اگر حکومت ملک کےتئیں وفادار ہے تو وہ یہ قانون واپس لے

Updated: February 24, 2020, 9:52 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ملک کے موجودہ مخدوش حالات اور آئین مخالف سیاہ قوانین سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں ’تحفظ جمہوریت کانفرنس‘ کا انعقاد کیا گیا۔

آزاد میدان میں شہریت ایکٹ کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی
آزاد میدان میں شہریت ایکٹ کیخلاف احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

  ممبئی : ملک کے موجودہ مخدوش حالات اور آئین مخالف سیاہ قوانین سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں ’تحفظ جمہوریت کانفرنس‘ کا انعقاد کیا گیا۔  اس کانفرنس میں اہم شخصیات نے حکومت کے اس قدم پر سخت تنقید کی اور سیاہ قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ کانفرنس میں جمعیۃ کے کارکنان، علماء، مدارس کے طلبہ،  اساتذہ اور عوام الناس نے اتنی بڑی تعداد میں شرکت کی کہ آزاد میدان کا دامن اپنی وسعت کے باوجود تنگ نظر آرہا تھا۔ شرکاء اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم اور جمعیۃ کا جھنڈا لئے ہوئے تھے۔ وقفے وقفے سے مقررین کی اہم باتوں پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی تھی اور’میدان انقلاب زندہ باد،  ہندوستان زندہ باد، ہندو مسلم ایکتا زندہ باد ‘کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتا تھا
  جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ’’جمعیۃ کے قیام کو ۱۰۰؍ سال پورے ہوگئے اور پروگرام یہ تھا کہ اس موقع پر ملک بھر میں خوشی منائیں گے لیکن یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ مودی جی کی پوری حکومت اقلیتوں اور دلتوں کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جب ملک میں نوجوان اور ہماری بہنیں سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں، جشن منانا جمعیۃ کی تاریخ کے خلاف ہے۔ آزادی سے قبل بار بار یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ملک کی آزادی کے بعد اس کا دستور سیکولر ہوگا،اسی بنیاد پر جمعیۃ نے کانگریس سے ۵؍قدم آگے بڑھاکر آزادی کے لئے قربانی دی۔‘‘ مولانا مدنی نے سیکولر آئین کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ ’’اگر اقتدار میں رہنے والی کوئی حکومت اس سے دائیں بائیں ہوگی  تو جمعیۃ اسے ہدف ِملامت بنانے والی پہلی جماعت ہوگی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے گھرواپسی کی بات کہی گئی اور اس کامطلب یہ سمجھانے  کی کوشش کی گئی کہ سارے مسلمان ہندو ہوجائیں کیا ۔اس کا مطلب یہ کہ ہندوؤں نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہے مسلمانوں نے نہیں۔ اسی طرح ماب لنچنگ کی وارداتیں ہوئیں اور سب سے زیادہ وارداتیں جھارکھنڈ میں ہوئیں لیکن جب سے بی جے پی کا اور وہاں کے سی ایم کا منہ کالا ہوا ماب لنچنگ ختم ہوگئی۔‘‘
  مولانا ارشد مدنی نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ’’حکومت مسلم مخالف کام کررہی ہے اور آج پورا ملک شاہین باغ بن گیا ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ ملک بھر میں ایسے اجتماعات کریں گے اور اسے تقویت دینے کیلئے برادران کو بھی شامل کریں گے۔اگر دلت اور مسلم یہ دو طاقتیں مل جائیں تو حکومت کو پیچھے ہٹنا ہی پڑے گا۔‘‘ مولاناکے مطابق ’’ ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں اور سی اے اے، این پی آر اور این آرسی جو قانون لایا گیا ہے، این آرسی کے نام پر آسام کے۷۰، ۸۰؍ لاکھ مسلمانوں پر قیامت ڈھانا چاہتی تھی لیکن کیا ہوا، وہ سامنے ہے۔ سی اے اے کے ذریعے آپ کسی کو شہریت دیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن جو سیکڑوں نہیں  بلکہ ہزاروں سال سے رہ رہے ہیں، ان کی شہریت چھینی جائے یہ نہیں ہوگا ،نہیں ہوگا، نہیں ہوگا۔ ‘‘
 جمعیۃ علماء کے صدرمدنی نے کہا کہ ’’بی جے پی کے وزراء، ایم پی اور خود وزیرداخلہ دہلی میں ووٹ کی بھیک مانگی لیکن کسی نے اس کی جھولی میں ووٹ کی بھیک نہیں دی۔ جمعیۃ کا پرزور مطالبہ ہے کہ اگر حکومت ملک کے تئیں وفادار ہے تو وہ یہ قانون واپس لے۔ ہمیں یہ یقین ہے کہ باہمی اتحاد سے حکومت کو جھکنا پڑے گا۔‘‘ مولانا نے مسلمانوں اور ہندوؤں کو مشورہ دیاکہ’’ حکومت نفرت کا کھیل کھیل رہی ہے ایسے میں مل جل کر احتجاج کریں تبھی کامیابی ملے گی۔‘‘ انہوں نے یہ قوانین  واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا اور  اعلان بھی کیاکہ ’’جب تک یہ قوانین واپس نہیں لئے جاتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔  ہم اپنے اتحاد کے ذریعے مغربی بنگال،  بہار اور یوپی میں مقابلہ کریں گے۔‘‘
 اس موقع پر جسٹس کولسے پاٹل نے کہا کہ’’ آج آپ نے اور ہماری بیٹیوں نے دیش کو ہلادیا اور اس اتحاد کو دیکھ کر میں۸۰؍سال کی عمر میں۱۸؍سال کا محسوس کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مودی اور شاہ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ’’ہم سے کاغذ مانگنے سے پہلے ڈگری دکھاؤ۔یہ قانون گولوالکر کی آئیڈیالوجی ہے لیکن ہندومسلم اتحاد سے ملک کی نئی تاریخ لکھیں گے۔ ہم سب مل کر پھونک ماریں گے تو مودی اور شاہ اڑ جائیں گے۔
  جاوید ندیم (کانگریس اقلیتی شعبہ) نے کہا کہ ’’سی اے اے، این پی آر اور این آرسی کے ذریعے بابا صاحب کے سنویدھان کو ختم کرنے کی کوشش کی  جارہی ہے لیکن ہم سب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔مولانا حلیم اللہ نے جمعیۃ کی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’یہ قانون جمہوریت کو ختم کرنے کیلئے لایا گیا ہے۔‘‘ مولانا محمود دریابادی نے کہا کہ ’’ہم آئین مخالف اور تفریق پرمبنی قانون پر تھوکتے ہیں اور اسے ماننے کیلئے تیار نہیں۔‘‘ ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ ’’جب ملک آزادی کی لڑائی لڑرہا تھا تو مودی اینڈ کمپنی انگریزوں کے تلوے چاٹ رہی تھی۔‘‘ عارف نسیم خان نے سیاہ قانون پر سخت تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ این پی آر سے غیر ضروری سوالات فوراً ہٹائے جائیں۔مولانا عبداللہ، مولانا مستقیم اعظمی اور بشیر موسی پٹیل نے بھی اظہار خیال کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK