• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان سمیت ۲۴؍ ممالک عالمی ۶؍جی اتحاد میں شامل

Updated: September 08, 2026, 4:06 PM IST | New York

ہندوستان نے امریکہ اور دیگر ۲۴؍ ممالک کے ساتھ مل کر اگلی نسل کے ۶؍جی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی ترقی اور تعیناتی کے لیے ایک عالمی اقدام میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے پیر کو اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد۶؍جی ٹیکنالوجی کے مستقبل کو اس طرح تشکیل دینا ہے۔

Meeting.Photo:X
میٹنگ۔ تصویر:ایکس

ہندوستان نے امریکہ اور دیگر ۲۴؍ ممالک کے ساتھ مل کر اگلی نسل کے ۶؍جی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس  کی ترقی اور تعیناتی کے لیے ایک عالمی اقدام میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے پیر کو اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ اس اقدام کا مقصد۶؍جی  ٹیکنالوجی کے مستقبل کو اس طرح تشکیل دینا ہے کہ اس میں مشترکہ سکیورٹی مفادات، عالمی مسابقت اور جدت کو فروغ حاصل ہو۔ 


 یہ پیش رفت امریکہ کے شمالی کیرولینا کے شہر  چیپل ہِل  میں یکم اور ۲؍ ستمبر کو منعقدہ جی ۲۰؍ انوویشن منسٹر میٹنگ کے موقع پر سامنے آئی۔ ہندوستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے تجارت و صنعت  جتن پرساد نے کی۔ اجلاس کی میزبانی امریکی محکمہ تجارت اور وہائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی نے کی تھی۔  امریکی وزیر تجارت  ہاورڈ لوٹنک  اور جتن پرساد  کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے بعد ہندوستان کی ۶؍جی  کے عالمی اقدام میں شمولیت کو حتمی شکل دی گئی۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل کے ۶؍جی  نیٹ ورکس مشترکہ سیکوریٹی مفادات کی عکاسی کریں، ممالک کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنائیں اور۶؍جی  کے شعبے میں جدت کو فروغ دیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:ناگپور: فوڈ اینڈ ڈرگس کمشنر تکارام منڈے پر ہندو مخالف ہونے کا الزام

 جتن پرساد  اور ہاورڈ لوٹنک کی ملاقات میں صرف ۶؍جی  ہی نہیں بلکہ  سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز  جیسے اہم ٹیکنالوجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ہندوستانی وزیر مملکت نے امریکہ سے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن ۲؍  میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی بات کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان اے آئی ٹیکنالوجی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مصنوعی ذہانت کے لیے حفاظتی اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔  جتن پرساد نے ملاقات کے بعد کہا کہ سیمی کنڈکٹرز، اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز ابھرتی ہوئی ڈجیٹل معیشت کے بنیادی ستون ہیں اور ہندوستان اور امریکہ ان شعبوں میں عملی تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ 
۶؍جی  کو مستقبل کی انتہائی تیز رفتار اور زیادہ مربوط موبائل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس کے معیارات، سیکوریٹی اور ٹیکنالوجی کی سمت طے کرنے میں ہندوستان کی شرکت ملک کو نئی نسل کے ٹیلی کمیونیکیشن ایکو سسٹم میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دے سکتی ہے۔یہ شمولیت ہندوستان کے بھارت ۶؍جی مشن اور ملک کی وسیع تر ٹیکنالوجی حکمت عملی کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ہندوستان پہلے ہی۶؍جی  تحقیق، معیارات اور نئی نسل کے ڈجیٹل انفراسٹرکچر میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آشا بھوسلے نے کئی لازوال گیت دیئے ہیں

تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو۶؍جی  اتحاد میں شمولیت ہندوستان کے لیے صرف ٹیلی کمیونیکیشن تعاون تک محدود نہیں بلکہ  اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، روبوٹکس، ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سینٹرز  جیسے شعبوں میں عالمی شراکت داری بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اس پیش رفت سے ہندوستان کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے عالمی معیارات اور سیکوریٹی فریم ورک کی تشکیل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK