انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل انڈیا نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باوجود، انجینئرنگ کی برآمدات میں سالانہ کی بنیاد پر ۴۸ء۲۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 8:06 PM IST | New Delhi
انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل انڈیا نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باوجود، انجینئرنگ کی برآمدات میں سالانہ کی بنیاد پر ۴۸ء۲۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔
ہندوستان کی انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات مئی میں پہلی بار ۱۲؍ بلین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ انجینئرنگ ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ای ای پی سی ) (EEPC) انڈیا نے جمعہ کو کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باوجود، انجینئرنگ کی برآمدات میں سالانہ کی بنیاد پر ۴۸ء۲۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:سنی دیول اور اکشے کھنہ کا ’اکّا‘ میں ایک ساتھ آنا، واقعی خدا کا منصوبہ ہے: سِدھارتھ
حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مئی ۲۰۲۶ء میں انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات ۳۱ء۱۲؍ بلین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی مہینے میں ۸۹ء۹؍ بلین ڈالر تھی۔ ای ای پی سی انڈیا نے رپورٹ کیا کہ مئی میں ہندوستان کی کل تجارتی اشیاء کی برآمدات میں انجینئرنگ سیکٹر کا حصہ ۲ء۲۷؍فیصد تھا۔
برآمدات کی یہ مضبوط کارکردگی بنیادی طور پر برقی مشینری اور آلات، بحری جہازوں اور تیرتے ڈھانچے، موٹر گاڑیاں اور لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے سے کارفرما تھی۔ مئی میں انجینئرنگ مصنوعات کی ۳۴؍ میں سے۲۸؍ کیٹیگریز کی برآمدات میں مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ای ای پی سی انڈیا کے چیئرمین پنکج چڈھا نے کہا کہ عالمی کمپنیاں اب کسی ایک ملک بالخصوص چین پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو کم کرنے کے لیے اپنی سپلائی چین کو دوبارہ منظم کر رہی ہیں۔ اس سے ہندوستانی انجینئرنگ کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سمت میں فوری پالیسی ریلیف، سستی تجارتی مالیات، اور بہتر خطرات سے تحفظ کی صورت میں وزارت تجارت کی مدد بہت اہم ہوگی۔ چڈھا نے کہا کہ حکومت کی مناسب رہنمائی کے ساتھ، ہندوستان ۲۰۳۰ء تک ۲۵۰؍ بلین ڈالر کا انجینئرنگ برآمدی ہدف حاصل کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ : پیپے نے ٹیم ورک کو کامیابی کا راز قرار دیا
علاقائی اعداد و شمار کے مطابق، شمالی امریکہ مئی میں ہندوستانی انجینئرنگ مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی تھی، جو کل برآمدات کا ۳ء۱۹؍ فیصد تھی۔ اس کے بعد مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کا حصہ ۷ء۱۶؍ فیصد اور یورپی یونین کا حصہ ۲ء۱۵؍ فیصد رہا۔ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے خطے میں جغرافیائی سیاسی بحران کے باوجود، مئی میں ہندوستان کی انجینئرنگ برآمدات میں تقریباً ۴۴؍ فیصد اضافہ ہوا جبکہ اپریل تا مئی کے دوران اس خطے کی برآمدات میں ۱۴؍ فیصد اضافہ ہوا۔