• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک گیر ہڑتال کا کئی ریاستوں میں زیادہ تو کئی ریاستوں میں جزوی اثر

Updated: February 13, 2026, 8:15 AM IST | New Delhi

ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑا، بہار میں ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی زبردست بھیڑ دیکھی گئی، پنجاب، ہریانہ اوربنگلور میںکسان مورچہ اور ٹریڈ یونینوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا

Protesters clash with police in Bengaluru
بنگلور میں پولیس کے ساتھ متصادم مظاہرین

مرکزی حکومت کے چار نئے لیبر قوانین کے خلاف کسان، ٹریڈ یونین اور۱۰؍ سے زائد مزدورں تنظیموں نےجمعرات کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا، جس کا کئی ریاستوں میں واضح اثر دیکھا گیا۔اتر پردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، کرناٹک، تلنگانہ، تمل ناڈو، کیرالا، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں مزدوریونینوں میں شامل کارکنان نے کام کا بائیکاٹ کیا۔ اس ہڑتال کی کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتیں بھی کی حمایت کر رہی ہیں۔کسان اور مزدور تنظیموں نے ہند،امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے ساتھ ہی نئے لیبر کوڈ، بجلی بل۲۰۲۵ء، بیج بل  اور منریگا کی جگہ پر لائی گئی’ وی بی جی رام جی قانون‘ کی مخالفت کی ہے اور سڑک پر اُتر کر احتجاج کیاہے۔
 جمعرات کوسنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ احتجاج نیو لیبر کوڈ کو واپس لینے، بجلی اور بیج سے متعلق مجوزہ قوانین کو رد کرنے، وی بی جی رام جی قانون کو منسوخ کرنے، پرانی پنشن اسکیم بحال کرنے اور مزدوروں سمیت اسکیم کارکنان کیلئے کم از کم اجرت نافذ کرنے جیسے مطالبات پر مرکوز ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ زرعی مزدور یونینوں کا پلیٹ فارم اور نریگا سنگھرش مورچہ بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ احتجاج کی حمایت کرنےوالی ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال میں منظم اور غیر منظم شعبوں کے لاکھوں مزدور شامل ہیں۔ خیال رہے کہ کسان تنظیموں نے بھی دو دن قبل کسانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل ہو کر صنعتی مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ کسانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیاں کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنائی جا رہی ہیں، جس سے عام لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے۔
 اس یکروزہ ہڑتال کا  اترپردیش، بہار، پنجاب،  ہریانہ اور مغربی بنگال کےساتھ ہی جنوبی ہند کی ریاستوں میں خاصا اثر دیکھا گیا۔ ان ریاستوں میں غیر منظم شعبوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی اور بینکوں کے لاکھوں ملازمین بھی احتجاج میں شامل رہے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر معمولات زندگی متاثر ہوئی۔ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑا۔ کئی ریاستوں میںسرکاری ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں زیادہ تر ڈپوں سے سڑکوں سے غائب تھیں، جبکہ نجی بسیں، آٹورکشا اور ٹیکسی خدمات بھی ہڑتال میں شامل ہوگئیں، جس سے کئی بڑے شہروں میں سڑکیں سنسان ہو گئیں۔اس کا بوجھ ریلوے پر پڑا۔ پٹنہ میںریلوے کی حالت کچھ اس طرح کی تھی گویا ملک میں ایک بار لاک ڈاؤن لگنے کااعلان ہونے والا ہے۔اسی طرح بینکوں اور سرکاری دفاتر میں بھی کم ہی حاضری رہی۔ ہڑتال کے پیش نظر کئی ریاستوں میں اسکولوں اور کالجوں سمیت بعض تعلیمی اداروں نے کام کو روک دیا تھا  اور کچھ طے شدہ امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے۔ 
 پنجاب، ہماچل، ہریانہ اور جموںکشمیر سمیت ملک بھر میں لاکھوں بجلی ملازمین اور انجینئروں نے بھی کام کا بائیکاٹ کر کے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ ان کی اہم مانگوں میں بجلی کے شعبے کی نجکاری روکنا، الیکٹرسٹی (امینڈمنٹ) بل کی واپسی اور پرانی پنشن اسکیم کی بحالی شامل ہیں۔ آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن  کے چیئرمین شیلندر دوبے نے اسے آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی صنعتی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار کسان تنظیمیں اور ٹریڈ یونینیں متحد ہو کر بجلی کے شعبے کو بچانے کیلئے کھڑی ہوئی ہیں۔
 پنجاب کےہوشیارپور میں مشترکہ کسان مورچہ اور ٹریڈ یونینوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا۔ خواتین سمیت مظاہرین نے شہید اودھم سنگھ پارک سے بس اسٹینڈ تک مارچ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس بند کو پنجاب کی حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی سمیت کئی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ ریاستی  انجینئرز اسوسی ایشن کے مطابق بڑے شہروں اور قصبوں میں ملازمین کا’ورک بائیکاٹ‘ مکمل طور پر نمایاں رہا۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK