داخلے کےمعاملہ میں ممبئی یونیورسٹی کےشعبۂ اردو نےتاریخ رقم کر دی

Updated: January 25, 2021, 11:24 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

امسال یونیورسٹی کے دیگر شعبوںمیں برائے نام نئے داخلے ہوئے ہیں جبکہ شعبۂ اُردوکے ایم اے میں داخلے کیلئے پہلی مرتبہ سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں

Dr Abdullah
ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد

کوروناوائرس اور لاک ڈائون کے پیش نظر جہاں ممبئی یونیورسٹی کے دیگر شعبوںمیں برائے نام نئے داخلے ہوئے ہیں وہیں شعبۂ اُردوکے ایم اے میں داخلے کیلئے پہلی مرتبہ سب سے زیادہ ۱۱۵؍ درخواستیں موصول ہوئی ہیں  اوران میں سے ۹۰؍داخلے کنفرم بھی ہوچکےہیں۔ واضح رہے کہ عموماً ہر سال ۵۰؍تا ۵۵؍ داخلے ہوتے تھے۔  اس سے یہ ثابت ہورہاہےکہ مہاراشٹرمیں اُردو زبان کے پھلنے پھولنے کیلئے اب بھی مواقع موجود ہیں۔
      ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو (ایم اے) سال ۲۱۔۲۰۲۰ء  میں داخلےکیلئے موصول ہونے والی درخواستوں نے تاریخ رقم کردی ہے ۔ واضح رہے کہ ممبئی یونیورسٹی میں شعبۂ اردوکا قیام ۱۹۸۲ء میں کیاگیاتھا۔گزشتہ ۳۸؍سال میں پہلی مرتبہ ایم اے اردو کیلئے ۱۱۵؍درخواستیں موصول ہوئی ہیں  ۔ جبکہ مجموعی طورپر ۹۵؍ داخلے کی گنجائش ہے۔ ۸؍ دسمبر ۲۰۲۰ء سےآن لائن داخلے کی کارروائی جاری ہے ۔ایم اے اُردو کیلئے ۱۹۸۲ء سے ہر سال عموماً ۵۰؍تا ۵۵؍درخواستیں موصول ہوتی تھیں مگر ۲۰۔۲۰۱۹ء میں اچانک۷۴؍ درخواستیں موصول ہوئیں اور امسال  ۲۱۔۲۰۲۰ء میں درخواستوں کی تعداد ۱۱۵؍ تک پہنچ گئی ہے۔
  صدر شعبۂ اردو ، ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد کے مطابق ’’ مرحوم پروفیسر صاحب علی کے بعدان کی نگرانی میںجاری رہنے والےایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کا کوئی نگراں نہیں تھا۔ اس وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہاہے تھا۔ ان طلبہ کے لئے سب سے پہلےنگراں کا بندوبست کرایا گیا۔ بعد ازیں شعبے کےمتعدد رکے ہوئے کام مثلاً  ۲؍سال  سے ایم فل کے طلبہ کے مقالے جمع نہیں ہوپائے تھے انہیں جمع کرایاگیا۔ اسی طرح دیگر کاموںکو پورا کرنےکیلئے ریسرچ کمیٹی کی ہنگامی میٹنگ طلب گئی ۔ کووڈ۱۹؍ اور لاک ڈاوَن سے جہاں ممبئی یونیورسٹی کا ہر شعبہ متاثر رہا اور داخلے  کے تعلق سے پریشانی رہی وہیں شعبہ ٔ  اردو میں اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کا داخلہ اردو کے مستقبل کے لئے خوش آئند بات ہے ۔‘‘
 ڈاکٹر عبداللہ امتیاز کےبقول’’ ایم اے اردو کے داخلے میں اضافہ کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں ۔ ہم نے متعدد تنظیموں اور سوشل میڈیا مثلاً وہاٹس ایپ ، موبائل اور فیس بُک وغیرہ کے ذریعے بھی عوام سے داخلہ لینے کی اپیل کی تھی۔ اس سے بھی کافی مدد ملی ہے۔ ساتھ ہی کووڈ ۱۹؍ اور لاک ڈائون کے تناظر میں فیس کی ادائیگی کیلئے قسط کی سہولت مہیا کرائی گئی ہے ۔ مالی دشواریوںکی وجہ سے جو طلبہ فیس ادانہیں کر سکتے تھے ایسے ۸۔۱۰؍ طلبہ کی فیس کا بھی انتظام کیاگیاہے ۔ اس طرح کی سرگرمیوںکے علاوہ شعبہ کے معاونین کا تعاون بھی اس کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے۔ ان دنوں لاک ڈائون کی وجہ سے لیکچر نہیں ہورہےہیں ۔ ۲۷؍جنوری سے ایم اے فرسٹ ائیر اور ۱۰؍ فروری سے ایم اے سیکنڈ ائیر کی آن لائن کلاس شروع ہونےوالی ہے۔ جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے کی کارروائی بھی جاری ہے۔۲۸؍ جنوری سے ان کورس کیلئے درخواستیں دی جاسکتی ہیں۔ ‘‘

اردو سے دلچسپی

  لاک ڈائون میں ایم اے اردو میں اتنی بڑی تعدادمیں داخلے کی کوئی خاص وجہ  دریافت کرنے  پر شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمدنے کہا کہ ’’ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہےکہ ممبئی سمیت مہاراشٹرمیں اب بھی اردو زبان وادب میں دلچسپی رکھنے والوںکی کثیر تعداد موجود ہے۔ لوگ اُردو زبان پڑھنا چاہتےہیں ۔ اس کی ایک عمدہ مثال ۸۷؍ سالہ ضعیف چندر ٹھاکر ہیں ۔یہ ہمارے اُردو شعبہ کے سب سے عمررسیدہ طالب علم ہیں۔ اس عمر میں بھی وہ اُلہاس نگر سے بروقت کلاس میں حاضر ہوتے رہے ہیں۔ یہ اُردو سے چاہت ہی تو ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK