Updated: October 13, 2026, 6:02 PM IST
| Bengaluru
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریناک کھڑگے نے ایس آئی آر مخالف مظاہرین پر پولیس کارروائی کےجائزہ کا حکم دے دیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہو رہے مظاہروں کے دوران بنگلورو میں بھی گزشتہ دنوں ایک احتجاج منعقد ہوا ۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ اس احتجاج میں پولیس نے غیر قانونی طور لوگوں کو حراست میں لیا خواتین اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی ، اس سے متعلق کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ مظاہرین نے پولیس کے اس اقدام پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کی کانگریس حکومت پر سوال اٹھائے تھے۔
بنگلورو احتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریناک کھرگے نے مظاہرین اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور پولیس کے مبینہ تشدد پر عوام کے شدید غصے کے بعد بنگلورو پولیس کے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کا حق ’’احترام اور تحفظ کا مستحق ہے اور اسے کبھی دبایا نہیں جانا چاہئے۔‘‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں پریناک کھرگے نے لکھا، ’’بنگلورو پولیس کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ کئے گئے سلوک کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے دہرایا کہ پرامن احتجاج جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور حکومت کی ذمہ داری صرف امن و امان برقرار رکھنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ شہری بغیر کسی خوف کے اپنے اختلافِ رائے کا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’پولیس آپ کے حقوق کی حفاظت کیلئے ہے، آپ کی آواز کو دبانے کیلئے نہیں۔ جمہوریت میں پرامن اختلاف امن و امان کیلئے خطرہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا حق ہے جس کی حفاظت کرنا قانون کا فرض ہے۔‘‘ انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ پرامن مظاہروں میں خلل نہ ڈالیں، جبکہ مظاہرین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور پیشگی اطلاع دیں۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا
واضح رہے کہ پیر کو بنگلورو پولیس نے ایس آئی آر کی مخالفت کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے کیلئے کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر کے قریب جمع ہونے والے تقریباً ۵۰؍ سے ۶۰؍ مظاہرین کو حراست میں لے لیا تھا۔ کئی مظاہرین نے الزام لگایا کہ پولیس نے بے جا طاقت کا استعمال کیا، خواتین کو بالوں سے گھسیٹا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ مظاہرے کی کوریج کرنے والے صحافیوں نے بھی ہاتھاپائی کا الزام لگایا، جبکہ وائرل ویڈیوز میں سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کو ایک فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ بدسلوکی کرتے اور اس کے کیمرے اور دیگر لوازمات کو چھینتے ہوئے دیکھا گیا۔آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا) کرناٹک نے اس پولیس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری حق کو غیر قانونی طور پر دبانا قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت بی جے پی سے کیسے مختلف ہے؟ ایک پریس ریلیز میں آئیسا نے بتایا کہ بائیں بازو کی طلباء تنظیموں بشمول آئیسا، ایس ایف آئی ، ایڈسو اور اے آئی ایس ایف کی جانب سے بلائی گئی احتجاجی ریلی کیلئے بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی اور راستے بند کر دئیے گئے تھے تاکہ مظاہرین کو اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔
آئیسا کے مطابق، تناؤ اس وقت بڑھا جب پولیس نے مظاہرین کو مارچ شروع کرنے سے پہلے ہی حراست میں لینا شروع کر دیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ کرناٹک حکومت فوری طور پر گرفتاریاں روکے، حراست میں لئے گئے افراد کو رہا کرے اور پرامن مظاہرے کی اجازت دے۔ اس نے فریڈم پارک کے پچھلے پانچ سالوں سے بند حصوں کو کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمارکیخلاف احتجاج عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں، نوجوانوں کی مزاحمت نمایاں
دوسری جانب، بنگلورو کے پولیس کمشنر بی دَیانند نے کہا کہ جو مظاہرین بغیر کسی پیشگی اجازت کے کے آر سرکل کے قریب جمع ہوئے تھے، انہیں فریڈم پارک منتقل ہونے کیلئے کہا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے انکار کے بعد انہیں احتیاطی حراست میں لیا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیااور پولیس نے ’’مکمل ضبط اور حساسیت‘‘ کے ساتھ کام کیا۔اہم بات یہ ہے کہ دہلی میں اے آئی سی سی کے تحت ایس آئی آر کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے بعد کرناٹک کے نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ووٹر لسٹوں سے اقلیتوں اور غریبوں کے نام غیر قانونی طور پر کاٹ کر انہیں ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی مبینہ کوششوں کی تحقیقات جاری رکھے گی۔