ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی اور ہندوستان و یورپی آزاد تجارتی انجمن(ای ایف ٹی اے) کے درمیان تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹی ای پی اے) ناروے کے سرمایہ کاروں کے لیے نئے اور اہم مواقع پیدا کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi
ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی اور ہندوستان و یورپی آزاد تجارتی انجمن(ای ایف ٹی اے) کے درمیان تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹی ای پی اے) ناروے کے سرمایہ کاروں کے لیے نئے اور اہم مواقع پیدا کر رہا ہے۔
ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی اور ہندوستان و یورپی آزاد تجارتی انجمن(ای ایف ٹی اے) (EFTA) کے درمیان تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹی ای پی اے)(TEPA) ناروے کے سرمایہ کاروں کے لیے نئے اور اہم مواقع پیدا کر رہا ہے۔ صنعتوں سے وابستہ ماہرین کے مطابق، اس معاہدے کے نتیجے میں ہندوستان میں صنعت کاری، قابلِ تجدید توانائی، بنیادی ڈھانچے، مالیاتی خدمات اور ڈجیٹل معیشت سمیت کئی اہم شعبوں میں ناروے کی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار نے کہا :عدلیہ نے بری کردیا، تنوشری کا معاملہ ختم ہوچکا ہے
ای وائی انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی ) میں ۲۰۳۰ءتک اوسطاً ۵ء۶؍فیصد سالانہ ترقی برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ یہ توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ دہائی کے اختتام تک ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط ملکی طلب، سرمایہ کاری میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی اور کاروبار کو آسان بنانے کے لیے کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے اہم محرک ہیں۔
ہندوستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدہ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ العمل ہے اور اسے ہندوستان و ناروے کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا، سرمایہ کاری کے بہاؤ کو آسان بنانا اور اختراع، پائیدار ترقی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کے تحت ۱۵؍ برسوں میں ۱۰۰؍ ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے عزم کو بھی اہمیت حاصل ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں ہندوستان میں ۱۰؍ لاکھ براہِ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس اقدام سے ہندوستان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور عالمی سپلائی چین میں اس کی پوزیشن مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ترشا جولی-گایتری گوپی چند اور تنوی کی شکست ، ڈنمارک میں ہندوستانی چیلنج ختم
صنعتی ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ ناروے کی جدید تکنیکی مہارت، پائیدار ترقی پر توجہ اور سرمایہ پر مبنی صنعتوں کے تجربے کو ہندوستان کی وسیع صارف منڈی اور ترقیاتی امکانات سے جوڑنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے جن نمایاں شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں صنعت کاری، قابلِ تجدید توانائی، تیل و گیس، بحری خدمات، سمندری خوراک کی تیاری و پراسیسنگ، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات شامل ہیں۔ معاہدے کے تحت بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعاون سے ان شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کا امکان ہے۔
ہندوستان کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈجیٹل معیشت اور ڈجیٹل ادائیگیوں کا نظام بھی ناروے کی کمپنیوں کے لیے کشش کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے ذریعے ناروے کے کاروباری اداروں کو دنیا کی بڑی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صارف منڈیوں میں سے ایک تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ہندوستان کی جانب سے کیے جانے والے پالیسی اقدامات بھی طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول تیار کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پرہندوستان۔ای ایف ٹی اے معاہدے سے ہندوستان اور ناروے کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہونے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور صنعت کاری، سبز توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات میں تعاون بڑھنے کی امید ہے۔