ناکوں پر جمع ہونے والے یومیہ مزدوروں کو صبح ۸؍بجے سے شام ۶؍بجے تک پمفلٹ تقسیم کرنے، ہورڈنگز لگانے اور ریلی میں حصہ لینے کےعوض ایک ہزارروپے دیئے جارہےہیں۔
شکھلاجی اسٹریٹ،کماٹی پورہ جنکشن کا ایک منظر جہاںمزدور جمع ہوتے ہیں۔ تصویر :انقلاب
الیکشن مہم میں تیزی آنے کے ساتھ شہر ومضافات کے ناکوںپریومیہ مزدوری کرنےوالے مزدوروںکی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہیں روزانہ صبح ۸؍بجے سے شام ۶؍بجے تک پمفلٹ تقسیم کرنے ،ہورڈنگز لگانے اور ریلی میں حصہ لینے کےعوض ایک ہزارروپے دیئے جارہےہیں۔ مزدوروںکےمطابق ان دنوں ہمارا روایتی کام متاثر ہے ،ایسےمیںشہری انتظامیہ کے انتخابات میں قسمت آزمانے والے اُمیدواروں کیلئے کام کرنے سے مزدوری چھوٹ جارہی ہے۔ہزاروں کارکن گروپ کی شکل میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی مہم میں حصہ لے رہےہیں۔
ممبئی کےعلاوہ نئی ممبئی میں ۱۰؍ سے ۱۵؍ جگہیں ایسی ہیں جہاں مزدوریکجاہوتےہیں۔یہ وہ مزدور ہیںجو روزانہ صبح کام کی تلاش میں چھوٹے بڑے چوکوں( ناکوں) پر جمع ہوتے ہیں۔ ہر کسی کو روزانہ کام نہیںملتاہےلیکن کارپوریشن کے انتخابات کی وجہ سے ان سب کو روزگار مل رہا ہے جس سے وہ مطمئن ہیں، کیونکہ کم از کم انتخابات تک کام ملنے کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
جیسے جیسے انتخابی مہم تیز ہورہی ہے، سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروں کو الیکشن کے کاموں کیلئے ان کارکنوں کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ ان سے انتخابی پرچے تقسیم کروانے، پلے کارڈ اور ہورڈنگ لگانے، جلسوں میں بھیڑ بڑھانے، نعرے لگانے اور ریلی میں شریک ہونے کا کام لیاجارہاہےجبکہ انتخابی ریلیوں کیلئے خواتین کارکنوں کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے۔
مہم کے کام میں حصہ لینے والے ایک مرد کارکن کو روزانہ کم ازکم ایک ہزار روپے ، موٹر سائیکل کے ساتھ ریلی میں حصہ لینے والے کو۱۵۰۰؍ جبکہ خواتین کو ۵۰۰؍روپےیومیہ ادا کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ناشتہ اور سفری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔ تعمیراتی کام کیلئے مزدور فراہم کرنے والے ٹھیکیدار ،ان مزدوروںاور اُمیدواروں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کررہے ہیں۔جنوبی ممبئی کے گول دیول جنکشن پر موجود ایک دہاڑی مزدور نے اس نمائندہ کوبتایاکہ ’’ ناکہ پر جمع ہونے سے سبھی کارکن کو روزانہ کام ملے یہ ضروری نہیں ہے لیکن الیکشن کےدنوںمیں روزانہ کام مل جاتاہے۔ جس سے ان مزدوروںکو آسانی ہوجا تی ہے۔ ‘‘ اس نے مزید بتایاکہ’’ گزشتہ ۲۔۳؍دنوں سےمختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے گروپ کی صورت میں مزدوروںکولے جارہےہیں۔ وہ دن بھر الیکشن مہم کا کام کرتے ہیں، شام کو انہیں مزدوری دے دی جاتی ہے۔ عموماً ہم یومیہ ۸۰۰؍ روپےمزدوری لیتےہیںلیکن الیکشن کے کام کیلئے روزانہ ایک ہزارروپے مل جاتاہے۔ کام نہ ملنے کی صورت میں الیکشن کاکام مل جانے سے مزدوری چھوٹ جاتی ہے۔‘‘
شکھلاجی اسٹریٹ،کماٹی پورہ جنکشن پر روزانہ صبح ،دہاڑی مزدوروںکا جم غفیر ہوتا ہے، یہیں سےلوگ اپنی ضرورت کے مطابق راج مستری ، پلمبر اور لیبروںکو کام کروانے لے جاتےہیں لیکن ان دنوں ان کاموں کےبجائے بیشتر کارکن الیکشن کے کاموںمیں حصہ لینے جارہےہیں۔
یہیں موجود محمد طارق نامی یومیہ مزدور نے بتایاکہ ’’ گزشتہ۲؍دنوں سےسیکڑوں مزدور گروپ کی شکل میں سیاسی جماعتوں کے اُمیدواروںکیلئے کام کرنےجارہےہیں۔انہیں صبح ۸؍بجے سے شام ۶ ؍بجے تک کی ڈیوٹی کا ایک ہزارروپے دیا جا رہا ہے۔ ۱۰۰۔۱۰۰؍ مزدور وںکا گروپ انتخابی مہم میں حصہ لینےکیلئے جارہاہے۔ہمیں تو کام کرنے سےمطلب ہے ، یہ ضرور ہےکہ الیکشن کا عارضی کام کرنے سے کچھ زیادہ رقم مل جاتی ہے۔ ‘‘
اسی جگہ کے ایک اور مزدور نے کہاکہ’’ پیر ۵؍ جنوری کو شیوسینا اور بی جے پی کے اُمیدواروں نے ۱۰۰۔۱۰۰؍ مزوروں کے گروپ کوصبح سے شام تک انتخابی پرچے تقسیم کرنے، پلے کارڈ اور ہورڈنگ لگانے، نعرے لگانے اور جلسہ و ریلی میں حصہ لینے کیلئے لے گئے تھے۔ آج (منگل کو) بھی کچھ اُمیدواروںکے نمائندہ آنے والے ہیں،ان کےساتھ جانےوالے ۱۰۰؍ مزدورں کی تیاری ہوگئی ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ ’’الیکشن تک کام تلاش کرنےکی ضرورت نہیں ہوگی۔ الیکشن کےعارضی کام کے ملنے سے ہمیں محنت کرنےکےعوض مزدوری مل جارہی ہے۔‘‘