شام کی گلابی دھوپ آنگن میں کھلے چنبیلی کے پھولوں پر یوں بکھری ہوئی تھی، جیسے کسی مصور نے افق کے تمام رنگ مٹی کی اس چھوٹی سی دنیا میں اتار دیئے ہوں۔
ماہِ نور گھٹنوں کے بل بیٹھی ایک ننھے پودے کی جڑوں کو نرمی سے مٹی کی آغوش میں سمیٹ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ مٹی سے اٹے ہوئے تھے، مگر چہرے پر صبح کے ستارے جیسی چمک تھی۔
آج اس کی زندگی کا ایک یادگار دن تھا۔ اس کی وہ تحریر، جسے اس نے کئی راتوں کی بیداری، بے شمار احساسات اور اپنے تجربات کے دھاگوں سے بُنا تھا، ایک معتبر ادبی مقابلے میں اوّل انعام کی مستحق قرار پائی تھی۔
میز پر رکھا ہوا خط اسکی کامیابی کی گواہی دے رہا تھا۔ وہ بار بار اسے اٹھاتی، اپنے نام پر نظریں ٹھہراتی اور بے اختیار مسکرا دیتی۔ دل چاہتا تھا کہ اپنی یہ خوشی کسی ایسے شخص کے ساتھ بانٹے جو اس کی مسکراہٹ میں اپنی مسکراہٹ شامل کر دے۔
اسے سدرہ کا انتظار تھا؛ وہی سدرہ جو بچپن سے اسکی ہم سفر، ہم راز اور زندگی کے کئی خوبصورت لمحوں کی ساتھی رہی تھی۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور سدرہ اندر داخل ہوئی۔ ماہِ نور نے خوشی سے آگے بڑھ کر خط اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’سدرہ! دیکھو، میری تحریر کو پہلا انعام ملا ہے!‘‘ اس کی آواز میں ایسی معصوم خوشی تھی جیسے کسی بچے کو اپنی پہلی کامیابی پر انعام ملا ہو۔
سدرہ نے خط پر نگاہ ڈالی۔ ایک لمحے کے لئے اس کے چہرے پر بے چینی کی ہلکی سی پرچھائیں ابھری، مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے تاثرات پر قابو پا لیا۔
’’اچھا ہے، مگر آج کل ایسی تحریریں کون سا مشکل کام ہیں؟ انٹرنیٹ پر لفظوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ انعام بھی قابلیت سے زیادہ تعلقات اور تشہیر کی بنیاد پر مل جاتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے خط میز پر رکھ دیا۔
ماہِ نور کے لبوں پر ٹھہری مسکراہٹ دھیرے دھیرے مدھم پڑ گئی۔ وہ چند لمحے خاموش رہی، جیسے ابھی ابھی اس کے اندر کھلنے والا کوئی پھول اچانک مرجھا گیا ہو۔
اس نے سوچا، شاید واقعی اسکی کامیابی اتنی بڑی نہیں تھی۔ شاید اسے اتنا خوش نہیں ہونا چاہئے تھا۔
اس روز پہلی بار اس نے اپنی خوشی کو کسی دوسرے کے ردعمل کے ترازو میں تولا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ ماہِ نور کی تحریریں مختلف ادبی حلقوں میں پسند کی جانے لگیں۔ کبھی کسی رسالے میں اس کی تحریر شائع ہوتی، کبھی کسی ادبی نشست میں اسے اظہارِ خیال کی دعوت ملتی۔ مگر سدرہ کا رویہ نہ بدلا۔ کبھی وہ طنز کرتی، کبھی بے اعتنائی دکھاتی اور کبھی ایسی خاموشی اختیار کر لیتی جس میں ماہِ نور کو اپنی خوشی پر شرمندگی محسوس ہونے لگتی۔
رفتہ رفتہ ماہِ نور نے اپنی کامیابیوں کا ذکر کرنا کم کر دیا۔ کوئی اچھی خبر ملتی تو وہ پہلے کی طرح سدرہ کو بتانے کے بجائے اپنے اندر ہی چھپا لیتی۔ اس نے اپنی تحریریں دکھانا چھوڑ دیں، اپنی خوشیوں کا اظہار محدود کر دیا اور دوسروں کی بے اعتنائی سے بچنے کے لئے اپنی مسکراہٹ تک محتاط کر لی۔
عجیب بات تھی کہ اس کے آنگن میں چنبیلی کے پھول بدستور کھلتے رہے، مگر اب وہ انہیں دیکھ کر پہلے جیسی خوشی محسوس نہیں کرتی تھی۔
ایک صبح نانی اماں نے اسے آنگن میں مرجھائے ہوئے پھولوں کے پاس خاموش بیٹھے دیکھا۔ وہ آہستہ سے اس کے قریب آئیں، اس کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا اور پوچھا:
’’کیا بات ہے، بیٹی؟ آج تمہارے چہرے پر وہ روشنی کیوں نہیں جو تمہارے پھولوں میں دکھائی دیتی ہے؟‘‘
ماہِ نور نے اپنی نگاہیں جھکا لیں۔
’’نانی اماں، جب ہماری خوشی سے ہمارے اپنے خوش نہیں ہوتے تو دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے۔ لگتا ہے جیسے ہماری خوشی کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ پھر جی چاہتا ہے کہ اپنی خوشی کسی سے بیان ہی نہ کریں۔‘‘
نانی اماں نے اس کی بات تحمل سے سنی۔ پھر چنبیلی کے ایک پھول کو دیکھتے ہوئے بولیں:
’’بیٹی، ذرا سوچو، اگر کوئی تمہارے پھولوں کی خوشبو محسوس نہ کرسکے تو کیا تم پھول اگانا چھوڑ دو گی؟‘‘
ماہِ نور نے نفی میں سر ہلایا۔
نانی اماں نے بات آگے بڑھائی:
’’ہر انسان دنیا کو اپنی سوچ، اپنے تجربات اور اپنے احساسات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ کبھی کسی کی بے اعتنائی اس کی اپنی الجھنوں کا نتیجہ ہوتی ہے، کبھی موازنے کی عادت اس کے دل میں دوسروں کی خوشیوں کیلئے گنجائش کم کر دیتی ہے۔ لیکن کسی دوسرے کے رویے کو اپنی قابلیت کا پیمانہ بنا لینا اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔ دوسروں کے احساسات کا احترام کرنا اچھی بات ہے، مگر اپنی ذات کی قدر کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں دے دینا اچھی بات نہیں۔ تمہیں اپنی کامیابی پر خوش ہونے کے لئے ہر شخص کی منظوری درکار نہیں، بیٹی۔‘‘
ماہِ نور خاموشی سے سنتی رہی۔ نانی اماں کے الفاظ اس کے دل میں اترتے چلے گئے۔ اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اندر بند ایک کھڑکی کھول دی ہو اور تازہ ہوا کے ساتھ روشنی بھی کمرے میں داخل ہونے لگی ہو۔
اس روز اس نے پہلی بار سمجھا کہ اپنی خوشی کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا محبت ہے، لیکن اس خوشی کی اجازت دوسروں سے طلب کرنا اپنی ذات کو ان کے رویوں کا محتاج بنا دینا ہے۔
کچھ عرصے بعد ماہِ نور کو شہر میں منعقد ہونے والی ایک ادبی نشست میں شرکت کی دعوت ملی، جہاں اس کی تحریروں کو بھی پیش کیا جانا تھا۔ یہ اس کے لئے ایک نیا تجربہ اور ایک اہم موقع تھا۔
جب سدرہ کو اس دعوت کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے حسب ِ سابق طنزیہ انداز میں کہا: ’’اب تو تم بہت بڑی ادیبہ بن گئی ہو!‘‘
یہ جملہ ماہِ نور کے دل کو چھو‘ کر گزرا۔ پرانے زخم کی ہلکی سی ٹیس ابھری، مگر اس بار اس نے اپنی خوشی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
وہ پُرسکون لہجے میں مسکرائی اور بولی:
’’نہیں سدرہ، میں ابھی بہت کچھ سیکھ رہی ہوں۔ لیکن جو کچھ سیکھا ہے، اس پر خوش ہونا بھی چاہتی ہوں۔ ہر کامیابی مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔‘‘
اس نے نہ اپنی قابلیت کا دفاع کیا، نہ سدرہ سے تعریف کی توقع رکھی اور نہ ہی بحث میں الجھی۔
وہ اپنے ارادے کے مطابق ادبی نشست میں شرکت کے لئے روانہ ہوگئی۔
اس روز ماہِ نور کی تحریر کو خوب سراہا گیا۔ کئی لوگوں نے اس کے اندازِ بیان، احساسات کی گہرائی اور لفظوں کی سادگی میں چھپی تاثیر کی تعریف کی۔
مگر اس بار اس کی خوشی کی بنیاد محض دوسروں کی تعریف نہیں تھی؛ اسے اپنے سفر، اپنی محنت اور اپنی مسلسل کوشش پر بھی اطمینان تھا۔
وہ جانتی تھی کہ ہر تحریر بہترین نہیں ہوتی، ہر کوشش کامیاب نہیں ہوتی اور سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ لیکن اب وہ اپنی خامیوں کو سیکھنے کا ذریعہ اور اپنی کامیابیوں کو شکر ادا کرنے کا موقع سمجھنے لگی تھی۔
دوسری طرف، سدرہ تنہائی میں اپنے رویے پر غور کرنے لگی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: فرض
یاسمین انجم شیخ (میرا روڑ، تھانے)
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ ماہِ نور کی کامیابیوں سے زیادہ اسے اپنی ذات کا موازنہ پریشان کرتا رہا تھا۔ جب ماہِ نور کو سراہا جاتا تو اسے اپنی محرومیوں کا احساس ہونے لگتا۔ وہ انجانے میں اپنی زندگی کا حساب ماہِ نور کی کامیابیوں سے کرنے لگتی اور اس بے چینی سے بچنے کے لئے اس کی خوشی کو معمولی ثابت کرنے کی کوشش کرتی۔
یہ احساس اس کے لئے آسان نہیں تھا، مگر اس نے اپنے رویے کو درست ثابت کرنے کے بجائے خود کو سمجھنے کی کوشش شروع کر دی۔
چند ہفتوں بعد ماہِ نور اپنے آنگن میں نئے پودے لگا رہی تھی کہ سدرہ وہاں آپہنچی۔
کچھ دیر دونوں معمول کی باتیں کرتی رہیں، پھر سدرہ نے دھیمی آواز میں کہا:
’’ماہِ نور، مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے۔‘‘
ماہِ نور نے اس کی طرف دیکھا۔
سدرہ نے چند لمحے توقف کیا، پھر بولی:
’’شاید مَیں نے کئی بار تمہاری خوشیوں کو چھوٹا دکھانے کی کوشش کی۔ جب تمہیں کوئی کامیابی ملتی تھی تو مجھے خوش ہونے کے بجائے اپنے اندر ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی تھی۔ مَیں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ تمہاری خوشی کو کم کرکے میری زندگی میں کیا بڑھ جائے گا۔ مجھے اپنے رویے پر افسوس ہے۔ مجھے معاف کر دینا۔‘‘
ماہِ نور نے اس کی بات خاموشی سے سنی۔ اس کے دل میں بیتے ہوئے لمحوں کی کسک اب بھی کہیں موجود تھی، لیکن اس نے سدرہ کی معذرت کو سنجیدگی سے قبول کیا۔
اس نے نرمی سے کہا:
’’سدرہ، تمہاری دوستی میرے لئے آج بھی اہم ہے۔ مَیں نہیں چاہتی کہ ہماری دوستی موازنہ اور مقابلے کی نذر ہو جائے۔ مَیں چاہتی ہوں کہ ہم ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوش ہوں، ایک دوسرے کی کمزوریوں کو سمجھیں اور جہاں ممکن ہو، ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ لیکن ایک بات میں نے ضرور سیکھ لی ہے: میں اپنی خوشی کو کسی دوسرے کے ردعمل سے مشروط نہیں کروں گی۔ تم میری خوشی میں شریک ہو سکو تو یہ میرے لئے دوہری خوشی ہوگی، اور اگر کبھی ایسا نہ ہوسکے تو بھی مَیں اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر کرنا نہیں چھوڑوں گی۔‘‘
سدرہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔
اس لمحے ان کے درمیان صرف معذرت اور معافی کا تبادلہ نہیں ہوا تھا، بلکہ دوستی کو زیادہ سچے اور متوازن انداز میں نبھانے کی ایک نئی گنجائش پیدا ہوئی تھی۔
دونوں نے مل کر پودوں کو پانی دیا۔ آنگن کی مٹی سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو میں جیسے ایک نئے آغاز کی لطافت شامل ہوگئی تھی۔
اس رات ماہِ نور نے اپنی ڈائری کھولی۔ سفید صفحے پر قلم رکھتے ہوئے اسے نانی اماں کی بات یاد آئی۔
اس نے کچھ دیر سوچا، پھر لکھنے لگی:
مَیں اپنی خوشیوں کے لئے کسی کی اجازت کی محتاج نہیں ہوں۔
میری کامیابی کسی دوسرے کی تعریف سے بڑی نہیں ہوتی، اور نہ کسی کی بے اعتنائی سے چھوٹی پڑتی ہے۔
مَیں دوسروں کی خوشیوں میں دل سے شریک ہوں گی، ان کے احساسات کا احترام کروں گی اور اپنی غلطیوں سے سیکھتی رہوں گی۔ مگر اپنی ذات کی قدر کا فیصلہ دوسروں کے بدلتے ہوئے رویوں کے حوالے نہیں کروں گی۔
مَیں اپنے اندر کے چراغ کو روشن رکھنے کی ذمہ دار خود ہوں۔
اس نے قلم رکھا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ چنبیلی کے پھول رات کی خاموشی میں آہستہ آہستہ جھول رہے تھے۔ ان کی خوشبو کسی ایک شخص کے لئے مخصوص نہیں تھی؛ وہ ہوا کے ساتھ ہر سمت پھیل رہی تھی۔
ماہِ نور کے لبوں پر ایک مطمئن مسکراہٹ آگئی۔
اب وہ جانتی تھی کہ خود اعتمادی کا مطلب اپنی ذات کو دوسروں سے برتر سمجھنا نہیں، بلکہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفر پر قائم رہنا ہے۔ خودداری کا مطلب رشتوں سے منہ موڑ لینا نہیں، بلکہ رشتوں کو نبھاتے ہوئے اپنی ذات کا احترام بھی برقرار رکھنا ہے۔
زندگی میں ہر شخص ہماری خوشیوں کو سمجھ نہیں پائے گا، ہر دل ہماری کامیابی پر یکساں طور پر نہیں دھڑکے گا اور ہر تعلق ہماری توقعات پر پورا نہیں اترے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اپنی مسکراہٹ، اپنے خواب اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں دوسروں کے رویوں کی نذر کر دیں۔
زندگی کی اصل آزادی یہ نہیں کہ دنیا ہماری قدر کو تسلیم کر لے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کے بدلتے رویوں کے باوجود ہم اپنی قدر پہچاننا نہ بھولیں۔
کیونکہ جو شخص اپنی خوشیوں کی قدر کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ دوسروں کی بے اعتنائی کے باوجود زندگی کی خوبصورتی سے اپنا رشتہ قائم رکھتا ہے۔
وہ محبت کرنا نہیں چھوڑتا، مگر اپنی ذات کو فراموش بھی نہیں کرتا۔
وہ دوسروں کے لئے چراغ جلاتا ہے، مگر اپنے چراغ کی حفاظت کرنا بھی سیکھ لیتا ہے۔
اور پھر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے آنگن میں پھول نہیں اگا رہا تھا؛ وہ اپنے اندر خود اعتمادی، خودداری اور شکرگزاری کے بیج بھی بو‘ رہا تھا۔
وہ کسی اور کی روشنی کا محتاج نہیں رہا تھا۔
وہ اپنی روشنی کا وارث خود بن چکا تھا۔