Updated: October 22, 2026, 3:57 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے دوران کاروبار شروع کرنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ۔ ۲۲؍ فیصد نوجوان کاروباری سفر کا آغاز کرچکے ہیں اور ان میں سے ۵ء۳۵؍ فیصد کو باقاعدہ فروخت سے آمدنی حاصل ہورہی ہے؛ خواتین کی دلچسپی مردوں کے قریب، مگر کاروبار شروع کرنے میں فرق برقرار، کاروباری رہنمائی اور پہلے گاہک تک رسائی کو اہم چیلنج قرار دیا گیا۔
ہندوستان کے کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کے لیے کاروبار اب محض ڈگری مکمل کرنے کے بعد اختیار کیا جانے والا راستہ نہیں رہا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) منڈی کی قیادت میں کیے گئے ایک قومی سروے کے مطابق، ہندوستان کے ہر ۵؍ میں سے ایک کالج طالب علم کاروبار شروع کرچکا ہے، جب کہ ۴۳؍ فیصد طلبہ مستقبل میں اپنا کاروبار قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نتائج GUESSS India 2025 National Survey Report میں سامنے آئے ہیں، جو ۱۵؍ اکتوبر کو جاری کی گئی۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں کاروباری خواہش عالمی رجحان کے مطابق ہے اور ان میں سے ایک قابلِ ذکر تعداد اپنے منصوبوں کو عملی شکل بھی دے رہی ہے۔ اس تحقیق میں ستمبر سے دسمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان ۳۴؍ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ۱۲۰۰؍ سے زائد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ۲۵۷۸۳؍ طلبہ سے معلومات حاصل کی گئیں۔ یہ مطالعہ آئی آئی ٹی منڈی، بنگلورو کی ریوا یونیورسٹی اور گلوبل یونیورسٹی انٹرپرینیورئیل اسپرٹ اسٹوڈنٹس سروے (GUESSS) کے ہندوستانی شعبے کے اشتراک سے کیا گیا۔ عالمی سطح پر اس سروے میں ۶۶؍ ممالک کے طلبہ شامل تھے۔ ہندوستان کے ۲۲؍ فیصد طلبہ کاروبار شروع کرچکے ہیں، جب کہ عالمی اوسط ۲۳؍ فیصد ہے۔ اسی طرح ۴۳؍ فیصد ہندوستانی طلبہ نے کاروبار قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی، جو عالمی اوسط کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، ہندوستانی سفارتخانے کی شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت
رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کاروبار شروع کرنے اور اس سے باقاعدہ آمدنی حاصل کرنے کے درمیان فرق بھی نمایاں ہے۔ کاروبار شروع کرنے والے ہندوستانی طلبہ میں سے ۵ء۳۵؍ فیصد نے بتایا کہ ان کے کاروبار سے باقاعدہ فروخت ہورہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب تقریباً ۳۳؍ فیصد ہے۔ مزید یہ کہ باقاعدہ فروخت کرنے والے طالب علم کاروباروں میں سے ۳۱؍ فیصد صرف ۲۰۲۵ء میں قائم ہوئے، جب کہ عالمی سطح پر اسی زمرے میں نئے کاروباروں کا تناسب ۱۸؍ فیصد تھا۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ نوجوان اپنے تعلیمی سفر کے دوران ہی کاروباری منصوبوں کو آمدنی پیدا کرنے والے اداروں میں تبدیل کررہے ہیں۔ طلبہ کی مستقبل کی ملازمت سے متعلق ترجیحات میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ۲۰۲۳ء کے سروے میں ۱۴؍ فیصد طلبہ نے تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد اپنا کاروبار چلانے کو ترجیح دی تھی، جو ۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۲ء۱۶؍ فیصد ہوگئی۔ اس کے برعکس، سرکاری ملازمت کو ترجیح دینے والے طلبہ کا تناسب ۷ء۱۲؍ فیصد سے گھٹ کر ۱ء۱۰؍ فیصد رہ گیا، جبکہ کسی بڑی کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کی تعداد ۳ء۳۱؍ فیصد سے کم ہوکر ۴ء۲۷؍ فیصد ہوگئی۔ یہ اعداد ملازمت کے روایتی راستوں سے مکمل طور پر دوری ثابت نہیں کرتے، تاہم کاروبار کو کیریئر کے ایک اہم متبادل کے طور پر دیکھنے کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کاروباری سفر میں ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا پہلو بھی تحقیق میں نمایاں ہوا۔ باقاعدہ فروخت کرنے والے کاروباروں کے طالب علم بانیوں میں سے ۴۱؍ فیصد نے پہلے کسی کاروبار کو بند کرنے کے بعد نیا کاروبار شروع کیا تھا۔ عالمی سطح پر یہ شرح ۳۳؍ فیصد تھی۔ اسی طرح، ہندوستان میں اس زمرے کے ۴۲؍ فیصد طلبہ ایک سے زیادہ کاروبار چلا رہے تھے، جبکہ عالمی اوسط ۲۵؍ فیصد تھی۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بعض نوجوان ایک کاروبار کی ناکامی کو آخری مرحلہ سمجھنے کے بجائے نئے منصوبے شروع کرنے کا تجربہ حاصل کررہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل خدمات طلبہ کے کاروباری منصوبوں میں سب سے زیادہ مقبول شعبے ہیں، لیکن حقیقت میں ڈجیٹل کاروبار چلانے والے طلبہ کا تناسب تقریباً ۱۰؍ فیصد ہے۔ اس فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی شعبے میں دلچسپی اور اس شعبے میں عملی کاروبار قائم کرنے کے درمیان اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ دوسری جانب، رپورٹ کے مطابق زراعت، ماہی گیری اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں کام کرنے والے طالب علم کاروبار بھی فروخت اور آمدنی کے مرحلے تک پہنچ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ کی کاروباری سرگرمیاں صرف ٹیکنالوجی یا ایپ پر مبنی اسٹارٹ اَپس تک محدود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حوثی حملے، امریکہ کا سفارتی عملے اور اہلِ خانہ کو سعودی عربیہ چھوڑنے کا حکم
کاروباری رہنمائی اور تجربہ کار افراد سے رابطہ بھی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سروے میں ایسے طلبہ جن کے رشتہ داروں، دوستوں، ہم جماعتوں یا اساتذہ میں کوئی کاروباری شخص موجود تھا، ان کے کاروبار شروع کرنے کا امکان ایسے طلبہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پایا گیا جن کے حلقۂ احباب میں کوئی کاروباری شخص نہیں تھا۔ اس کے باوجود تقریباً نصف ہندوستانی طلبہ نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کے علاوہ کسی کاروباری شخص کو نہیں جانتے۔ کاروبار شروع کرنے کی کوشش کرنے والے طلبہ میں سے صرف ۱۰؍ فیصد اپنی پہلی فروخت کرچکے تھے، جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب ۲۳؍ فیصد تھا۔ اسی طرح ۸؍ فیصد نے اپنا اسٹارٹ اَپ رجسٹر کرایا تھا، جبکہ عالمی اوسط ۱۵؍ فیصد تھی۔ خواتین اور مردوں کے درمیان بھی ایک فرق سامنے آیا ہے۔ خواتین نے کاروبار شروع کرنے میں تقریباً مردوں کے برابر دلچسپی ظاہر کی، لیکن کاروباری سفر کے عملی مرحلے میں خواتین کی نمائندگی کم رہی۔ سروے میں خواتین کل شرکا کا ۴۲؍ فیصد تھیں، مگر طالب علم کاروباری افراد میں ان کا حصہ ۳۴؍ فیصد تھا۔ کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند طلبہ میں سے ۴۵؍ فیصد خواتین نے عملی قدم اٹھایا، جبکہ مردوں میں یہ تناسب ۵۳؍ فیصد تھا۔ رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹیوں میں کاروباری تربیت، تجربہ کار بانیوں سے رابطے، انکیوبیشن پروگراموں اور پہلے گاہک تک رسائی کے مواقع کو بہتر بناکر اس فرق کو کم کیا جاسکتا ہے۔
آئی آئی ٹی منڈی کے اسوسی ایٹ پروفیسر اور GUESSS India کے کنٹری ڈیلیگیٹ ڈاکٹر پورن سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی طلبہ کاروبار شروع کرنے کے معاملے میں دنیا کے دوسرے نوجوانوں جتنے پُرعزم ہیں اور جو نوجوان عملی قدم اٹھاتے ہیں، ان میں سے بعض حقیقی کاروبار قائم کرکے لوگوں کو روزگار بھی فراہم کررہے ہیں۔ ان کے مطابق، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو کاروباری افراد سے رابطے، پہلے گاہک تک رسائی اور کاروبار کے ابتدائی مراحل میں مدد فراہم کی جائے، تاکہ صرف کاروبار شروع کرنے کی خواہش نہیں بلکہ اس خواہش کو عملی شکل دینے کی صلاحیت بھی بڑھ سکے۔ رپورٹ نے یونیورسٹیوں، انکیوبیٹروں اور حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کاروباری منصوبوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ پہلی فروخت، کاروبار کی رجسٹریشن اور ابتدائی نمونوں کی تیاری جیسے عملی نتائج پر بھی توجہ دیں۔