ہندوستان سونا ’ری سائیکلنگ‘ کرنے والا چوتھا بڑا ملک

Updated: June 24, 2022, 10:56 AM IST | Agency | New Delhi

ڈبلیو جی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ء میں ہندوستان نے دنیا میں سونے کی کل ری سائیکلنگ کا ۶ء۵؍ فیصد یا ۷۵؍ ٹن سونا ’ری سائیکل ‘کیا ۔ پچھلے ۵؍ سال سے ملک میں سونے کی مجموعی سپلائی میں ری سائیکل سونے کا حصہ ۱۱؍ فیصد ہے

In India, the work of melting old gold into new jewelry is done on a large scale.Picture:INN
ہندوستان میں پرانے سونے کو پگھلاکر نئے زیورات میں ڈھالنے کا کام بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

 ہندوستان سونے کی ری سائیکلنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے ۔ ڈبلیو جی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۱ء میں ہندوستان نے دنیا میں سونے کی کل ری سائیکلنگ کا ۶ء۵؍ فیصد یا ۷۵؍ ٹن سونا  ری سائیکل کیا ہے ۔  اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے ۵؍ سال سے ہندوستان میں سونے کی مجموعی سپلائی میں  ۱۱؍ فیصد پرانے سونے کا حصہ ہے ۔ جو سونے کی قیمت ، مستقبل میں سونے کے دام کی امید اور وسیع معاشی منظرنامے سے بڑھا  ہے۔ سونے کی ری سائیکلنگ (زیورات، اسکریپ  اور اینڈ آف لائف انڈسٹریل اسکریپ) اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، موجودہ اور مستقبل کی امیدوں اور معاشی صورتحال کے مطابق طے ہوتی ہے ۔ 
ری سائیکلنگ کی اہم وجوہات یہ ہیں
 ڈبلیو جی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’جب سونے کی قیمت میں اچھال آتا ہے، لوگ اپنے پاس موجود سونے کو فروخت کرتے ہیں۔ یا تو وہ قیمتوں میں اضافہ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں یا سونے کے نئے زیورات پر خرچ کرنے سے بچتے ہیں۔ میٹل فوکس فنڈ کی تحقیق کے مطابق جب سونے کی قیمت بڑھتی ہے تب پرانے زیورات بدلنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے  اور جب معیشت پر دباؤ ہوتا ہے ، جیسا کووڈ ۱۹؍ کے دوران دیکھا گیا ، روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے سونا بیچاجاتا ہے۔‘‘
 سونے کی قیمت میں ایک فیصد کا اضافہ بھی ہوتا ہے تو ری سائیکلنگ ۰ء۶؍ فیصد بڑھ جاتی ہے۔ وہیں جب جی ڈی پی میں نمو ہوتی ہے تواس سال اور اس کے پہلے کے سال میں ہوئی تو ری سائیکلنگ میں ۰ء۳؍ فیصد اور ۰ء۶؍ فیصد کی کمائی ہوئی۔ ڈبلیوجی سی نے کہا کہ ’’ اس کے ساتھ ہی اگر زیورات کی مانگ ایک فیصد بڑھتی ہے تو اس سے ری سائیکلنگ ۰ء۱؍ فیصد کم ہوجاتی ہے۔‘‘کئی سال سے ہندوستان کی سونے کی ریفائننگ کی استعداد میں قابل ذکر اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ یہ ۲۰۱۳ء میں جہاں ۳۰۰؍ ٹن تھا، ۲۰۲۱ء میں بڑھ کر ۱۸۰۰؍ ٹن ہوگیا ہے ۔ ڈبلیو جی سی نے کہا کہ ’’اگست ۲۰۱۳ء سے جنوری ۲۰۱۶ء کے درمیان گولڈ بُلیئن پر چارج ۱۰؍فیصد تھا ۔ جس میں چارج فرق ایک سے ۲؍ فیصد تھا، جو زون پر منحصر تھا۔ ۲۰۱۶ء کے بجٹ کے بعد پروڈکشن چارج فری(ای ایف زیڈ) سیکٹر اور ڈی ٹی اے کی ریفائنریز کے لئے گولڈ ڈور امپورٹ پر چارج بالترتیب ۸ءٔ۵؍فیصد اور ۹ء۳۵؍ فیصد ہوگیا۔ وہیں بُلیئن پر لمٹ چارج ۱۰؍ فیصد برقرار رکھا گیا۔ اس سے ریفائنریز کے لئے فرق کم ہوکر ۰ء۶۵؍ فیصد اور ۱ء۲۵؍فیصد ہوگیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK