Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں انرجی ڈرنکس پر سختی، پیپسی، ریڈ بُل اور مونسٹر کو اس کالیبل ہٹانے کا حکم

Updated: July 28, 2026, 4:03 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے فوڈ سیفٹی ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) نے پیپسی، ریڈ بُل، مونسٹر، ریلائنس اور دیگر کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی زیادہ کیفین والی مصنوعات پرانرجی ڈرنک (Energy Drink) یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کا استعمال بند کریں۔

Energy Drink.Photo:INN
انرجی ڈرنک۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کے فوڈ سیفٹی ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی) نے پیپسی، ریڈ بُل، مونسٹر، ریلائنس اور دیگر کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی زیادہ کیفین والی مصنوعات پرانرجی ڈرنک (Energy Drink) یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کا استعمال بند کریں۔ کمپنیوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ۹۰؍ دن  کی مہلت دی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’اداکار وہی کامیاب ہوتا ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے‘‘


ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ’انرجی ڈرنک‘ کے لیے کوئی واضح قومی معیار موجود نہیں، اس لیے ایسی لیبلنگ صارفین کو گمراہ کر سکتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام صارفین کے تحفظ اور درست معلومات کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مشروبات تیار کرنے والی کمپنیوں نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انرجی ڈرنک‘ ان کے برانڈ کی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اچانک تبدیلی سے صارفین میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے اور کاروبار متاثر ہوگا۔ تاہم ایف ایس ایس اے آئی  نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا ہے  جبکہ کمپنیاں قانونی چارہ جوئی پر بھی غور کر سکتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’سدارمیا کا انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ حتمی ہے‘‘


یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان میں انرجی ڈرنکس کی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور آئندہ چند برسوں میں اس کے نمایاں وسعت اختیار کرنے کی توقع ہے۔  ’’انرجی ڈرنکس‘‘ کے نام سے زیادہ کیفین والے مشروبات بنا کر بیچنے  والی کمپنیوں کونوٹس دینے کے بعد کھانے پینے کی اشیاء کو منضبط کرنےوالے مرکزی ادارہ’ ایف ایس ایس  اے آئی‘ کسی نرمی کے امکان کو خارج کیا ہے۔ مذکورہ مشروبات بنانےوالی کمپنیوں کو ہدایت  دی گئی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات پر’’انرجی ڈرنک‘‘ یا اس کا تاثر دینےوالے الفاظ کا استعمال بند کریں۔ حکومت نے  انرجی ڈرنک کے نام پر  تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں ریگولیٹری مداخلت کو روکنے کی صنعتی کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انرجی ڈرنکس کی مارکیٹ ہندوستان میں ۲۸ء تک ۱ء۶؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انڈین فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی (ایف ایس ایس اے آئی)   نے کمپنیوں کو نوٹس جاری کیا ہے کہ ہندوستان میں ’انرجی ڈرنک‘ کیلئے قانون میں  کوئی  معیار موجود نہیں ہے اس  لئے یہ دعویٰ کہ کوئی مشروب ’’جسم اور دماغ کو توانائی بخشتا ہے‘‘ یا’’عمومی کمزوری میں مددگار ثابت ہوتا ہے‘‘، گمراہ کن ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK