• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بڑی گاڑیوں کے ٹول کرایہ میں اضافہ ، مزید۱۵؍ سے۳۵؍ روپےزیادہ ادا کرنے ہونگے

Updated: October 02, 2026, 4:03 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ٹول کرائے میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ بڑی گاڑیوں کی الگ الگ قسموں کے مطابق ۱۵؍ تا ۳۵؍ روپے  اضافہ کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ایس آر ڈی سی) نےیکم اکتوبر سے نئے اضافی ٹول کو لاگو کر دیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ٹول کرائے میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ بڑی گاڑیوں کی الگ الگ قسموں کے مطابق ۱۵؍ تا ۳۵؍ روپے  اضافہ کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ایس آر ڈی سی) نےیکم اکتوبر سے نئے اضافی ٹول کو لاگو کر دیا ہے۔ اس کی جہاں ٹرانسپورٹروں نے شدید مخالفت کی ہے وہیں عام شہری بھی اس سے اس وقت متاثر ہوسکتے ہیںجب ٹرانسپورٹرس فرائٹ چارجز میں اضافہ کر دیں گے اور اس صورت میںضروری اشیاء کی قیمت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ممبئی میں ریاست کے الگ الگ حصوں سے ۵؍ علاقوں کے ٹول سے گزر کر شہر میں مختلف گاڑیاں داخل ہوتی ہیں۔ ان میں واشی ( سائن - پنویل ہائی وے ) ، ایرولی بریج، ملنڈ ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے ، ملنڈ ایل بی ایس مارگ اور دہیسر ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے ٹول ناکہ شامل ہیں ۔مذکورہ راستوں سے شہر میں داخل ہونے والی بڑی گاڑیوں پر ایم ایس آر ڈی سی نے کچھ اس طرح ٹول میں اضافہ کیا ہے ۔منی بس ،چھوٹے ٹرک اور ٹیمپو کو مذکورہ کسی بھی ٹول سے گزرنے پر ۱۵؍ روپے اضافی ٹول ادا کرنا ہو گا۔  بڑے ٹرک اور پرائیویٹ بسوں کو  ۳۰؍ روپے جبکہ بڑے ٹرالر  اور ہیوی وہیکل کو ۳۵؍ روپے اضافی ٹول ادا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:آزادمیدان میں احتجاج، ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو، ایس آئی آر رَد کرو‘ کے فلک شگاف نعرے

اب تک مذکورہ ٹول سے گزرنے پر منی بس ، چھوٹے ٹرک  اور ٹیمپو ۷۵؍ روپے ،ٹرک اور پرائیویٹ بسیں ۱۵۰؍ روپے اور ٹرالر  اور ہیوی وہیکل  ۱۹۰؍ روپے ٹول ادا کرتے تھے ۔ اب اضافہ کے ساتھ مذکورہ ٹول ۹۰، ۱۸۰؍  اور ۲۲۵؍ روپے کر دیا گیا ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پرائیویٹ یا ذاتی کار، ٹیکسی اور تین پہیہ گاڑیوں کے علاوہ اسکول بسوں کو مذکورہ کسی بھی ٹول کرایہ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ایم ایس آر ڈی سی کے بقول ہر تین سال میں معاہدوں کے مطابق شرحوں کا جائزہ لینے کے بعد اضافہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تین سال قبل یعنی یکم اکتوبر ۲۰۲۳ء کو ٹول میں اضافہ کیا گیا تھا ۔ ایم ایس آر ڈی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹول میں اضافہ کا بنیادی مقصد شہر کے اطراف عوامی مفاد کے لئے کی گئی تعمیرات مثلاً فلائی اوور ، سب وے ،روڈ اور بریج پر لگنے والی لاگت کو وصول کرنا ہے۔

  ٹرانسپورٹروں نے اس اضافہ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر پورے مہینے میں تعطیلات کو چھوڑ کر کوئی ایک ٹرک ۱۵؍ روپے کے حساب سے ۲۶؍ دن اضافی ٹول ادا کرتا ہے تو اسے کل ۷۸۰؍ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ رقم اس صورت میں اور زیادہ ہوسکتی ہے جب وہ ایک سے زائد ٹرپ کرے گا۔‘‘آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹرس نےکہا کہ ’’ ٹول بڑھانے سے آپریٹنگ کوسٹ بڑھے گی اور اس کی وجہ سے ہمیں فرائٹ چارجز بھی بڑھانے پڑیں گے جس کا سیدھا اثر عوام پر پڑے گا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK