پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی مزاحمت کو مضبوط کرنا ہے۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 12:48 PM IST | Agency | Islamabad
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی مزاحمت کو مضبوط کرنا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر یمن کا تنازع سعودی عرب کی سرحد کے اندر پھیلتا ہے تو سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی مکہ دفاعی اتحاد نافذ ہو سکتا ہے۔ آصف نے یہ بات یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے منگل کو سعودی تیل تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد کہی جن میں۷۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ۷؍ اگست کو ہوئے اس معاہدے کا مقصد اجتماعی مزاحمت کو مضبوط کرنا ہے اور یہ تینوں ممالک کو کسی ایک رکن پر حملے کو سب پر حملہ تصور کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نتن یاہو ایک منٹ بھی اسرائیلی وزیراعظم رہنے کا اہل نہیں، استعفے کا مطالبہ
’ ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حوثیوںکے حملوں کے بعد اس معاہدے کو نافذ کیا جا سکتا ہے، تو آصف نے کہا کہ اس کی شرائط کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے۔ بغیر کسی اشتعال کے جارحیت یا یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں یقیناً یہ معاہدہ نافذ ہو جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس معاہدے کی شرائط اور ضوابط کے پابند ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہم ان پر عمل کریں گے۔‘‘ اس دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی ہے، تو وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں ایسی کسی بات چیت کی معلومات نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان جواب دے گا۔