کانگریس کامغربی بنگال اورآسام میں الیکشن میں ہیراپھیری کیلئے بی جے پی پر شدیدحملہ۔
پون کھیڑا پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے۔تصویر:آئی این این
کانگریس نے مغربی بنگال اور آسام سمیت متعدد ریاستوں میں بڑے پیمانے پر الیکشن میں ہیرا پھیری، اداروں کو قبضہ میں لینے اور جمہوری عمل کو منظم طریقے سے تباہ کرنے پر بدھ کو بی جے پی پر زوردار حملہ کیا۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےپارٹی کے لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ ووٹرلسٹ میں جان بوجھ کر ہیرا پھیری کی جا رہی ہے اور جمہوری اداروں نے حکمراں پارٹی کے لئے سازگار نتائج کے لئےسمجھوتہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جمہوریت اور جمہوری عمل کی آخری رسومات بھی اداکردی ہیں۔
پون کھیڑا نے کہا کہ ’’بی جے پی کی ووٹ چور حکومت نے اب بڑی ڈھٹائی اور منظم طریقے سے آسام اور مغربی بنگال کے لوگوں کے مینڈیٹ کوریموٹ کنٹرول انتخابی مشینری کے ذریعے تباہ کردیا اور مؤثر طریقے سے ان اداروں کو ہائی جیک کیا جن کا مقصد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بناناہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ موجود ہے ،وہ اصل میں جمہوریت نہیں بلکہ یہ کھوکھلی جمہوریت ہے۔ پون کھیڑا نے زور دے کر کہا کہ مغربی بنگال میں۹۰؍لاکھ سے ووٹروںکے ناموں کو ایس آئی آر میں حذف کر دیا گیا تھا، جس میں۲۷؍لاکھ شہریوںکوان کے حق سے انکارکردیاگیا۔ مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئےکھیڑا نے کہا کہ بی جے پی پر بڑے پیمانے پر مینڈیٹ کی چوری، ووٹر لسٹ میںہیرا پھیری کرکے ۱۰۰؍ سے زائد سیٹوں پر انجینئرنگ کےذریعے نتائج کومتاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حذف شدہ ووٹروں کی تعداد کم از کم۵۰؍ حلقوں میں جیتنے والوں کے مارجن سے زیادہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اس کا ازخود نوٹس لے گی اور ان لوگوں کو ووٹ دینے کا حق بحال کرے گی جن کے نام حذف کیے گئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ ہونی چاہیے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد جمہوری بحران کے اس فیصلہ کن لمحے میں ممتا بنرجی کے ساتھ واضح طور پر کھڑا ہے۔ انڈیا الائنس اس بات کو تسلیم کرنے میں متحد ہے کہ بنگال میں جو کچھ ہوا ہے وہ انتخابی نتیجہ نہیں ، بلکہ جوڑ توڑ کے ذریعے مسلط کردہ ایک تیار کردہ فیصلہ ہے۔ کھیڑا نے آسام میں انتخابی بے ضابطگیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ریاستوں کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں جمہوری عمل پر قبضہ کیاگیا۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ کئی ریاستوں میں ووٹرلسٹ کی خصوصی نظر ثانی میں کروڑوں ووٹروں کے نام حذف کئے گئے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے پون کھیڑا نے کہاکہ کمیشن کے کام کاج سے سمجھوتہ کیا گیا اور وہ اس طرح سے کام کر رہا ہے جس سےاس عمل کو سہولت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت جمہوری مقابلہ آرائی سے سیاسی کنٹرول کی انجینئرنگ کی طرف اشارہ ہے۔