کسی بھی پرائیویٹ ادارے کے خلاف اسی وقت کارروائی ہوگی جب کسی ایک اسکول یا کسی ایک کلاس کے ۲۵؍ فیصد طلبہ کے والدین محکمہ تعلیم میں شکایت درج کرائیں گے۔
EPAPER
Updated: April 27, 2026, 11:52 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
کسی بھی پرائیویٹ ادارے کے خلاف اسی وقت کارروائی ہوگی جب کسی ایک اسکول یا کسی ایک کلاس کے ۲۵؍ فیصد طلبہ کے والدین محکمہ تعلیم میں شکایت درج کرائیں گے۔
حال ہی میں ریاستی محکمہ تعلیم نے تمام ایڈیڈ اور نان ایڈیڈ کی سبھی میڈیم کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں مخصوص دکانوں سے یونیفارم، بیاضیں ، کتابیں اور دیگر تعلیمی سامان کی خریداری کے احکامات کو خارج کرتے ہوئےایک سرکولر جاری کیا تھا۔ جاری کردہ سرکولر سے اسکول انتظامیہ کواس بات سےبھی متنبہ کیا گیا ہے کہ زبردستی کرنے والے اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مذکورہ بالا ہدایت پر پرائیویٹ اسکول کتنا عمل کریں گے؟ یہ تعطیلات کے بعد واضح ہوسکے گا لیکن پرائیویٹ اسکولوں میں والدین سے من مانی فیس لئے جانے کامسئلہ ہنوز برقرار ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین کوایک طرف جہاں مخصوص دکانوں سے یونیفارم، بیاضیں ، کتابیں اور دیگر تعلیمی سامان کی خریداری کرنے پر مجبور کرنے والے اداروں کے خلاف حکومت کی جانب سے کارروائی کئے جانے کے سرکولرسے راحت ملی ہے، وہیں دوسری طرف ایڈیڈ اور نان ایڈیڈاسکولوں میں نرسری سے چہارم جماعت تک ہزاروں یا لاکھوں روپے کی من مانی فیس لینے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ مسئلہ پر ریاستی محکمہ تعلیم اس وقت تک من مانی کرنے والے تعلیمی ادارے کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا ہے جب تک کسی بھی اسکول یا کلاس کے ۲۵؍ فیصد طلبہ کے والدین ایک ساتھ محکمہ تعلیم سے شکایت نہ کریں ۔ یہی نہیں مذکورہ معاملے میں ۲۵؍فیصد طلبہ کے والدین کے علاوہ اسکول کی ٹیچرس پیرنٹس اسوسی ایشن کے ۲۵؍ فیصد ممبران کی بھی زائد فیس کے خلاف ہامی بھرنا اور شکایت کرنا ضروری ہے تب جاکر ریاستی محکمہ تعلیم اس ادارے کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ایڈیڈ اور نان ایڈیڈ اسکولوں میں ہزاروں لاکھوں روپے فیس وصول کرنے کے تعلق سے ممبئی ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن راجیش کنکل نے نامہ نگار کو بتایا کہ ’’فیس کے ضابطہ ایکٹ ۲۰۱۱ء کے تحت جو قواعد ترتیب دیئے گئے ہیں ، اس میں کسی ایک یا ۲؍ والدین کی شکایت پر کسی بھی تعلیمی ادارے کے خلاف زائد فیس وصول کرنے کی شکایت پر کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی ادارے کے خلاف زائد فیس وصول کرنے کیلئے اسکول یا کسی ایک کلاس کے ۲۵؍ فیصد طلبہ کے والدین کے ساتھ ۲۵؍فیصداسکول ٹیچرس پیرنٹس اسوسی ایشن کا ایک ساتھ شکایت کرنا ضروری ہے، اس کے بعد ہی اس ادارے کے خلاف جانچ کی جائے گی اور خاطی پائے جانے پر کارروائی کی جائے گی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: لاپرواٹھیکہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ
آفیسر کے بقول فیس کے تعلق سے ریاستی محکمہ تعلیم کے علاوہ اگر انفرادی طور پر کوئی شخص زائد فیس کے تعلق سے کسی بھی ادارے کے خلاف شکایت کرنا چاہتا ہے تو وہ کنزیومر کورٹ یا دیگر کورٹس سے رجوع کرسکتا ہے۔ وہیں اگر ادارے کے خلاف ۲۵؍ فیصد والدین شکایت درج کرنا چاہتے ہیں تو پہلے مہاراشٹر فیس ریگولیٹری اتھاریٹی کو www.mahafra.org پر یا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیس سے شکایت درج کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں https://education.maharashtra.gov.inاور https:grievances.maharashtra.inپر بھی ای میل کے ذریعہ شکایت کر سکتے ہیں ۔ وہیں دوسری جانب اس ضمن میں اکثر پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کے ذمہ داروں نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ زائد فیس لینے کا مقصد صرف انہیں بہتر تعلیمی سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ بہتر انفرا اسٹرکچر اور سب سے بڑھ کر اس ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ کرانا ہے۔ اگر ہزاروں روپے لاکھوں روپے فیس لی جاتی ہے تو پرائیویٹ اداروں کی جانب سے بہتر تعلیمی معیار، اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور بہتر انفرا اسٹرکچر فراہم کیاجاتا ہے تاکہ اعلیٰ تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جاسکے۔ ‘‘