• Tue, 27 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸؍ماہ میں ۸۷۵؍ میں سے۸۴۶؍ گمشدہ بچیوں کو تلاش کرلیا گیا

Updated: October 27, 2026, 3:20 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

پولیس نے بیشترلڑکیوں کو والدین کے حوالہ کیا ۔ پولیس ریکارڈ اور بچیوں کو تلاش کرنے میں مدد کرنے والے سماجی کارکنان کے بقول اکثر بچیاں والدین کے ذریعہ بد سلوکی ، امتیازی سلوک ، خاندانی اور مالی مسائل کے سبب گھروں سے فرار ہوجاتی ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

شہر و مضافات میں گزشتہ ۸؍ ماہ میں ساڑھے ۸؍سو سے زائد بچیوں کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔  پولیس نے ۸؍ ماہ کے درمیان ۸؍ سو سے زائد بچیوں کو نہ صرف مختلف تکنیکی ذرائع بلکہ شہر کی غیر سرکاری تنظیموں کے رضا کاروں کے مدد سے تلاش کرلیا اور انہیں ان کے والدین کے سپرد کردیا ۔ 

بچیوں کے گھروں سے لاپتہ ہونے سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کے رضا کاروں اور قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ اکثر بچیاں والدین یا گھر کے دیگر افراد کے ذریعہ بد سلوکی، تضحیک و توہین کرنے ، امتیازی سلوک کرنے یا گھریلو مالی و دیگر مسائل کےساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہونے کے سبب گھروں سے فرار ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں پولیس کے ترتیب کردہ ریکارڈ کے مطابق ۳۱؍ جنوری تا ۳۰؍ ستمبر۲۰۲۶ء کے درمیان شہر اور مضافات کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ۸۷۵؍ لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی شکایتیں درج کی گئی تھی۔ پولیس نے مخبروں، سماجی رضاکاروں کی مدد اور جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ۸۴۶؍ بچیوں کو نہ صرف صحیح سلامت تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کی   بلکہ قانونی کارروائی کے بعد بچیوں کو ان کے سرپرستوں یا والدین کے حوالہ کر دیا ۔پولیس کے ترتیب کردہ ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال جنوری تا ستمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان۹۴۱؍ بچیوں کے گمشدہ ہونے کی شکایتیں درج کرائی گئی تھی جبکہ پولیس نے ۹۳؍ فیصد کیس کو حل کرتے ہوئے ۸۷۹؍ بچیوں کو تلاش کرکے ان کے والدین کے سپرد کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: ساحل واکوڑے کی موت پر ۸۴؍ تنظیموں کا آئی آئی ٹی بامبے کے ڈائریکٹر سے استعفے کا مطالبہ

  بچیوں کے لاپتہ   ہونے کے بعد انہیں تلاش کرنے ، ان سے پوچھ تاچھ کرنے اور ان کے بیانات درج کرنے کے بعد جو باتیں سامنے آئی ہیں، ان سے قانونی ماہرین ، سماجی رضا کار اور پولیس بھی اتفاق کرتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ۳۲؍ فیصد خواتین  اور بچیاں عشق و محبت میں مبتلا ہو کر ، ۲۰؍ سے ۳۲؍ فیصد بچیاں گھریلو و مالی مسائل یا ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار ہونےجبکہ ۱۰؍ فیصد بچیاں و خواتین ذہنی تناؤ،تضحیک و توہین ، گھر اور خاندان والوں کے ذریعہ بد سلوکی کرنے یا امتیازی سلوک کی سبب گھر سے فرار ہوجاتی ہیں ۔یہی نہیں ۱۲؍ سے ۱۳ ؍ فیصد بچیاں  اور خواتین گھریلو تشدد کے سبب بھی گھر سے فرار ہوجاتی ہیں۔

مذکورہ مسائل پر پیروی کرنے والے وکیل آر ڈی میلو کا کہنا ہے کہ ’’غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو اکثر اپنے ہی رشتہ داروں کی جانب سے جسمانی تشدد،  بدسلوکی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں انہیں گھر چھوڑنا یا گھر سے فرار ہونا زیادہ بہتر و آسان فیصلہ لگتا ہے ۔‘‘مذکورہ معاملہ میں ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ’’ گزشتہ ۸؍ ماہ میں ۸؍ سو سے زائد جن بچیوں کو تلاش کیا گیا ہے، ان میں اکثر سائن ، دادر ،سیوڑی ، ملا ڈ، جوگیشوری اور شہر کے دیگر علاقوں کی   ہیں ۔ ان میں اکثر بچیاں ۷؍ ویں تا دہم جماعت میں زیر تعلیم تھی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK