ناندیڑ ضلع کلکٹر نے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری انہدامی کارروائیوں پر فوری طور پر روک لگاتے ہوئے واضح ہدایت دی ہے کہ آئندہ کسی بھی کارروائی سے قبل مناسب منصوبہ بندی، پیشگی اطلاع اور متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا۔
کئی روز سے کارروائی جاری ہے- تصویر:آئی این این
ناندیڑ ضلع کلکٹر نے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری انہدامی کارروائیوں پر فوری طور پر روک لگاتے ہوئے واضح ہدایت دی ہے کہ آئندہ کسی بھی کارروائی سے قبل مناسب منصوبہ بندی، پیشگی اطلاع اور متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگا۔ یہ فیصلہ ونچت بہوجن اگھاڑی اور کانگریس اتحاد کے ایک نمائندہ وفد کی جانب سے ضلع کلکٹر سے ملاقات اور تفصیلی میمورنڈم پیش کرنے کے بعدکیا گیا ہے۔وفد نے ضلع کلکٹر کو ناندیڑ میونسپل کارپوریشن کی مبینہ غیر قانونی انسدادِ تجاوزات کارروائیوں اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کے تعلق سے تفصیلی یادداشت پیش کی۔ضلع کلکٹر نے معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ غریب ٹھیلہ فروشوں، محنت کش طبقے اور چھوٹے تاجروں کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔انتظامیہ کی جانب سے میونسپل حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل متاثرہ افراد کو اعتماد میں لیا جائے اور مناسب متبادل یا منصوبہ بندی کے بعد ہی قدم اٹھایا جائے۔ یاد رہے کہ ناندیڑ شہر میں گزشتہ کئی روز سے مسلسل انہدامی کارروائی جاری ہے جس کی وجہ سے دکانداروں میں ناراضگی ہے۔ ۲؍ روز قبل دکانداروں کی جانب سے اس انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا تھا لیکن احتجاج کے بعد کارروائی روکنے کے بعد مظاہرین کے خلاف معاملہ درج کروایا جس کی وجہ سے لوگوں میں ناراضگی اور بھی بڑھ گئی تھی۔
اس موقع پر ونچت بہوجن اگھاڑی اور کانگریس کے مشترکہ وفد نے عیدالاضحیٰ کے دوران قانونی دائرے میں انجام دی جانے والی قربانی اور گوشت کی نقل و حمل کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ ضلع کلکٹر نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ کسی بھی تیسرے فریق یا خود ساختہ تنظیم کو قانون ہاتھ میں لینے یا قربانی کے عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس انتظامیہ کو اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کرنے کا بھی یقین دلایا گیا۔انتظامیہ نے کہا کہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وفد نے عوامی مسائل کو حساسیت کے ساتھ سننے پر ضلع انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ یاد رہے کہ قربانی کے دنوں میں عام طور پر ہندوتوا وادی تنظیمیں مویشیوںکو لانے لے جانے والوں کو روکتے ہیں اور ان کے ساتھ زور زبردستی کرتے ہیں جبکہ پولیس ان پر کوئی کارروائی نہیں کرتی۔