Updated: July 28, 2026, 5:18 PM IST
| New Delhi
بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ اور بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج اور اس سے وابستہ وائرل ویڈیوز پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جین زی کی احتجاجی ریلز دیکھ کر انہیں ’’قے آنے‘‘ کا احساس ہوا اور کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ’’ایک ہی جگہ اتنی بدصورتی کبھی نہیں دیکھی۔‘‘
بالی ووڈ اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے حال ہی میں ختم ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی طلبہ تحریک اور اس سے وابستہ وائرل سوشل میڈیا ویڈیوز پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جین زی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بیانات نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر نئی سیاسی اور سماجی بحث چھیڑ دی ہے۔ کنگنا رناوت نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں لکھا کہ احتجاج سے متعلق وائرل ویڈیوز دیکھنے کے بعد وہ شدید ذہنی کوفت محسوس کر رہی ہیں اور انہیں ’’ڈجیٹل ڈیٹاکس‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایک ہی جگہ اتنی بدصورتی نہیں دیکھی۔ جین زی کے احتجاج کی یہ ریلز قے دلانے والی ہیں۔ جس انداز میں یہ لوگ بات کرتے ہیں، جس زبان کا استعمال کرتے ہیں، ہر فریم میں اتنی بھونڈاپن اور بدذوقی ہے کہ دیکھ کر طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ ’’آخر انہیں جنم کون دے رہا ہے اور ان کی پرورش کون کر رہا ہے؟ بھارت خوبصورت، مہذب اور تہذیب یافتہ لوگوں کا ملک ہے۔ تم خود کو کاکروچ کہتے ہو اور تمہارا رویہ بھی ویسا ہی ہے۔‘‘کنگنا نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ ان ویڈیوز نے انہیں اس قدر متاثر کیا ہے کہ انہیں ’’شفا‘‘ اور ڈجیٹل ڈیٹاکس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے احتجاجی مواد کو ’’گندگی، کچرا اور بدصورتی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان مناظر کو دیکھ کر ’’ذہنی طور پر بیمار‘‘ محسوس کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی مظاہرین: سپریم کورٹ کا تمام ریاستوں کو کارروائی پر روک لگانے کا حکم
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب CJP کی قیادت میں ہونے والی طلبہ تحریک نے حالیہ ہفتوں میں ملک گیر توجہ حاصل کی۔ احتجاج کا آغاز امتحانی نظام میں اصلاحات اور مبینہ NEET امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ہوا تھا۔ طویل احتجاج، ’’چلو سنسد‘‘ مارچ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد مرکزی حکومت نے بعض مطالبات تسلیم کیے، جبکہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ بھی دے دیا، جس کے بعد تنظیم نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ کنگنا کے بیانات پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے احتجاج میں استعمال ہونے والی زبان اور انداز پر اعتراض کیا، جبکہ متعدد افراد نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مطالبات اور احتجاج کو اس طرح کے الفاظ میں مسترد کرنا مناسب نہیں۔ کئی ناقدین نے یہ بھی کہا کہ کنگنا نے پورے احتجاج کو چند وائرل کلپس کی بنیاد پر جانچا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کون ہیں محمد عرفان جن سے ملنے راہل گاندھی اُن کی جھوپڑی میں گئے
یہ پہلا موقع نہیں جب کنگنا رناوت کے سیاسی یا سماجی بیانات نے تنازع پیدا کیا ہو۔ بطور بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ وہ ماضی میں بھی مختلف قومی معاملات پر اپنے دوٹوک اور متنازع بیانات کے باعث خبروں میں رہ چکی ہیں۔ تاہم اس بار ان کی تنقید براہِ راست جین زی اور CJP تحریک کے اندازِ احتجاج پر مرکوز رہی، جس نے ایک مرتبہ پھر نوجوانوں کی سیاسی سرگرمی، احتجاجی ثقافت اور اظہارِ رائے کے طریقوں پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔