سخت سردی کے سبب سانس لینے میں تکلیف کی شکایتوںمیں اضافہ

Updated: January 26, 2022, 9:24 AM IST | saadat khan | Mumbai

بے موسم بارش، آلودگی اور اچانک ٹھنڈبڑھنے سےالرجی ، وائر ل انفیکشن اور کورونا کے مریضو ںکی تعدادمیںاضافےکا اندیشہ۔ ماہرین کے مطابق ایسے موسم میں ان بیماریوںکے جراثیم تیزی سے پھیلتےہیں

As the cold snap in the city has led to an increase in various diseases.
شہر میں ٹھنڈبڑھتے ہی مختلف بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

 بے موسم  بارش،فضائی  آلودگی اور اچانک بڑھنےوالی سردی سےلوگ سانس لینے میں تکلیف اور دیگربیماریوں میں مبتلا ہورہےہیں۔ ماہرین کےمطابق  ایسے موسم کی وجہ سے الرجی ، وائر ل انفیکشن اور کورونا کے مریضو ںکی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں ان بیماریوںکے جراثیم تیزی سے پھیلتےہیں۔ واضح رہےکہ گزشتہ چند دنوں سے شہر و مضافات میں سردی بڑھ گئی ہے  اورفضائی آلودگی  میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے سیکڑوں لوگ سردی ،زکام ، کھانسی اور بخار میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ اکٹروں کے دواخانوں میں ایسے مریضوں کی بھیڑ دکھائی دے رہی ہے ۔ 
 بھیونڈی ، غیبی نگر کے ۶۸؍ سالہ اعجاز شیخ نے بتایاکہ ’’میں گزشتہ ۳؍سال سے سانس کی بیماری میں مبتلا ہوں لیکن گزشتہ ایک ہفتہ سے میری تکلیف بڑھ گئی ہے  جس کی وجہ موسم کی تبدیلی ہے ۔ سانس لینےمیں تکلیف سے ۴؍ دنوںکیلئے اسپتال داخل ہونا پڑا، اب طبیعت ٹھیک ہے،  اس کے باوجود موسم کی خرابی کےسبب میں گھر سے باہر نہیں نکل رہاہوں ۔ چمبور کے نوبیل اسپتال کے ڈاکٹروں نےڈسچارج کے وقت مشورہ دیاتھاکہ آلودہ فضا میں کسی طرح کی لاپروائی نہ کریں  اور گھر میں زیادہ وقت گزاریں۔‘‘  بائیکلہ کے الطاف پٹیل نے بتایاکہ ’’ سانس لینے میںتکلیف نہیں ہورہی ہے مگر آلودگی اور ٹھنڈکی وجہ سے سردی ہوگئی ہے جس سے پریشانی ہورہی ہے ۔ دوا لینے کے باوجود  ابھی تک افاقہ نہیں ہوا ہے ۔‘‘ میڈیکل سوشل ورکر شعیب ہاشمی نےبتایاکہ ’’  فضائی آلودگی اور دھول مٹی  اُڑنے سے عام لوگوںکو سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے لیکن جو لوگ دمہ ، الرجی اور  سانس کی دیگر بیماریوںمیں مبتلاہیں ، وہ زیادہ پریشان ہیں  اور اسپتالوںمیں سانس کی بیماریوں سے متاثرہ افراد کی تعداد میں  اضافہ ہواہے۔‘‘
  ووکہارٹ اسپتال ،ممبئی سینٹرل کے ڈاکٹر سنتوش بنسوڑےکےمطابق ’’ سردی کےموسم میں عموماً وائرل انفیکشن کی شکایت ہوتی ہے جس کے علاج کیلئے اینٹی بائیوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں ڈاکٹروںکوچاہئے کہ فلوکےمریضوںکوکووڈکاٹیسٹ کروانے کامشورہ دیںجوکہ ان کی حفاظت کیلئے بہتر ہے۔ ‘‘
  بی کے سی جمبو کووڈ کئیر سینٹر کے ڈین ڈاکٹر راجیش دھرے نےکہاکہ ’’ سانس میں تکلیف کے مریضوں کی تعداد میں گزشتہ کچھ دنوں سے اضافہ ہواہے ۔ ناک ، منہ اور گلے میں سوزش کی شکایت والے  مریض بھی آرہےہیں۔‘‘
 جے جے اسپتال کے ڈاکٹر وقار شیخ نےبتایاکہ ’’بے موسم بارش سے انفلوئنزا کےمریضوں کے ساتھ ہی سانس لینے میں تکلیف کےمریضوں کی تعداد بڑھی ہے ۔ فضائی آلودگی ، گہرے کہرے اور دھول وغیرہ سے دمہ اور الرجی کے مریضوںکی تکلیف بڑھ سکتی ہے ۔ کھانسی ، سردی ، زکام اور سانس لینے میں تکلیف پر فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔ اس طرح کی شکایات کو نظر انداز نہ کریں ورنہ اسپتال داخل ہونےکی نوبت آسکتی ہے ۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ وائر ل انفیکشن کےعلاج کیلئے اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہ کریں۔ اگر جراـثمی بیماری ہوتبھی اینٹی بائیوٹک دوا کھائیں ۔ وائرل انفیکشن میں اینٹی بائیوٹک دوا کھانے سے الرجی اورسانس لینے میں تکلیف ہوسکتی ہے ۔ ‘‘
احتیاطی تدابیر :
  سردی کی موسم میں بیماریوں سے محفوظ رہنے کیلئےصابن سے ہاتھ دھوتے رہیں، ماسک پہنیں، سینی ٹائز ر کا استعمال کریں، بخار آنے پر کروسین گولی کھائیں  اور اگر قے ہورہی ہوتو الیکٹرولائٹس  لے لیں۔
اسکولوںمیں طلبہ کی حاضری کم
 کوروناوائرس کی شکایت میں کمی آنے  پروالدین اور تعلیمی تنظیموں کےمطالبے پر ریاستی حکومت نے ۲۴؍ دسمبرسے اسکول شروع کرنے کی اجازت دی ہے مگر اومیکرون کے خوف ،وائرل انفیکشن ،سردی ،زکا م اور بخار کےمریضوںمیں اضافے اور فیس کا مطالبہ کئے جانے کے ڈر سے بالخصوص پہلی تا پانچویں جماعت کےبچوںکو والدین اسکول نہیں بھیج رہےہیں۔انہوں نے ’’دیکھواور انتظار کرو‘‘کی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔پہلے دن شہر ومضافات  کے ۳؍ہزار ۸۵۰؍ اسکولوں کے ۱۶؍لاکھ ۳۵؍ہزار طلبہ میں سے صرف ۷؍لاکھ طلبہ اسکول آئے تھے جن میں ۵۰؍ فیصد پرائیویٹ اور ۲۹؍ فیصد بی ایم سی اسکولوں کے تھے۔ طلبہ کی کم حاضری کی اورکئی  وجوہات بئی بتائی جارہی ہیں۔
 مہاراشٹر اسٹیٹ شکشک پریشدممبئی کے نگراں شیوناتھ دراڈے نے بتایاکہ ’’ اسکول تو شروع کر دیئے گئےہیں مگر والدین اور سرپرست اپنےبچوںکو اسکول بھیجنے سے ڈر رہےہیں ۔ ان کے دل میں اومیکرون کا خوف ہے۔ وہ ابھی کچھ اور دن انتظارکرناچاہتےہیں۔ وہ یہ دیکھ رہےہیں کہ جوبچے اسکول جارہےہیں ۔ ان کے ساتھ کسی طرح کا معاملہ تو نہیں پی آرہا ہے ۔ جن والدین نے بچوںکو اسکول روانہ کرنےکیلئے حلف نامہ دیئے ہیں،ان میں سے بھی متعدد والدین اپنے بچوںکو اسکول نہیں بھیج رہےہیں  جس کی وجہ سےاسکول خالی ہیں۔صرف ۸؍ویں تا۱۰؍ ویں جماعت کے طلبہ خاطرخواہ تعداد میں  آرہےہیں۔ ‘‘
  مہاراشٹر اسٹیٹ شکشک بھارتی ممبئی کے سیکریٹری سبھاش مورے نے کہاکہ ’’ سیکنڈری اسکول کے مقابلے پرائمری اور اپرپرائمری میں طلبہ کی حاضری کم  ہے ۔ اوّل تا پنجم جماعت کے طلبہ کی حاضری بہت کم ہے ۔ اس کی کئی وجہ ہیں ۔ ایک تو جنوری کا مہینہ ختم ہورہاہے ۔ تعلیمی سال ختم ہونے میں صرف ۲؍ماہ باقی ہیں ۔ایسےمیں اگرطلبہ اسکول  جاتےہیں تو نجی اسکولوں کے انتظامیہ فوراً سال بھر کی فیس کا مطالبہ کریں گے۔ اسلئے متعدد والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج رہےہیں۔ والدین اب بھی وبا  سے خوفزدہ ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK