکومت بنانا اور ریاست کو دراندازوں سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے ’پریورتن یاترا‘ کامطلب سمجھاتے ہوئے کہاتھا کہ یہ تبدیلی کی یاترا ہے۔اس تبدیلی کا مطلب بنگال کو دراندازی سے آزاد کرنا، بدعنوانی سے نجات دلانا اور ترنمول حکومت کو ہٹانا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر دوبارہ ترنمول اقتدار میں آئی تو ریاست کا نظم و نسق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نہیں بلکہ ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی چلائیں گے۔ امیت شاہ نے پولرائزیشن کا کھیل کھیلتےہوئےالزام عائد کیا کہ ریاستی بجٹ میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے ۸۰؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ مدارس کیلئے ۵؍ ہزار۷۰۰؍ کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے خوشامدی سیاست قرار دیا اور کہا کہ اس سے ریاست کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ امیت شاہ نے الزام لگایا کہ بنگال پر تقریباً ۸؍ لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے،اس کا مطلب ہوا کہ ہر نومولود پر۷۷؍ ہزار روپے کا قرض آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کا نام لیتے ہی بدعنوانی کی تصویر سامنے آتی ہے۔ امیت شاہ نے ’سی اے اے‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی ضمانت ہے کہ ایک بھی ہندو پناہ گزین کی شہریت ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے ممتا بنرجی پر سی اے اے کی مخالفت کرنے کا الزام لگایا۔ امیت شاہ نے کہا کہ پہلے بائیں بازو کی حکومت اور پھر ٹی ایم سی حکومت نے بنگال کو غربت کی طرف دھکیلا۔ امیت شاہ نے بتایا کہ پوری ریاست میں کل ۹؍ پریورتن یاترائیں نکالی جائیں گی۔