• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وکی، رنبیر، رنویر، مستقبل میں ’تین خان‘ کا خلا پُر کر سکتے ہیں: عامر خان

Updated: February 12, 2026, 10:09 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے کہا ہے کہ نئی نسل کے اداکار وکی کوشل، رنبیر کپور اور رنویر سنگھ مستقبل میں ’’تین خان‘‘ یعنی شاہ رخ، سلمان اور عامر — کے بعد بالی ووڈ کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اداکار متنوع کرداروں اور محنت سے مضبوط پوزیشن میں ہیں۔

Aamir Khan. Photo: INN
عامر خان۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کے ممتاز اداکار عامر خان نے نئی نسل کے اداکاروں کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وکی کوشل، رنبیر کپور اور رنویر سنگھ مستقبل میں انڈسٹری کے سب سے نمایاں چہروں میں شامل ہو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ’تین خان‘ کے بعد قیادت کا کردار ادا کریں گے۔ ایک حالیہ گفتگو میں عامر خان سے سوال کیا گیا کہ کیا موجودہ دور میں کوئی ایسا اداکار ہے جو شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان جیسے اثر و رسوخ اور اسٹار پاور کا حامل بن سکتا ہے؟ اس پر عامر خان نے کہا کہ انڈسٹری میں کئی باصلاحیت اداکار موجود ہیں، تاہم خاص طور پر وکی کوشل، رنبیر کپور اور رنویر سنگھ میں وہ صلاحیت دکھائی دیتی ہے جو انہیں طویل مدت تک نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ڈان ۳‘‘ تنازع: رتیک روشن کو رنویر سنگھ کے کردار کی پیشکش نہیں ہوئی

عامر خان کے مطابق وکی کوشل نے مختلف کرداروں کے ذریعے اپنی استعداد ثابت کی ہے۔ انہوں نے سنجیدہ ڈراموں سے لے کر بڑے پیمانے کی فلموں تک متنوع کردار ادا کیے ہیں، جس سے ان کی اداکاری کا دائرہ وسیع نظر آتا ہے۔ اسی طرح رنبیر کپور کے بارے میں عامر خان کا کہنا تھا کہ وہ کردار کی نفسیات کو گہرائی سے سمجھنے اور اسے اسکرین پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رنویر سنگھ کے حوالے سے عامر خان نے کہا کہ ان کی توانائی، اسکرین پریزنس اور کردار میں ڈھل جانے کی صلاحیت انہیں ہم عصر اداکاروں میں ممتاز بناتی ہے۔ ان کے مطابق رنویر سنگھ نے تاریخی، رومانوی اور ایکشن فلموں میں مختلف انداز اپنائے ہیں، جو کسی بھی بڑے اسٹار کے لیے ضروری عنصر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تمنا بھاٹیا میسور صندل کی برانڈ ایمبیسڈر، بی جے پی کا ’اینٹی کنڑ‘ اعتراض

عامر خان نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر دور کا اپنا مزاج اور اسٹار سسٹم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ’تین خان‘ کا عروج ایک مخصوص ثقافتی اور فلمی ماحول کا نتیجہ تھا۔ آج کا دور ڈجیٹل پلیٹ فارمز، عالمی مارکیٹ اور بدلتے ناظرین کے رجحانات کا ہے، اس لیے اسٹارڈم کی تعریف بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیابی صرف باکس آفس کمائی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ کرداروں کا انتخاب، کہانی کا معیار اور طویل المدتی اثر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق نئی نسل کے اداکاروں کو مستقل مزاجی، پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور معیاری اسکرپٹس کے انتخاب پر توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ طویل عرصے تک انڈسٹری میں اپنا مقام برقرار رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: راجکمار ہیرانی نے ’’منا بھائی ۳‘‘ اور ’’تھری ایڈیٹس‘‘ سیکوئل کی تصدیق کی

فلمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عامر خان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بالی وڈ میں اسٹار سسٹم کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثر اور بدلتے ناظرین کے ذوق نے روایتیں بدل دی ہیں، جس کے باعث نئے چہروں کو بھی اب زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔ اگرچہ عامر خان نے یہ نہیں کہا کہ یہ اداکار ’تین خان‘ کی جگہ لے چکے ہیں، تاہم ان کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈسٹری میں قیادت کی منتقلی ایک فطری عمل ہے۔ ان کے مطابق ہر نسل اپنے نمایاں چہرے خود پیدا کرتی ہے اور موجودہ دور کے اداکار اس سمت میں مضبوط قدم رکھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK