Updated: October 13, 2026, 6:02 PM IST
| New Delhi
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے والے ڈجیٹل نیوز پلیٹ فارم ’’جرنو مرر‘‘ کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ ہندوستان میں محدود کردیا گیا ہے۔ پلیٹ فارم کے مطابق، انسٹاگرام پر دکھائے جانے والے نوٹس میں ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی قواعد کے تحت قانونی تقاضوں کا حوالہ دیا گیا، تاہم کسی مخصوص قانونی دفعہ یا حکم نامے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ڈجیٹل نیوز پلیٹ فارم جرنو مرر کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کو ہندوستان میں بلاک کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پلیٹ فارم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج، مظاہرین کی حراست اور اس سے متعلق دیگر واقعات کی مسلسل کوریج کررہا تھا۔ جرنو مرر کی ایڈیٹوریل ٹیم کے مطابق، انسٹاگرام پر ظاہر ہونے والے پیغام میں کہا گیا کہ ہندوستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی قواعد کے تحت قانونی تقاضوں کی تعمیل کے لیے اکاؤنٹ کی دستیابی محدود کی گئی ہے۔ تاہم، پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ اسے موصول ہونے والی اطلاع میں نہ کسی مخصوص قانونی دفعہ کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی متعلقہ حکم نامے کی تفصیلات بتائی گئیں۔
جرنو مرر نے اپنے بیان میں اس کارروائی کو آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام اس کے لیے قارئین اور ناظرین تک خبریں پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ تھا اور اکاؤنٹ محدود ہونے سے اس کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔ پلیٹ فارم کے مطابق، پابندی سے قبل کے ۳۰؍ دنوں میں اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ۳؍ کروڑ ۷۸؍ لاکھ ویوز ریکارڈ کیے گئے تھے، جب کہ اس کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ اس لیے اکاؤنٹ تک رسائی محدود ہونے سے اس کے صحافتی مواد کی تقسیم اور ناظرین تک پہنچنے کی صلاحیت پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر میں داخل ہونے کی کوشش، سی جے پی کے آشوتوش رانکا، سورَو داس حراست میں
’’خبر رساں پلیٹ فارم تک رسائی محدود کرنا صرف اکاؤنٹ کا معاملہ نہیں‘‘
جرنو مرر کی ایڈیٹوریل ٹیم نے کہا کہ کسی خبر رساں ادارے تک عوام کی رسائی محدود کرنا محض ایک ڈجیٹل اکاؤنٹ کی بندش نہیں، بلکہ اس سے بڑی تعداد میں قارئین اور ناظرین کی خبروں اور معلومات تک رسائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’کسی خبر رساں پلیٹ فارم تک رسائی کو محدود کرنا صرف ایک ڈجیٹل اکاؤنٹ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں قارئین اور ناظرین کی معلومات اور خبروں تک رسائی کے بنیادی حق کو متاثر کرتا ہے۔‘‘ پلیٹ فارم کے مطابق، اس کی صحافتی توجہ محروم طبقات، ناانصافی کا سامنا کرنے والے گروہوں، انسانی حقوق اور عوامی مفاد سے متعلق مسائل پر رہی ہے۔ ایڈیٹوریل ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد حقائق کو عوام کے سامنے لانا، اقتدار میں موجود افراد سے سوال کرنا اور ان آوازوں کو جگہ دینا ہے جنہیں مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں محدود نمائندگی ملتی ہے۔ جرنو مرر نے پابندی کے باوجود اپنی صحافتی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ دستیاب دیگر ذرائع اور پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے قارئین اور ناظرین تک خبریں پہنچاتا رہے گا۔
پابندی کی مخصوص قانونی بنیاد اب تک واضح نہیں
اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ انسٹاگرام اکاؤنٹ کو کس مخصوص قانونی اختیار کے تحت محدود کیا گیا۔ جرنو مرر کے بیان کے مطابق، پلیٹ فارم پر ظاہر ہونے والے نوٹس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قواعد کا عمومی حوالہ موجود ہے، لیکن اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پابندی کس اتھارٹی کی درخواست پر لگائی گئی، اس کی مخصوص قانونی بنیاد کیا ہے یا اس کا دائرۂ کار کیا ہے۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اکاؤنٹ کسی خاص قانونی دفعہ کے تحت یا صرف احتجاج کی کوریج کی وجہ سے بند کیا گیا۔ پابندی کی اصل وجہ کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکم نامے، سرکاری وضاحت یا پلیٹ فارم کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے دوران صحافیوں کو حراست میں لیے جانے اور ان کے کام میں رکاوٹوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ۱۲؍ اکتوبر کی رپورٹ میں احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ پولیس کے رویے اور ان کی حراست پر تشویش کا ذکر کیا گیا۔ دوسری جانب، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ۸؍ اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو گمراہ کن، پرانی یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی معلومات اور عوامی نظم و ضبط کو متاثر کرنے والے مواد کے بارے میں زیادہ احتیاط برتنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جرنو مرر کے اکاؤنٹ پر کارروائی اسی ہدایت کے نتیجے میں ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: یوگی کی تقریر پر کارروائی کا مطالبہ کرنے والے سابق صحافی پرویز پرواز کا انتقال
متبادل ذرائع سے صحافت جاری رکھنے کا اعلان
جرنو مرر نے کہا ہے کہ انسٹاگرام اکاؤنٹ محدود ہونے کے باوجود وہ عوامی مفاد کی صحافت سے وابستگی برقرار رکھے گا۔ ایڈیٹوریل ٹیم کے مطابق، وہ دیگر دستیاب پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے ناظرین تک خبریں پہنچانے کی کوشش جاری رکھے گی۔ پلیٹ فارم نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہمارے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی کے باوجود، ہم اپنے صحافتی کام کو جاری رکھنے اور دستیاب دیگر تمام پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے قارئین اور ناظرین تک خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ اس معاملے میں اب تک سامنے آنے والی معلومات جرنو مرر کے بیان اور انسٹاگرام پر دکھائے گئے نوٹس پر مبنی ہیں۔ اکاؤنٹ کو محدود کرنے کے حکم نامے، متعلقہ سرکاری اتھارٹی اور پابندی کی مخصوص قانونی بنیاد کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کارروائی کے پس منظر کی مکمل وضاحت ممکن ہوگی۔