آصف اقبال کے معاملہ میں عدالت نے دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی

Updated: May 30, 2020, 8:12 AM IST | New Delhi

دہلی کی عدالت نے پولیس کی کیس ڈائری اور ’حقائق ‘ پرسنگین سوال اٹھائے ، پولیس کی یکطرفہ جانچ پر برہمی کا اظہار، ایک کیس میں ضمانت مل گئی۔

Asif Iqbal Tanha. Photo: INN
آصف اقبال تنہا ۔تصویر: آئی این این

 سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں گزشتہ ہفتےگرفتار کئے گئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہاؔ کو دہلی کی عدالت نے جامعہ تشدد کے معاملے میں ضمانت دے دی ہے جبکہ دیگر معاملے میں پولیس کی سخت سرزنش کی ہے۔’ دی وائر‘ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج گورورائو نے آصف کو۲۵؍ ہزار روپے کے مچلکے اور اتنی ہی رقم پر ضمانت دی ہے۔ عدالت نے اس بات پر غور کیا کہ اس معاملے میں ۱۰؍ میں سے ۸؍ ملزمین ضمانت پرہیں اور یہ ملزم بھی محض ۲۴؍ سال کا طالب علم ہے۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کی پچھلی زندگی صاف ستھری رہی ہے اور دیگر ملزمین کے ضمانت پر ہونے کی وجہ سے اسے بھی ضمانت ملنی چاہئے۔ 
 اس سے قبل آصف کو ۲۷؍ مئی(بدھ) کو پٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کرتے ہوئے پولیس نے۳۰؍ دن کی عدالتی حراست کا مطالبہ کیا تھا۔ اس دوران ایڈیشنل سیشن جج دھرمیندر رانا نے پولیس کی تفتیش اور کیس ڈائری کے بخیے ادھیڑ دئیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس ڈائری کو پڑھنے پر پریشان کن حقائق سامنے آئے ہیں ۔ جانچ میں ایک ہی فریق کو نشانہ بنایا جانا صاف نظر آرہا ہے ۔ ساتھ ہی انسپکٹر لوکیش اور انل دوسرے فریق کے بارے میں اب تک کی گئی جانچ کے بارے میں بتانے میں ناکام رہے ہیں ۔ عدالت نے اس معاملے میں متعلقہ ڈی سی پی کو نگرانی کرنے اور غیر جانبدار جانچ کو یقینی بنانے پر زور دیا تھا ۔
  ادھردی کوئنٹ ڈاٹ کام‘ کے مطابق شنوائی میں آصف کی وکیل سوجھنیا شنکرن نے کہا کہ دہلی فسادات کی تحقیقات کے معاملے میں عدالت کا یہ مشاہدہ انتہائی اہم ہے۔ فسادات کے سلسلےمیں پولیس کے ذریعے گرفتار کئے گئے افراد میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی اکثریت ہے۔ لہٰذا عدالت نے بالواسطہ طور پر سماجی کارکنان کے ان الزامات کی توثیق کردی ہے کہ پولیس دائیں بازو کے لوگوں کے ساتھ نرمی برت رہی ہے اور بنیادی طور پر سی اے اے مخالف مظاہرین کو نشانہ بنارہی ہے۔ شنکرن نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کوجھوٹے معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔ وہ اپنے گھر کا واحد کمانے والا اوراسی کے ساتھ اس ایک ریستوراں میں پارٹ ٹائم ملازم ہے۔ انہوں نے عدالت اسے فوراً ضمانت دینے کی اپیل کی ۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے اس کی مخالفت کی لیکن عدالت نے ان کی نہیں سنی ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK