شام میں شہریوں کوغیرمعمولی بھوک کا سامنا،۹۳؍لاکھ افراد خوراک سے محروم: اقوام متحدہ

Updated: June 30, 2020, 7:34 AM IST | Agency | New York

اقوام متحدہ کےعالمی فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیاہے کہ شام میں شہریوں کو غیر معمولی بھوک کا سامنا ہے اور۹۳؍لاکھ افراد مناسب خوراک سے محروم ہیں

Syria - Pic : INN
شام ۔ تصویر : آئی این این

اقوام متحدہ کےعالمی فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیاہے کہ شام میں شہریوں کو غیر معمولی بھوک کا سامنا ہے اور۹۳؍لاکھ افراد مناسب خوراک سے محروم ہیں۔ڈبلیو ایف پی کی ترجمان ایلزبیتھ بیئرس کا کہنا تھا کہ ’’شام کے شہری اس وقت غیر معمولی بھوک کے بحران کا شکار ہیں اور غذائی اجناس کی قیمتیں۹؍ سالہ خانہ جنگی کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔‘‘ترک نیوز ایجنسی ’انادولو‘کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’’شام میںلاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔‘‘جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ غذائی قلت کے شکار شامی افراد کی تعداد میں صرف گزشتہ ماہ میں مزید۱۴؍ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شام کی معیشت کے لیے پُل کا کردار ادا کرنے والی لبنانی معیشت بھی گر گئی ہے اور دونوں ممالک میں خطرناک صورت حال پیدا ہوئی ہے۔‘‘ ایلزبیتھ بیئرس نے کہا کہ ’’کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن جیسے اقدامات سے ایک سال کے اندر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں ۲۰۰؍فیصد اوپر چلی گئی ہیں۔‘‘ان کا کہناتھا کہ بحران سے قبل غذائی اجناس کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو ان میں۲۰؍گنا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بحران سےقبل بنیادی ضروریات کی ایک ٹوکری کی قیمت۴؍ہزار شامی پاؤنڈ تھی اور اب اس کی قیمت ۷۶؍ ہزار شامی پاؤنڈ ہوچکی ہے۔رپورٹ کے مطابق شہری کھانے میں کمی کرنے اور جائیدادیں بیچنے پر مجبور ہوچکے ہیں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ’’شام میں عوام ایسی صورت حال سے گزر رہے ہیں جن سے وہ نبردآزما نہیں ہوسکتے، وہ اپنی بچت کے خاتمے اور گھروںکی فروخت کے باوجود ضروریات پوری نہ ہونے پر شدید دباؤ میں ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’ان سب کےباجود شہریوں کو اب بھی غربت اور بھوک کا سامنا ہے۔‘‘ڈبلیو ایف پی کا کہنا تھا کہ شام میں سال کے اختتام پر عوام کو غذائی امداد جاری رکھنے کیلئے ۲۰؍ کروڑ ڈالر کی ہنگامی بنیادوں پر ضرورت ہے۔ایلزبیتھ بیئرس نے کہا کہ اگست میںنئےفنڈز کے اجرا تک ادارہ شام کے عوام کو راشن کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر کمی کرنے پر مجبور ہوگا اور اکتوبر۲۰۲۰ء سے غذائی ضروریات کی تکمیل کے لیے زیادہ افراد رجوع کریں گے۔ انسانی حقوق کےشامی مبصر ادارے نےگزشتہ ماہ کہا تھا کہ شام میں گزشتہ۹؍ برس کے دوران ایک لاکھ ۱۶؍ہزار شہریوں سمیت ۳؍ لاکھ ۸۴؍ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 
 رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مارچ ۲۰۱۱ء میں شروع ہونی والی جنگ میں ہلاک ہونے والوں میںبچوںاور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے اور اب تک ۲۲؍ ہزار بچے اور ۱۳؍ہزار خواتین جاں بحق ہوئے ہیں۔انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ نے معیشت کو تباہ کر دیا اور ایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ سے زائد شامی باشندے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK