• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’دوائوں کی کمی نہیں ہے تو اموات کیوں ہو رہی ہیں؟‘‘

Updated: October 07, 2023, 9:47 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ادھو ٹھاکرے کی ریاستی حکومت پر شدید تنقید ، کہا ’’ کورونا بحران کے دوران بھی یہی طبی نظام تھا لیکن اسپتالوں میں اس وقت اتنی اموات نہیں ہوئی تھیں جتنی ان دنوں ہو رہی ہیں۔‘‘

Uddhav Thackeray showing Nanded news during press conference. Photo. Inquilab
ادھو ٹھاکرے پریس کانفرنس کے دوران ناندیڑ کی خبر دکھاتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

مختلف سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی اموات پر سابق وزیر اعلیٰ  ادھو ٹھاکرے نے ریاستی حکومت کو جم کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔  انہوںنے کہا کہ یہی طبی نظام تھا جس میں ڈاکٹروں نے کورونا کے دوران مریضوں کی جانیں بچائی تھیں اور اب اسی نظام میں عام مریضوں کی اموات ہو رہی ہیں۔  جمعہ کو ممبئی کے باندرہ میں واقع اپنی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’ ایک فل اور ۲؍ ہاف کی حکومت میں  جتنی اموات  ہو رہی ہیں اتنی  توہمارے دور اقتدار میں کورونا بحران کے وقت  بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ادھو نے اخبارات کے تراشے دکھاتے ہوئے کہا کہ آپ ہی لوگوں نے یہ شائع  کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دوائیں فراہم نہ  کرنے  کی  وجہ سے یہ اموات ہوئیںلیکن حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ دواؤں کی قلت سے اموات نہیں ہوئیں ، اسلئے اتنےبڑے پیمانے پر ہونے والی اموات کی اصل وجہ  معلوم کرنے کیلئے سی بی آئی سے جانچ کروائی  جانی چاہئے۔‘‘
شیوسینا سربراہ  نے الزام لگایا کہ وزراء بیرون ملک دوروں اور فلمی ستاروں  کے ساتھ تصویر کشی  میںمصروف ہیں اور ان کی لاپروائی کے سبب غریب مریضوں کی اموات ہورہی ہیں ۔ پریس کانفرنس میں ادھو نے کئی سوالات اٹھائےاورریاستی حکومت کے ذریعے اسپتالوں میں بغیر ٹینڈر دوائیں خریدنے کا ذمہ دینے کو بد عنوانی کو دعوت دینا قرار دیا۔انہوںنے سوال کیا کہ’’بدعنوانی کی شدید مخالفت کرنے والے وزیر عظم نریندر مودی کو بھی کیا یہ طریقہ منظور ہوگا؟‘‘واضح رہے کہ ناندیڑ کے شنکر راؤ چوان اسپتال میں ۴۸؍ گھنٹوں میں ۳۱؍ مریضوں کی موت ہوئی تھی جبکہ ناگپور کےاسپتال  میں ۳؍ دنوں میں ۵۹؍  مریض فوت ہو گئے تھے۔ تقریباً ۲؍ ماہ قبل تھانے( کلوا) کے سرکاری اسپتال میں ۲۴؍ گھنٹوں میں  ۱۸؍ مریض ہلاک ہو ئے تھے۔
طبی نظام بری طرح بد نظمی کا شکار
ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ریاست میں طبی نظام بری طرح بدنظمی کا شکار ہے جس سے مَیں پریشان ہوں۔ جس وقت ریاست اور دنیا بھر میں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی تھی، اس وقت مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت تھی اور مَیں وزیر اعلیٰ تھا لیکن کورونا بحران  کے باوجود  مریضوں کی اتنی اموات نہیں ہوئی تھیں جتنی ان دنوں ہو رہی ہیں۔ حالانکہ اب بھی ریاست کاطبی نظام وہی ہے۔‘‘  انہوں نے کہااس معاملے میں مَیں دسہرہ ریلی میں تفصیل سے بات کروں گالیکن آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ  اس ’کھوکے ‘ سرکار کے پاس تفریح کیلئے تو فنڈ ہے لیکن شہریوں کو علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے فنڈ نہیں ہے۔
 انہوں نے مزید کہاکہ’’ ناندیڑ،  ناگپور ، اورنگ آباداور اسی طرح کے  دیگر اضلاع کے اسپتالوں  میں وہاں کےاسٹاف کو ان اموات کا ذمہ دار قرار دیاجارہا ہے ، لیکن یہی تو وہ کووڈ جنگجو تھے جنہوں نے کورونا بحران  کے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے خدمات انجام دی تھیں اور مریضوں کی جان بچائی تھی۔‘‘
 اجیت پوار پر بھی تنقید 
 ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’اجیت پوار جس وقت اپوزیشن لیڈر تھے انہوں نےعدالت کا حوالہ دے کر شندے/ فرنویس سرکار کو ’نامرد‘ حکومت کہا تھا لیکن بعد میں وہ بھی انہی کے ساتھ جاکر بیٹھ گئے۔ انہوں نے بھی متاثرین سے ملاقات کرنے کی زحمت گنوارا نہیں کی بلکہ وزراء اپنے من پسند ضلع کے نگراں وزیر بننے کیلئے لڑ جھگڑ رہے تھے ۔
شیو سینک، سرکاری اسپتال  کا جائزہ لیں 
ادھو ٹھاکرے نے  شیو سینکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’میں شیو سینکوں سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے اپنے ضلعوں میں واقع سرکاری اسپتال جائیں اور ڈین اور میڈیکل اسٹاف کو اعتماد میں لے کر پتہ کریں کہ وہاں حقیقت کیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ڈاکٹر یا دیگر محکمہ میں افرادی قوت کم ہوتی ہے تو اس کی بھرپائی کرنے کا انتظام کیاجاتا ہے۔ یہ کورونا کے دور میں بھی  ہوا تھا۔
ادھو ٹھاکرے نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب اسپتالوں میں دوائیں ٹینڈر جاری کئے بغیر خریدنے کی بات کی جارہی ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جن جن اسپتالو ں میں اموات ہوئی ہیں وہاں کسی کے ایجنٹ بیٹھے ہوئے ہیں جو دوائیں خریدنے کا ٹھیکہ لینے کیلئے اس طرح کی اموات کا سبب بن رہے ہیں ، اسکی بھی جانچ ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK