• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل گاندھی کی قیادت میں ’انڈیا‘ کا تاریخی مارچ، اجتماعی پٹیشن

Updated: October 13, 2026, 9:06 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi

گیانیش کمار کے استعفیٰ اور ایس آئی آر کی منسوخی کیلئےاب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک عوام کا جم غفیر اپوزیشن اتحاد  کے تمام لیڈر شریک ہوئے۔ پٹیشن میں  ایس آئی آر سے متعلق ہر فائل کو عام کرنے اور ان کی عدالتی جانچ کی مانگ کی گئی۔ راہل نے گیانیش کی رابطہ کی کوشش کا انکشاف کیا، ’’وعدہ معاف گواہ ‘‘ بننے کی پیشکش دہرائی۔

A massive crowd participating in the `Chalo Delhi` march heads towards the Supreme Court, led by Rahul Gandhi, Priyanka Gandhi, and Neha Bora. Photo: PTI
’چلو دلی‘ مارچ میں سپریم کورٹ کی طرف بڑھتا ہوا جم غفیر جس کی قیادت راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور نیہا بورا کررہی تھیں۔ تصویر پی ٹی آئی

چیف جسٹس آف انڈیا کے  ملاقات سے انکار کردینے کے باوجود راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن نے پیر کو سپریم کورٹ تک مارچ کیا جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور ایس آئی آر کی منسوخی کیلئے اب تک کا سب سے بڑا احتجاج بن گیا ہے۔ ’چلو دلی‘ کے عنوان سے منعقد ہونےوالے اس مارچ  کے شرکاء کی تعداد کوئی ۵۰؍ ہزار  بتا رہاہے تو کچھ ڈھائی لاکھ تک قرار دے رہے ہیں۔ بہرحال مارچ   میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔اس میں  امڈنےوالی بھیڑ نے ایوان اقتدار میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ایس آئی آر کے خلاف ایک اجتماعی پٹیشن داخل کی گئی جس میں  ایس آئی آر سے متعلق ہر فائل اور اس پر   چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ دونوں الیکشن کمشنروں کی چھوٹی سے چھوٹی نوٹنگ کو عام کرنے اور ان کی عدالتی جانچ کی مانگ کی گئی ہے۔ 

اپوزیشن کے تمام قائدین کی شرکت

 سپریم کورٹ میں  اپوزیشن کے جن لیڈروں   کے نام سے  ایس آئی آر  کے خلاف عرضی دائر کی گئی ہے ان میں  کانگریس لیڈر راہل گاندھی ،ملکا رجن کھرگے،ٹی ایم سی لیڈر لیڈرسوگت رائے، سماج وادی پارٹی کے سپریمواکھلیش یادو،راشٹریہ جنتادل کے لیڈر تیجسوی یادو، شیوسینا( ادھو)  کے لیڈر سنجے راوت،سی پی آئی ایم کے لیڈر ایم کے بے بی،سی پی آئی لیڈر ایم راجہ،جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی لیڈر مہوا مانجھی،این سی پی( شردپوار) کی لیڈر سپریہ سُلے اور انڈین یونین مسلم لیگ کے لیڈر ای ٹی محمد بشیر شامل ہیں۔اپوزیشن لیڈروں کی عرضی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا ،چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار،الیکشن کمشنر سکبھیر سنگھ سدھو اورالیکشن کمشنر وویک جوشی کو مدعاعلیہ بنایا گیا۔

سیکڑوں وکلاء بھی مارچ کا حصہ بنے

احتجاج  میں اپوزیشن  کے اراکین پارلیمان  کی حمایت میںسیکڑوں وکلاء بھی  شامل ہوئے۔راہل گاندھی نے اپیل کی تھی کہ جمہوریت اور ملک کے آئین پر یقین رکھنے والے تمام شہریوں کو اس میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ یہ احتجاجی مارچ کسی مخصوص سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ شہریوں کا ہوگا جو اپنے ملک ،آئین اور جمہوریت سے محبت کرتے ہیں۔بارہ کھمبا روڈ پر، جہاں سے مارچ کا آغاز ہوا، ہزاروں افراد پہلے سے موجود تھے۔ ۳؍بجے سے قبل وہاں ایک بس پہنچی جس میں راہل گاندھی اور اپوزیشن کے دیگر رہنما سوار تھے۔اس بس میں اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورابھی سوار تھیں۔ 

بارہ کھمبا سے کچھ کلو میٹر دور منڈی ہاؤس پرراہل گاندھی اور اپوزیشن کے لیڈران بس کی چھت پر چڑھ گئے جہاں  انہوں نے احتجاج میں موجود ہزاروں افراد کاہاتھ ہلا کر استقبال کیا۔مظاہرین کی بڑی تعداد مختلف بینراور پوسٹر اور جھنڈوں کے ساتھ مارچ میں موجودتھی اورلوگ ووٹ چوری، گیانیش کمار کے استعفیٰ اور حکومت کے خلاف پر جوش نعرے لگارہے تھے۔ اس دوران سرفروشی کی تمنا کے نعرے زور وشور کےساتھ  لگائے گئے۔اس کے بعد یہ ریلی سپریم کورٹ کے دروازے تک پہنچی اور اپوزیشن کے لیڈران عرضی دائر کرنے کیلئے عدالت عظمیٰ کی عمارت میں داخل ہوگئے۔

گیانیش کمار نے راہل سے رابطہ کی کوشش کی

مارچ سے قبل پریس کانفرنس  سے خطاب میں ایک صحافی کے جواب میں راہل گاندھی نے یہ انکشافی اعتراف کیا کہ  چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ  ان کیلئے ایک راستہ ہے کہ وہ  استعفیٰ دے کر سرکاری گواہ بن جائیں، کیونکہ اپوزیشن کی لڑائی ان بڑی طاقتوں کے خلاف ہے جو ان کے پیچھے ہیں۔

تمام احتجاج ایک ہی ہیں: راہل

مارچ سے پہلے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے تمام احتجاج ایک ہی احتجاج کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’یہ الگ الگ احتجاج نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی  ہیں۔ ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں یا کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ آئین کا تحفظ کر رہے ہیں جیسا کہ ہم کر رہے ہیں، تو ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ کی حمایت کریں گے، آپ کی مدد کریں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے۔ ہم بھی آپ سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ یہ ہندوستانی عوام سے ہماری محبت کا اظہار ہے۔‘‘

 سوشل میڈیا پر چیف جسٹس سے استعفیٰ کی مانگ

اپوزیشن سے  ملاقات سے انکار کے بعد سوشل میڈیا پر پیر کو چیف جسٹس آف انڈیا سے استعفیٰ دینے کا  مطالبہ کیا  جانے لگا۔گرچہ ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کے وقت سے ہی سوشل میڈیا پر کئی ہینڈل  الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مکمل کھلی چھوٹ دینے پر سپریم کورٹ   اور سوریہ کانت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں،لیکن اب یہ آوازیں مزید بلند ہوگئی ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان بیانات کی مذمت کی جن میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسوسی ایشن   نے کہا کہ یہ عدلیہ  کی توہین اور نظامِ انصاف  میں مداخلت کی کوشش  جیسا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK