شہرومضافات میں شرحِ اموات میں ۱۲؍فیصد کااضافہ

Updated: October 06, 2021, 8:59 AM IST | saadat khan | Mumbai

پرجافائونڈیشن کی رپورٹ میں انکشاف ، بی ایم سی نے دعویٰ کیاہےکہ ۲۰۳۰ءمیں ایک لاکھ کی آبادی میں ایک بھی شہری کو ٹی بی نہیں ہوگی جبکہ ۲۰۲۰ء میں ٹی بی کے ۲۹۸؍کیس تھے۔ اسی طرح تمام وبائی امراض ختم کرنےکا دعویٰ کیاگیاہے مگر ۲۱-۲۰۲۰ء میں ملیریا کے ۱۵؍ہزار ۶۲۳، ڈینگو کے ۹؍ہزار ۷۲؍اور ایچ آئی وی کے ۲؍ہزار ۹۴۱؍معاملات سامنے آئے

It has been suggested to improve the public health situation in Mumbai The picture below is of Nair Hospital..Picture:Inquilab
ممبئی میں صحت عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔زیرنظرتصویر نائراسپتال کی ہے ۔ تصویر انقلاب

:شہرو مضافا ت میں شرح ِ اموات میں   ۱۲؍ فیصدکا اضافہ ہواہے ۔ نیشنل بلڈنگ کوڈ کے تحت ہر ۱۵؍ہزار کی آبادی پر ایک ڈسپنسری ہونی چاہئے جس کے مطابق ممبئی میں آبادی کے لحاظ سے ۸۵۸؍ ڈسپنسریوں کی ضرور ت ہے جبکہ شہر میں صرف ۱۹۹؍ڈسپنسریاں ہیں۔ طبی  اور نیم طبی شعبےمیں ۲۰۲۰ءمیں بالترتیب ۴۴؍ اور ۴۵؍ فیصد  اسامیاں خالی تھیں۔ کووڈ۱۹؍ کے تناظرمیں ان اسامیوں کو ترجیحی بنیادپر پُر کیاجاناچاہئے مگر ابھی تک انہیں پُر نہیں کیاگیاہے۔ ۱۸۷؍ ڈسپنسریوں میں سے صرف ۱۵؍ ڈسپنسریاں ۱۴؍گھنٹوں کے لئے کھولی جاتی ہیں جبکہ  بقیہ  ڈسپنسریاں  صرف ۵؍تا ۸؍گھنٹے کیلئے ہی کھلتی ہیں۔ اسی طرح دیگر طبّی شعبوںکی رپورٹ سے متعلق تفصیلی معلومات غیرسرکاری ادارے ’پرجا فائونڈیشن‘ کی طرف سےمنگل کو ’’اسٹیٹ آف ہیلتھ اِن ممبئی ‘‘ کےعنوان سے منعقد ہ آن لائن پریس کانفرنس کے دوران دی گئیں۔
 بی ایم سی سے آر ٹی آئی کےذریعےحاصل کردہ رپورٹ کے مطابق ۲۱-۲۰۲۰ء میں انڈر اسکول ہیلتھ اسکیم کی معرفت کسی بچے کی اسکریننگ نہیں کی گئی ۔ یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ ۲۰۳۰ءمیں ایک لاکھ کی آبادی میں کسی بھی  شہری کو ٹی بی کی شکایت نہیں ہوگی جبکہ ۲۰۲۰ء میں ٹی بی کے ۲۹۸؍کیس درج کئے گئے تھے۔ اسی طرح ۲۰۳۰ء تک تمام وبائی امراض ختم کرنےکا دعویٰ کیاگیاہے مگر ۲۱-۲۰۲۰ء  میں ملیریا کے  ۱۵؍ہزار ۶۲۳،  ڈینگو کے ۹؍ ہزار  ۷۲؍ اور ایچ آئی وی کے ۲؍ہزار ۹۴۱؍ معاملات  سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ۲۰۱۵ءتا ۲۰۱۹ء  ذیابیطس سے ہونےوالی اموات کی شرح میں ۳۵۲؍فیصد کا اضافہ ہواہے ۔ پبلک ہیلتھ کمیٹی کی میٹنگ میں کارپوریٹروں نے ہر ۴؍ میں سے ایک سوال اسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروںکے نام کی تبدیلی سےمتعلق  اُٹھائے ۔
 پریس کانفرنس کی ابتداءمیں پرجافائونڈیشن کے ٹرسٹی نیتائی مہتا نےکہاکہ ’’کورونا بحران کے دوران یہ بات واضح طورپر ثابت ہوگئی ہےکہ ہماری زندگی کے تحفظ کیلئے  ِ طب کا عمدہ نظام ہونا بے حد ضروری ہے ۔ایسی وبائی صورتحال میں اعلیٰ قسم کے ہیلتھ انفرااسٹرکچر اورمطلوبہ تعداد میں میڈیکل اسٹاف کاہونا انتہائی ضروری ہے ۔ کورونا سے نمٹنےمیں جن کووڈ واریئررس نے دن رات محنت کی ہے،  ان کی طبّی اور سماجی خدمات کا اعتراف کرتےہوئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتےہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ اگر ممبئی کو عالمی درجہ کا شہر بناناہے تو ہمیں اپنی طبّی پالیسیوں پر غور وخوض کرکے سنجیدگی کا مظاہرہ کرناہوگا۔ طبّی اعداد وشمار کا باقاعدہ اندراج کرناہوگا۔ ان کی مدد سے ہم اپنی طبّی پالیسیوں اور اسکیموں پرمنظم طریقے سے عمل کرسکیں گے۔ آہستہ آہستہ ہم ۲۰۳۰ء کے قریب پہنچ رہےہیں۔اس کیلئے ہماری حکومت نے طبّی شعبے میں جن اہداف تک پہنچنے کا دعویٰ کیاہے ، انہیں حاصل کرنےکیلئےایک طرف ہمیں اپنے فیصلوں کاجائزہ لینا ہوگا ، دوسری جانب بجٹ کا صحیح استعمال کرکے صحت عامہ کے نظام کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہوگا۔‘‘
  اس موقع پرہیلیس سکھساریہ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ کےڈائریکٹر منگیش پیڈنیکر نے کہاکہ’’ ممبئی میں ہیلتھ کئیر کے بجٹ کو ہمیشہ اہمیت دی گئی ہے ۔ ۲۲-۲۰۲۱ء کے مجموعی بجٹ میں سے ۱۲؍فیصد صحت عامہ کیلئے مختص کیا گیا ہے لیکن کووڈ ۱۹؍ کی وجہ سے یہ بجٹ کم پڑگیاہے ۔ ۲۲-۲۰۲۱ءکیلئے جو ہیلتھ بجٹ پیش کیاگیاہے ،اس میں صرف ۲۰؍فیصد بجٹ بی ایم سی کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ جن میں پرائمری ہیلتھ کئیر سروسیز مثلاً میونسپل ڈسپنسری، میٹرنٹی ہوم اور ہیلتھ پوسٹ وغیرہ شامل ہیں، کیلئے ہے ۔ پرجا فائونڈیشن کافی عرصہ سے میونسپل ڈسپنسریوںکے اوقات میں اضافہ کرنےکا مطالبہ کررہاہے ۔ جسے اب اس طرح پورا کیا گیا ہےکہ ۱۵؍ ڈسپنسریوںکو ۱۴؍گھنٹے کیلئےکھولاجارہاہے جبکہ دیگر ڈسپنسریاں ۵؍تا ۸؍گھنٹے کھل رہی ہیں۔ پرجا فائونڈیشن کے ڈائریکٹر ملند مہسکے نےکہاکہ ’’۲۰۲۰ءمیں ایک لاکھ ۱۲؍ہزار ۹۰۶؍  اموات درج کی گئی ہیںجن میں سے ۱۱؍ہزار ۱۱۶؍افراد کی کووڈ۱۹؍  سے موت ہوئی ہے ۔کورونا سے اموات کوعلاحدہ کرنے کے باوجودشرح اموات  میں ۱۲؍فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۹ءمیں ۹۱؍ہزار ۲۲۳؍ اموات درج کی گئی تھی جبکہ ۲۰۲۰ءمیں ایک لاکھ ایک ہزار ۷۹۰؍ اموات درج کی گئی ہے۔ ‘‘  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK