یوپی میں کورونا سے براحال، لکھنؤ کی حالت ابتر، اپوزیشن کی یوگی پر سخت تنقید

Updated: April 14, 2021, 10:00 AM IST | Lucknow

نئےکیسز میں ریکارڈ اضافہ اور ایک دن میں ۷۲؍ اموات۔ریاست میں فعال معاملات کی تعداد ۸۰؍ ہزار سے زائد ہوئی۔ایمبولینس اور اسپتالوں میں بیڈ کی کمی کا اعتراف خود حکومت نے کیا، ریاستی وزیرقانون کا محکمہ صحت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری کے نام خط، لکھنؤ کی صورتحال پر افسوس کااظہار کیا۔کانگریس کی سرکار پر تنقید، کہا: یوگی سے راجدھانی بھی نہیںسنبھل پا رہی ہے

The migrant workers are once again on their way home.Picture:INN
مہاجرمزدور ایک بار پھر اپنے گھر کی راہ لے رہے ہیں تصویر آئی این این

کورونا کی وجہ سےیوں تو پورا ملک پریشان ہے لیکن بعض ریاستوں کی صورتحال تشویش ناک حد تک خراب ہے۔ ان میں اترپردیش کا بھی شمار ہوتا ہے۔ یہاں ایک دن میں۱۸؍ ہزار سے زائد نئے معاملات سامنے آئے ہیں جبکہ اس عرصے   میں ۷۲؍ اموات بھی ہوئی ہیں۔ نئے معاملات میں اضافہ اور شفایاب ہونے والوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے فعال معاملات کی تعدا د میں بھی کافی اضافہ ہورہا ہے۔ فی الحال ریاست میں ۸۰؍ ہزار سے زائد ایکٹیو کیسز ہیں۔ اترپردیش کے تمام شہروں میں راجدھانی لکھنؤکی حالت زیادہ ابتر ہے۔یہاں ایمبولینس اور اسپتالوں میں بستروں کی قلت کا اعتراف خود حکومت نے کیا ہے۔ ریاستی وزیر قانون نے محکمہ صحت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری کوخط کر راجدھانی کی تشویشناک صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ریاست اور راجدھانی میں سخت لاک ڈاؤن ناگزیر ہوگا۔اس پر اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوںلیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ یوگی سے  راجدھانی بھی نہیں سنبھل پارہی ہے۔
 کورونا کی دوسری لہر میں مہاراشٹر کی راہ  پر  اترپردیش بھی چل پڑی ہے۔ یہاں گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں میں۱۸؍ ہزار سے زائد نئے معاملے سامنے آئے ہیںجبکہ اس عرصے میں   ۷۲؍ اموات بھی ہوئی ہیں۔ اس درمیان صرف ۳۱۹۷؍ مریض ہی ٹھیک ہوسکے ہیں۔اس کی وجہ سے فعال معاملات  میں کافی اضافہ ہوا ہے۔اس طرح ایکٹیو کیسز کی تعداد ۸۱؍ ہزار ۵۷۶؍ ہوگئی ہے۔ اس میں ریاستی راجدھانی لکھنؤ کی صورتحال زیادہ ابتر ہے۔ لکھنؤ میں کورونا انفیکشن کی بڑھتی تعداد کے سلسلے میں ریاست کے وزیر قانون برجیش پاٹھک نے محکمہ صحت کے  ایڈیشنل چیف سکریٹری اور  پرنسپل سکریٹری کو خط لکھ کر حالات کو سنبھالنے کی اپیل کی ہے۔اسی کے ساتھ انہوں نے  متنبہ بھی کیا کہ اگر حالات کو وقت رہتے کنٹرول نہیں کیا گیا تو ریاست اور راجدھانی میں لاک ڈاؤن ناگزیر ہوگا۔ خیال رہے کہ صرف لکھنؤ میں اتوار کو تقریباً ساڑھے چار ہزار اورپیر کو تقریباً ۴؍ ہزار نئے مریضوں  کی شناخت ہوئی ہے۔ پیر کو ریاست  میں ہونےوالی ۷۲؍ اموات میں سے۲۱؍ کا تعلق لکھنؤ سے ہے۔ انہوں نے سیکریٹریز کے نام اس خط میں لکھا  ہے کہ راجدھانی میںیومیہ۴؍ سے۵؍ ہزار کورونا کے مریض مل رہے ہیں۔ایسے میں اسپتالوں کی حالت کیا ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ ابھی  سے اسپتالوں میںبستروں کی قلت محسوس کی جارہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ لکھنؤ کے پرائیویٹ پیتھالوجی سینٹروں میں جانچ بند کرا دی گئی ہے اور سرکاری اسپتالوں میں کووڈ کی جانچ میں کئی دنوں کا وقت لگ رہا ہے۔اس صورتحال پر اپوزیشن نےیوگی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔کانگریس نے کہا کہ یوگی صرف باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں  جبکہ ان سے  ریاست کی راجدھانی بھی سنبھل نہیں پا رہی ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للو نے وزیرقانون کے مذکورہ خط کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ جس وزیراعلیٰ سے ریاست کی راجدھانی نہیںسنبھل رہی ہے، وہ پوری ریاست کو بھلا کس طرح سنبھالے گا؟

lucknow Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK