سیزیرین کے لئے حاملہ خواتین آن کال ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر،دو سال سے عارضی انتظام، اراکین پارلیمان و اسمبلی کے دورے بھی بے اثر، کوئی فائد ہ نہیں۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 9:00 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
سیزیرین کے لئے حاملہ خواتین آن کال ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر،دو سال سے عارضی انتظام، اراکین پارلیمان و اسمبلی کے دورے بھی بے اثر، کوئی فائد ہ نہیں۔
اندرا گاندھی میموریل (آئی جی ایم) سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں زچگی جیسی انتہائی حساس طبی سہولت اب بھی مستقل ماہرِ امراضِ نسواں کی عدم دستیابی کے باعث عارضی انتظام کے سہارے چل رہی ہے۔ اسپتال میں مستقل ماہرِ امراضِ نسواں( گائناکولوجسٹ) موجود نہ ہونے کی وجہ سے سیزیرین آپریشن کی ضرورت پڑنے پر آن کال نجی ماہر ڈاکٹر کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جس کیلئے حکومت کی جانب سے فی آپریشن ۴؍ہزار روپے ادا کئے جاتے ہیں۔اس صورتحال کا انکشاف اسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مادھوی پانڈھارے نے رکنِ پارلیمان سریش مہاترے کے اسپتال دورے کے موقع پر کیا۔ ان کے مطابق تقریباً دو سال قبل تک آئی جی ایم اسپتال میں سیزیرین آپریشن کی سہولت ہی دستیاب نہیں تھی۔ بعد ازاں ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر کی کمی کے پیش نظر آن کال ڈاکٹروں کے ذریعے یہ سہولت شروع کی گئی لیکن دو سال گزرنے کے باوجود مستقل ماہر ڈاکٹر کی تقرری نہیں ہو سکی ہے۔
مستقل گائناکولوجسٹ نہ ہونے سے پریشانی
سماجی اور طبی شعبوں میں کام کرنے والے سماجی کارکنان کے مطابق آئی جی ایم میں یومیہ ۷؍ سے ۱۰؍ زچگی کے لئے خواتین داخل کرائی جاتی ہیں۔ جن۳؍ سے ۵؍ خواتین کی زچگی آپریشن سے کرائی جاتی ہے۔ مستقل ڈاکٹر نہ ہونے کے سبب ان حاملہ خواتین کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گائناکولوجسٹ کی مستقل دستیابی کا سوال
اسپتال میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر گائناکولوجسٹ کی تعیناتی کے باوجود ان کی باقاعدہ دستیابی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہےکہ کنٹریکٹ پر جس ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا ہے وہ مستقل دستیاب نہیں رہتی ہے۔جس کے سبب آن کال کسی ماہر ڈاکٹر کو بلانا پڑتا ہے۔ زچگی کے شعبے میں کسی بھی وقت پیدا ہونے والی پیچیدگی سے نمٹنے کے لئے ماہر ڈاکٹر کی فوری موجودگی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں سیزیرین کے بعد خواتین کو لیبر وارڈ میں ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی نگرانی میں رکھنے کا انتظام بھی توجہ طلب ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق زچگی کے دوران اچانک خون بہنا، بلڈ پریشر میں شدید اضافہ یا دیگر پیچیدگیاں پیدا ہونے کی صورت میں فوری طور پر ماہرِ امراضِ نسواں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس لئے صرف آن کال انتظام کو مستقل طبی سہولت کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔
مستقل حل کب؟
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماہر ڈاکٹر کی مستقل تقرری کے لئے حکومت سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شہر کی بڑی آبادی کو طبی سہولت فراہم کرنے والے سرکاری اسپتال میں زچگی جیسے بنیادی اور حساس شعبے کو مزید کتنے عرصے تک عارضی انتظام کے حوالے رکھا جائے گا؟