Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہر و مضافات میں گرمی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ

Updated: April 27, 2026, 2:54 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

رطوبت کی وجہ سے گرمی زیادہ محسوس ہورہی ہے۔ ریاست کے محکمہ صحت کے ایک سابق افسر کے مطابق ماضی کے مقابلے راتیں گرم ہوگئی ہیں جس سے لوگ بیمار ہورہے ہیں۔

People trying to escape the heat in Churchgate. Photo: INN
چرچ گیٹ میں  لوگ گرمی سے بچنے کی کو شش کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این

گرمی کی شدت میں اضافہ کی وجہ سے دھوپ اور گرمی سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹروں نے عوام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ ممبئی میں قلب شہر اور مضافات میں واقع دونوں مشاہدہ گاہوں پر درجہ حرارت اطراف کے علاقوں کے مقابلے کم درج کیا جارہا ہے لیکن فضا میں رطوبت زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی زیادہ محسوس ہورہی ہے۔ اتوار کو قلابہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۳۴ء۴؍ ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا لیکن یہاں فضا میں رطوبت کی مقدار ۷۶؍ فیصد تک تھی جس سے گرمی کی شدت ۴۰؍ ڈگری تک محسوس کی جارہی تھی۔ سانتا کروز میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۳۳ء۸؍ ڈگری سیلسیئس ہی رہا لیکن یہاں رطوبت ۵۸؍ فیصد تھی۔ اس کے علاوہ رام مندر علاقے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۳۶ء۸، وکھرولی ۳۵ء۶، ودیا ویہار ۳۴ء۶، چمبور ۳۴ء۵، بائیکلہ ۳۵ء۴؍ اور مہالکشمی میں ۳۳ء۱؍ ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا۔ 
سانتا کروز، کھار اور باندرہ جیسے علاقوں کی عوام کی خدمات انجام دینے والے بی ایم سی کے ایک اسپتال کے ڈاکٹر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران گرمی سے متاثر مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق چونکہ سارے لوگ اسپتال نہیں آتے، جو آتے بھی ہیں وہ مختلف اسپتالوں یا نجی دوا خانوں میں جاتے بھی ہیں اس لئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گرمی سے متاثر ہونے والے شہریوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرمی سے متاثرین میں بخار، دست، قے، جسم میں پانی کی کمی، کمزوری، سر درد اور باہر کا کھاناکھانے کی وجہ سے پیٹ میں درد جیسی شکایتوں کے مریض بڑھ گئے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق گرمی سے پریشان لوگ کئی مرتبہ راستوں پر ملنے والے ایسے شربت بھی پی لیتے ہیں جنہیں بنانے کیلئے صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور یہ ان کیلئے بیماری کا سبب بن جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پرائیویٹ اسکولوں میں والدین کیلئے فیس کا مسئلہ برقرار

ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ احتیاط کے طور پر عوام کو چاہئے کہ دوپہر ۱۲؍ بجے سے ۳؍ بجے کی دھوپ سے چھتری یا کم از کم ٹوپی وغیرہ پہن کر بچیں تاکہ شدید دھوپ براہِ راست سر پر نہ لگے۔ گرمیوں میں صاف پانی زیادہ مقدار میں پیئیں۔ باہر کی اشیاء کھانے سے خصوصاً بچیں کیونکہ گرمی میں مناسب احتیاط نہ برتنے پر کھانے پینے کی اشیاء جلد خراب ہوجاتی ہیں اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ریاست مہاراشٹر میں کووڈ وباء کے دوران محکمہ صحت کی طرف سے سرویلنس افسر کے فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر پردیپ کمار آئوٹے نے بتایا ہے کہ قدرت نے جو نظام بنایا ہے اس کے حساب سے رات دن کے مقابلے ٹھنڈی ہوتی ہے اور جب انسان سوتا ہے تو اس کے جسم کا بڑھا ہوا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے اور انسان گرمی سے ہونے والی بیماریوں سے بچ جاتا ہے لیکن اب ماضی کے مقابلے راتیں گرم ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے لوگ گرمی سے سو نہیں پاتے اور جسم کا درجہ حرارت معمول پر نہیں  آپاتا جس کی وجہ سے ’ہیٹ اسٹروک‘ اور گرمی کی دیگر وجوہات سے ہونے والی بیماریوں اور اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ 
انہوں نے حکومت کیلئے مشورہ دیا کہ شہر و مضافات میں جو گارڈن ہیں انہیں دوپہر کے وقت بھی کھلے رکھنے چاہئیں۔ ان کے مطابق دوپہر میں جب شدید گرمی ہوتی ہے تو گارڈن بند کردیئے جاتے ہیں جبکہ یہاں درختوں کے سائے اور پیڑ پودوں کی وجہ سے درجہ حرارت کچھ کم رہتا ہے جس کی وجہ سے یہاں آنے والوں کو گرمی سے راحت مل سکتی ہے لیکن عین گرمی کے وقت یہ گارڈن بند رہتے ہیں، اس لئے حکومت اور شہری انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ گرمیوں میں گارڈن وغیرہ کو دن میں کھلے رکھیں۔ 
ان کے مطابق دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۹۱ء سے ۲۰۱۸ء کے درمیان ۲۷؍ برسوں میں ممبئی کے درجہ حرارت میں ۲؍ ڈگری سیلسیئس کا اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ ۲۰۱۱ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان ۱۱؍ ہزار ۵۰۰؍ سے زائد افراد کی گرمی اور اس سے ہونے والی بیماریوں سے موت ہوئی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK