• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹائیگرشراف پر حملے کا معاملہ: وڈیٹیوار کا سوال ’’کیا وزارت داخلہ کا خوف ختم ہوگیا؟‘‘

Updated: October 20, 2026, 2:24 PM IST | Ali Imran//Inquilab News Network | Chandrapur/Mumbai

چندر پور میں میڈیا کےنمائندوں سے بات چیت میں وجے وڈیٹیوارنے فرنویس حکومت پر شدید تنقید کی اور اہم سوالات قائم کئے۔

Vijay Wadettiwar. Picture: INN
وجے وڈیٹیوار۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں بڑھتے فائرنگ اور قتل کے واقعات اور ریاست کی امن و امان کی صورتِ حال پر سنگین سوالات قائم کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹیوار نے لارنس بشنوئی گینگ کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، پہلے سابق وزیر بابا صدیقی کا قتل ہوا، اسکے بعد اداکار سلمان خان کے گھر پر فائرنگ ہوئی اور اب اداکار ٹائیگر شراف کی گاڑی پر گولیاں چلائی گئی ہیں۔ ان تمام واقعات کی ذمہ داری بدنام زمانہ لارینس بشنوئی گینگ کھلے عام قبول کر رہی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے بعد اب لارینس بشنوئی گینگ پورے مہاراشٹر پر اپنا قبضہ جمانے اور اپنی سلطنت قائم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔

وڈیٹیوار نے کہا کہ ممبئی جیسے شہر میں دن دہاڑے فلمی ستاروں اور سیاسی لیڈروں پر گولیاں چلا کر دہشت پھیلائی جا رہی ہے، تو آخر محکمۂ داخلہ کیا کر رہا ہے؟ کیا گینگسٹرز کو ملنے والی یہ طاقت اور حوصلہ حکومت کی سرپرستی میں ہی حاصل ہو رہا ہے؟ اس معاملے کی وضاحت وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کو کرنی چاہیے،  چندرپور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وجے وڈیٹیوار نے محکمۂ داخلہ کی غفلت پر سخت تنقید کی۔

یہ بھی پڑھئے:کل جیو کا آئی پی او لانچ ہوگا، سرمایہ کاروں میں ۳۰؍ گنا زیاہ مانگ

ممبئی میں بڑھتے ہوئے جرائم کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ ایک زمانے میں ممبئی میں داؤد ابراہیم کے گینگ نے دہشت مچا رکھی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کیا تھا۔ لیکن اب ایک بار پھر اسی طرز پر بشنوئی گینگ کا نیٹ ورک مہاراشٹر میں سرگرم ہو گیا ہے۔ مسلسل تین سے چار بڑے واقعات میں اسی گینگ کے براہِ راست ملوث ہونے کا دعویٰ خود ملزمین کھلے عام کر رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مہاراشٹر میں بشنوئی گینگ کو مضبوط کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔" وجے وڈیٹیوار نے سوال کیا کہ جیل میں بیٹھ کر نیٹ ورک کیسے چلایا جا رہا ہے؟۔ گینگ کا سرغنہ لارنس بشنوئی خود جیل میں ہے، اس کے باوجود اس کا گینگ کھلے عام ممبئی آ کر فائرنگ کرتا ہے، قتل کی وارداتیں انجام دیتا ہے اور فرار ہو جاتا ہے۔ مجرموں کے دل میں پولیس یا قانون کا ذرہ برابر خوف باقی نہیں رہا۔ محکمۂ داخلہ اتنا کمزور کیوں ہو گیا ہے؟ حکومت ان مجرموں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ و وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کی کارکردگی پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے وڈیٹیوار نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اٹھائے گئے سوالات کو دہراتے ہوئے کہا، اگر ممبئی جیسے بین الاقوامی سطح کے انتہائی حساس شہر میں فلمی اداکار، سیاسی رہنما اور معروف شخصیات محفوظ نہیں ہیں، تو گلی محلوں میں رہنے والے عام شہری اپنی حفاظت کی امید کس سے رکھیں؟ بار بار ایسے واقعات کا پیش آنا محکمۂ داخلہ اور حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔ وڈیٹیوار نے کہا، مجرموں کو قانون کا خوف دلانا اور عوام کو تحفظ کی ضمانت دینا محکمۂ داخلہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ٹائیگر شراف پر فائرنگ کے معاملے کی تہہ تک پہنچ کر اصل سازش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ محکمۂ داخلہ کا کام صرف ٹی وی پر آ کر وضاحتیں دینا اور بڑے بڑے دعوے کرنا  نہیں ہے بلکہ عوام کواصل تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔‘‘

’’اہم شخصیات اور شہریوں کی حفاظت نہ کرنے والی حکومت کو تحلیل کر دینا چاہئے‘‘

 شیو سینا (ادھو) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے اداکار ٹائیگر شراف پر فائرنگ کے واقعے پر مہاراشٹر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ  مہایوتی حکومت کو فوری طور پر برطرف کر کے صدر راج  نافذ کیا جائے کیونکہ اس حکومت میں شہریوں اور معروف شخصیات کی جانیں محفوظ نہیں ہیں۔ ریاست اور ممبئی میں ۱۹۹۰ء کی طرح گینگسٹر دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ممبئی کے جوہو میں ۱۸؍کتوبر کی شام کواداکارجیکی شراف کے بیٹے ٹائیگر شراف کی کارپر۳؍ حملہ آوروں نے فائرنگ کی تھی اور فرار ہو گئے تھے۔اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے سنجے راؤت نے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے اسے جرائم پر قابو پانے میں ناکام قرار دیا ۔راؤت نے براہ راست وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فرنویس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ریاست میں قانون کی بالادستی قائم رکھنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن صورتحال اب ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔ مہاراشٹر کی موجودہ صورتحال ’جنگل راج‘کی ہوچکی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK